اب اگر یہ کام سعودی عرب میں کریں گے تو اتنی سخت سزا ملے گی کہ ہوش ٹھکانے آجائیں گے، مملکت میں نیا قانون لاگوہوگیا

اب اگر یہ کام سعودی عرب میں کریں گے تو اتنی سخت سزا ملے گی کہ ہوش ٹھکانے ...
اب اگر یہ کام سعودی عرب میں کریں گے تو اتنی سخت سزا ملے گی کہ ہوش ٹھکانے آجائیں گے، مملکت میں نیا قانون لاگوہوگیا

  


ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں مریض کی موت پر لواحقین کا ڈاکٹروں اور طبی عملے کو زدوکوب کرنا اس قدر عام ہو چکا ہے کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک ملک کے ہسپتالوں کا 67فیصد طبی عملہ لواحقین کے تشدد کا شکار بن چکا ہے، مگر اب سعودی عرب میں کسی ڈاکٹر یا عملے کے دیگر افراد پر تشدد بہت مہنگا پڑے گا کیونکہ ایک نئے قانون میں ڈاکٹروں پر تشدد کو سنگین جرم قرار دے دیا گیا ہے جس پر انتہائی کڑی سزا دی جا سکے گی۔

ؑؑعرب ملک میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں پکڑے جانے پر بھارتی شہری کا ایسا موقف کہ کسی کو بھی اعتبار نہ آئے

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ قانون ڈاکٹروں کے خلاف تشدد کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر لاگو کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز 6سعودی نوجوانوں نے رات کے پچھلے پہر 3بجے قرایات جنرل ہسپتال میں گھس کر آئی سی یو میں تعینات ایک ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ان کے 90سالہ مریض کی موت اس ڈاکٹر کی غفلت کے باعث ہوئی۔ گزشتہ سال ریاض کے شاہ فہد میڈیکل سٹی میں اردن کے ڈاکٹر محمد الزیبن کو ایک سعودی شخص نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اورسر میں گولی مار دی تھی، مگر خوش قسمتی سے اس کی جان بچ گئی۔ اس شخص کی بیوی کی زچگی کے دوران موت واقع ہو گئی تھی۔

مزید : عرب دنیا


loading...