برطانیہ نئی مصیبت میں پھنس گیا،اپنے ہی فوجیوں نے حکومت پر ’حملے‘کامنصوبہ بنالیا، سنسنی خیز انکشاف منظر عام پر

برطانیہ نئی مصیبت میں پھنس گیا،اپنے ہی فوجیوں نے حکومت پر ’حملے‘کامنصوبہ ...
برطانیہ نئی مصیبت میں پھنس گیا،اپنے ہی فوجیوں نے حکومت پر ’حملے‘کامنصوبہ بنالیا، سنسنی خیز انکشاف منظر عام پر

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق جنگ میں برطانوی وزارت دفاع نے اپنے فوجیوں سے جو بربریت کا بازار گرم کروایا اب اس پر 200سے زائد فوجیوں کو تفتیش کا سامنا ہے مگر ایسے میں وزارت دفاع نے انہیں بالکل تنہاءاور بے یارومددگار چھوڑدیا ہے، جس پر ان فوجیوں نے وزارت دفاع کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق عراق جنگ میں ان فوجیوں پر عراقی شہریوں کے قتل عام اور دیگر عالمی جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کی تحقیقات برطانیہ کے ٹیکس دہندگان کے سرپرستی میں چلنے والی”عراق ہسٹورک الیگیشنز ٹیم“ (Iraq Historic Allegations Team)کر رہی ہے۔ ٹیم الزامات کی زد میں آنے والے 200سے زائد فوجیوں کو بلا کر ان سے تفتیش کر رہی ہے تاہم اس سلسلے میں وزارت دفاع ان فوجیوں کی مدد کے لیے آگے نہیں آ رہی۔ ان میں سے دو فوجیوں پر عراقی شہریوں کی بلاتفریق قتل و غارت کے الزام میں مقدمہ قائم کیا جا چکا ہے اور باقی فوجی بھی اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے خلاف بھی مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔

بھارتی انتہاء پسند سیاسی پارٹی نے نوازشریف کے سر کی قیمت مقرر کردی

رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں نے وزارت دفاع کے خلاف عدالت جانے کے لیے ایک لاءفرم سے رابطہ کر لیا ہے جو مقدمے کی تیاری کر رہی ہے۔ لاءفرم کی عہدیدار ہیلری مریڈیتھ کا کہنا ہے کہ ”وزارت دفاع نے جارح تفتیش کاروں کے سامنے فوجیوں کو بے یارومددگار چھوڑدیا ہے۔ فوجی جنگ کے دوران صرف احکامات پر عمل کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کیا۔ اب انہیں مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وزارت دفاع انہیں کوئی قانونی و جذباتی معاونت بھی فراہم نہیں کر رہی۔اب تک ایک میجر اور ایک اہلکار کے خلاف مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں۔ ہم عدالت میں ان مقدمات پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے لیے تیزی سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔“

مزید : بین الاقوامی


loading...