جعلی اور غیر قانونی دوائیں فروخت ہورہی ہیں ،ڈاکٹرسکندر میندھرو

جعلی اور غیر قانونی دوائیں فروخت ہورہی ہیں ،ڈاکٹرسکندر میندھرو

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ کے وزیر صحت ڈاکٹر سکندر علی میندھرو نے کہا ہے کہ میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ جعلی اور غیر قانونی دوائیں فروخت کی جا رہی ہیں ۔ اس کے تدارک کے لیے ڈرگز کنٹرول اتھارٹی اقدامات کر رہی ہے ۔ وہ بدھ کو سندھ اسمبلی میں محکمہ صحت سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان کے تحریری اور ضمنی سوالوں کے جوابات دے رہے تھے ۔ اس سوال پر کہ سندھ میں بعض اسپتالوں کو نجی اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود وہاں ڈاکٹرز موجود نہیں ہیں ، وزیر صحت نے کہا کہ میں اعتراف کرتا ہوں کہ آئیڈیل صورت حال نہیں ہے ۔ مگر ہم نے اسپتالوں کی صورت حال کو بہتر بنایا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرگ لائسنس کے اجراء پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ 12 نومبر 2012 ء کو سندھ ہائیکورٹ نے ڈرگ لائسنس کے اجراء پر حکم امتناع جاری کیا تھا ۔ 5 ستمبر 2013 ء کو یہ حکم امتناع ختم ہو گیا ہے ۔ کوئی بھی شخص ڈرگ لائسنس کے لیے درخواست دے سکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 2014 میں کسی بھی سرکاری اسپتال میں کوئی نوزائیدہ بچہ لاپتہ یا اغواء نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پرائمری ہیلتھ انیشئیٹو ( پی پی ایچ آئی ) سندھ حکومت کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں کام کر رہی ہے تاکہ حکومت کے دیہی مراکز صحت کے ذریعہ لوگوں کو طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں ۔ سندھ کے 22 اضلاع میں پی پی ایچ آئی کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں ۔ اس میں 5985 ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کے لوگ کام کر رہے یہن ۔ ان میں سے 3113 افراد کو پی پی آئی نے کنٹریکٹ پر بھرتی کیا ہے جبکہ 2872 اہلکاروں کا تعلق حکومت سندھ سے ہے ۔ وزیر صحت نے ایک ضمنی سوال پر بتایا کہ جعلی اور غیر قانونی دواؤں کی فروخت ہو رہی ہے ۔ اسے روکنے کے لیے ڈرگ کنٹرول اتھارٹی موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دوائیں مختلف نجی میڈیکل اسٹورز پر فروخت کرنے کی شکایات ملی تھی ۔ اس پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد میڈیکل اسٹورز بند کر وادیئے گئے ہیں ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...