یونیورسٹی طالبعلم نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر طالبہ کو گینگ ریپ کا نشانہ بناڈالا،حاملہ ہونے پر جڑواں بچے ضائع کرادیئے

یونیورسٹی طالبعلم نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر طالبہ کو گینگ ریپ کا نشانہ ...

لاہور(نیوز ڈیسک)لاہور کی ایک بڑی جامعہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر لاہور یونی ورسٹی کی ایک طالبہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناڈالا ،لڑکی کے حاملہ ہونے پر حمل گرادیا گیا ۔متاثرہ لڑکی انصاف کے حصول کیلئے عدالت پہنچ گئی۔ملزم نے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق لاہور یونی ورسٹی کے شعبہ انگریزکی ایک طالبہ نے مقدمہ دائر کیاہے کہ یونی ورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے ایک طالبعلم اشتیاق کے ساتھ اس کی دوستی ہوئی اور وہ دونوں10دسمبر 2015 میں پہلی بار ملے۔طالبہ کے بقول ملاقات کے دس دن بعدملزم اسے ٹھوکر نیاز بیگ پر واقع علی ہسپتال لے گیاجہاں اس نے اس کی ملاقات اپنے دو دوستوں ڈاکٹرریاضت حسین اورشبیر نامی شخص سے کرائی۔

طالبہ کے مطابق اس دوران اسے جوس کا ایک گلاس پیش کیا گیا جس میں کوئی نشہ آور شئے ملی ہوئی تھی،جوس پیتے ہی وہ بے ہوش گئی جبکہ اسی حالت میں اشتیاق نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے گینگ ریپ کا نشانہ بنا ڈالا۔طالبہ کا کہنا ہے کہ ملزموں کی زیادتی اس کے حاملہ ہونے کی وجہ بن گئی جس کی تصدیق 26فروری کو شوکت خانم ہسپتال میں کرائے گئے الٹراساﺅنڈ رپورٹ کے ٹیسٹ میں ہوئی۔

طالبہ کے بقول حمل ہونے کا پتہ چلنے پر اشتیاق نے اس سے شادی کا وعدہ کرلیا۔تین مارچ کو وہ دونوں اتفاق ہسپتال پہنچے جہاںپتہ چلاکہ وہ جڑواں بچوں کے ساتھ حاملہ ہے۔اس سب کا پتہ چلنے کے کچھ ہی دن بعد 12مارچ کو ملزم نے اپنے دوست ڈاکٹر ریاضت حسین کی مدد سے 16ہفتوں کے جڑواں بچوں کے اس حمل کو ضائع کرادیا۔

وہ وکیل جو خواتین کو ایسے طریقے سے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا تھا کہ انہیں اپنے ریپ کا پتہ ہی نہ چلتا تھا

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق متاثرہ خاتون کی درخواست پر لاہور کے چوہنگ پولیس سٹیشن میں دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔جس کے تحت زیادتی کرنے والے کو 10سال قید ہو سکتی ہے۔اگر دو یا دو سے زیادہ افرادریپ کیس میں مجرم ثابت ہوتے ہیں تو ہر شخص کو سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے۔دوسری جانب ا شتیاق کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کردی جس میں اس نے موقف اختیار کیا کہ اسے بلیک میل کرنے اور بدنام کرنے کیلئے اس کے خلاف کیس دائر کیا گیا ہے۔ملزم کا کہنا تھا کہ مذکورہ کیس پولیس کی ملی بھگت سے اس کے خلاف درج کیا گیا ہے جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں لہٰذا اس کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کیا جائے جس پر عدالت نے اسکی 22ستمبر تک کی ضمانت منظور کرتے ہوئے دلائل کی تاریخ مقرر کردی ہے۔

مزید : جرم و انصاف


loading...