پاکستان، افغانستان مابین پولیو خاتمہ کی مشترکہ کوششوں کے عزم کا اعادہ

پاکستان، افغانستان مابین پولیو خاتمہ کی مشترکہ کوششوں کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) اسلام آباد میں پاکستان افغانستان کے مابین پولیو کے ں خاتمے کی مشترکہ بین الا سرحدی کوششوں کو تیز کرنے کے حوالے سے گزشتہ روز اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ، پاکستانی وفد کی قیادت سنیٹر عائشہ رضا فاروق نے کی۔ جبکہ افغان وفد کی قیادت افغانستان کے فوکل پرسن برائے پولیو ہدایت اللہ ستانکزئی نے کی۔ اجلاس کا انعقاد حال ہی میں جنوبی پختونخواہ فاٹا کے کچھ علاقے اور جنوب مشرقی افغانستان میں رو نما ہونے والے کیسیز کے تناظر میں کیا گیا۔اس موقع پر پرائم منسٹر کی فوکل پرسن برائے پولیو سنیٹر عائشہ رضا فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پولیو کی رسائی بالخصوص ان علاقوں اور آبادیوں جو نقل مکانی کرتی ہیں بہتر بنانا ہو گا۔ ہمیں رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کے نظام کو بہتر کرنا ہو گا اور اس بات کویقینی بنانا ہو گا پولیو وائرس کی بین الاسرحدی ترسیل ممکن نہ ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پشاور خیبر ایجنسی کوئٹہ قلعہ عبداللہ اور پشین میں کمیونٹی ویکسینیٹر کے ذریعے 33 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ علاوہ ازیں شمالی سندھ میں موبائل ٹیم کے ایکشن پلان کا اجراء کیا گیا۔ اس کے علاوہ کراچی اور جنوبی خیبر پختونخواہ میں بھی اس ایکشن پلان کی مدد سے پروگرام کی کارکردگی بہتر بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مربوط اور فعال مانیٹرنگ ہی پولیو مہم کو کامیاب بنانے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس موقع پر افغانستان میں پولیو پروگرام کے قومی فوکل پرسن ہدایت اللہ ستانکزئی نے کہا کہ ہمیں اس سلسلے میں بین الاقوامی رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہو گا۔ جبکہ بین الاسرحدی رابطہ مضبوط کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں انہوں نے مختلف تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد کے روایتی راستوں پر ہر خاندان کی سکریننگ کی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں کی پولیو ٹیم کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ اس موقع پر رانا صفدر نیشنل کواڈینیٹر نے پولیو پروگرام کی مجموعی صورت حال کا جائزہ پیش کیا ۔ اور خصوصی طور پر افغانستان سے ملحقہ پاکستانی علاقوں میں پولیو کی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...