انسان کی ’چھٹی حس‘ کے بارے میں ایسی سائنسی تحقیق کہ آپ دنگ رہ جائیں گے

انسان کی ’چھٹی حس‘ کے بارے میں ایسی سائنسی تحقیق کہ آپ دنگ رہ جائیں گے
انسان کی ’چھٹی حس‘ کے بارے میں ایسی سائنسی تحقیق کہ آپ دنگ رہ جائیں گے

  


لندن(نیوزڈیسک) انسان کے پانچ حواس ہیں جن کی وجہ سے وہ دیکھتا،سونگھتا،سنتا،بولتا اور محسوس کرتا ہے ۔ان تمام حواس کو ہم دیکھ سکتے ہیں لیکن ایک حس ایسی بھی ہے جو دکھائی نہیں دیتی لیکن پھر بھی ہم اسے وقتاًفوقتاًمحسوس کرتے رہتے ہیں۔اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ رہاہوتا اور ہمیں نہ جانتے ہوئے بھی اس بات کا احساس ہوجاتا ہے۔یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ماہر کلینیکل نیوروسائنس ڈاکٹر ہیریٹ جونز کاکہنا ہے کہ ہماری آنکھ میں ایسا نظام موجود ہے کہ ہم خودبخود اس انجانے شخص کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں ۔اس کاکہنا ہے کہ ہماری آنکھ کاسٹرکچر دیگر جانداروں سے مختلف ہے اور اعلیٰ ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں کو جلد علم ہوجاتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ہماری آنکھ میں موجود سفید جگہ دیگر جانداروں سے زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہماری آنکھ زیادہ فعال ہوتی ہے۔یہ ہماری آنکھ ہی ہوتی ہے جو ہمیں خبردار کرتی ہے کہ اردگرد ہونے والی تبدیلیوں کا بغور مشاہدہ کیاجائے۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمیں کوئی بھی نہیں دیکھ رہاہوتا لیکن ہمارا دماغ ہمیں یہ کہہ رہاہوتا ہے کہ ضرور کوئی ہمیں دیکھ رہاہے اور ایسی چیز کو واہمہ کا نام دیا جاتا ہے۔ماہرین نفسیات کاکہنا ہے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے اور اگر کچھ عجیب ہوجائے تو ہم شور کرنے لگتے ہیں کہ ہماری چھٹی حس نے ہمیں پہلے ہی بتادیا تھا اور اس بات کا خوب پرچار کرتے ہیں لیکن اگر کچھ عجیب بہ ہوتو ہم اسے نظر اندازکردیتے ہیں ۔ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ چھٹی حس (اگر کوئی ہے)تو اس میں آنکھ کے مشاہدے کا سب سے زیادہ کردارہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...