محرم الحرام جامع سکیورٹی پلان تشکیل دینے کیلئے انتظامات مکمل

محرم الحرام جامع سکیورٹی پلان تشکیل دینے کیلئے انتظامات مکمل

پشاور( کرائمز رپورٹر)صوبائی دارلحکومت پشاور میں محرم الحرام کے موقع پرامن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے فوری نمٹنے اورجامع سکیورٹی پلان تشکیل دینے کیلئے انتظامات ٗ متحدہ امن کمیٹی پشاور سے تعلق رکھنے والے رہنماء ،مکاتب فکر،اہلسنت و جماعت رہنماء، علماء کرام اور تاجروں کو اعتماد میں لینے کیلئے اجلاسوں کا آغاز کردیاگیا ہے علماء کرام اور تاجروں نے محرم الحرام میں امن وامان کی صورتحال برقراررکھنے،پولیس کیساتھ مکمل تعاؤن اور جامع سکیورٹی پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے ساتھ ساتھ سکیورٹی اداوں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روزملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں محر م الحرام کے سلسلے میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے چیف کیپٹل سٹی پولیس آفیسر پشاورمحمد طاہر خان کی سربراہی میں متحدہ امن کمیٹی کے رہنماؤں ،علماء کرائم اور ممبران کے ساتھ میٹنگ منعقد ہوا جس میں ایس ایس پی آپریشنز پشاور عباس مجید خان مروت ،ایس پی کینٹ کاشف ذوالفقار ،ایس پی سٹی گل نواز خان ،ایس ڈی پی اوز ،ایس ایچ اوز ٗمتحدہ امن کمیٹی کے رہنماؤں اور ممبران نے شرکت کی اس موقع پر سی سی پی او کا کہناتھاکہ عشرہ محرم کا احترام کرنا کسی ایک فرقہ کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ پر فرض ہے ہم سب پاکستانی ہیں اور سب مل کر پشاور میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کرینگے صوبے اور بالخصوص پشاو ر میں قیام امن کیلئے پولیس افسران ٗ اہلکاروں اور تاجروں نے جو قربانیاں دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں سی سی پی او صاحب نے متحدہ امن کمیٹی کے کردار اور خد مات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہر سال محرم الحرام کے دوران پشاور میں امن کے قیام کیلئے اس سال بھی پولیس کیساتھ تعاؤن کرنا اور کردار اد ا کرنا چاہیئے انہوں نے کہا کہ محرم کے دوران ڈبل سواری،اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی جبکہ تمام ہوٹلوں ، ہاسٹلوں اور سرائیوں میں رہائش پزیرافراد کی مکمل ریکارڈ اور رجسٹریشن کیا جائیگا ایس ایس پی آپریشنز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میٹنگ کا مقصد آپس میں تعاؤن کرنااور سب مل کر پشاور کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیئے متحدہ امن کمیٹی کے کردار کا جتنا بھی ذکر کیا جائے کم ہے پشاور میں بہت سے فرقے ہیں سب کی اپس میں ہم اہنگی ہے محرم میں پہلے عشرہ کے دوران جلوسوں کے روٹس پر واقعہ دوکانوں ، ہوٹلوں اورسرائیوں کو بند کرنا ہوگااس میں متحدہ امن کمیٹی کا تعاؤن بے حد ضروری ہے دس دنوں کے دوران افغان مہاجرین کی شہر میں داخلے پر پابندی ہوگی ایس ایس پی اپریشنز نے کہا کہ سرائیوں اور ہوٹلز میں رہائش پذیر افراد کا ڈیٹا چیک کیا جائے اور رجسٹریشن کیا جائیگا جبکہ متعلقہ تھانہ سے رجسٹریشن نہ کرانے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائیگی ۔ بعد ازاں متحدہ امن کمیٹی کے رہنماؤں اور ممبران نے اپنے اپنے تجاویز پیش کرتے ہوئے پولیس کیساتھ ہر ممکن تعاؤن کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ہم نے ہر مشکل وقت میں پشاور پولیس کیساتھ ہر قسم کے تعاؤن سے دریغ نہیں کیا ہے متحدہ امن کمیٹی پشاور میں گلدستہ کی حیثت رکھتی ہے اور پشاور کے امن و امان قائم رکھنے میں بہتر کردار ادا کرتے ہیں۔۔ بعد ازاں ایس ایس پی آپریشنز عباس مجید خان مروت نے پشاور کے اہلسنت ولجماعت سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کے ساتھ میٹنگ کے دوران بات جیت کرتے ہوئے کہا کہ محرم کو پر امن طریقے سے گزرنے کیلئے آپس میں تعاون کرنا اور امن برقرار رکھنے کیلئے علماء کرام کا پولیس کے ساتھ تعاون کرنا اور امن کیلئے کردار ادا کرنا ضروری ہے جب تمام مسلمانوں کو آپس میں امن واتحاد اور بھائی چارے کے ساتھ رہنا چاہیے اس سے آپس میں اتفاق ہوگا اور کو ئی نا خوشگوار واقع رونما نہیں ہوگا انہوں نے کہاکہ لاؤڈ سپیکر پر اشتعال انگیز تقاریر نہیں کرنے چاہیے اشتعال انگیز بینر ز بازاروں میں آویزاں نہیں کرنے چاہیے اہل سنت والجماعت کے علماء کرام نے اپنی طرف سے پولیس افسران کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہم تمام محب وطن اور پرامن شہری ہے اور پشاور کی امن کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے ۔۔۔

مزید : پشاورصفحہ اول


loading...