”اگر امریکہ نے سعودی عرب کے خلاف یہ دعویٰ کیا تو اس کے نتائج خود امریکہ کے لئے خوفنا ک ہوں گے“

”اگر امریکہ نے سعودی عرب کے خلاف یہ دعویٰ کیا تو اس کے نتائج خود امریکہ کے ...
”اگر امریکہ نے سعودی عرب کے خلاف یہ دعویٰ کیا تو اس کے نتائج خود امریکہ کے لئے خوفنا ک ہوں گے“

  


واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی کانگریس سعودی مخالفت میں اس حد تک آگے نکل گئی کہ 9/11 دہشتگردی سے متاثرہ امریکی خاندانوں کو سعودی حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دینے کی بھی حمایت کر ڈالی، مگر اس فیصلے کے ممکنہ خطرناک نتائج کا سوچ کر امریکی حکمرانوں کے پسینے چھوٹ گئے ہیں اور اب اس بات سے پیچھے ہٹنے کی راہیں نکالی جا رہی ہیں،سعودی عرب اب تک 25 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو قبول کرچکا ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق نیشنل قونصل برائے امریکہ و عرب تعلقات کے صدر جان ڈیوک اینتھونی کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکی کانگریس صدر باراک اوباما کی جانب سے اس فیصلے کو ویٹو کئے جانے کے خلاف کوئی قدم اٹھائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ متوقع ہے کہ سعودی حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کے فیصلے کو صدر باراک اوباما ویٹو کردیں گے اور ایسی صورت میں یہ توقع نہیں ہے کہ کانگریس پھر سے امریکی صدر کے فیصلے کو رد کرنے کے لئے کوئی کوشش کرے گی۔ جان ڈیوک کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ امریکی صدر خود قومی ٹی وی پر آکر وضاحت کریں کہ سعودی حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کرنا امریکا کو کتنا مہنگا پڑ سکتاہے۔

’شارٹس پہننے والی خواتین کو مر جانا چاہئے‘،ترک شہری کابھری بس میں نرس پر حملہ،زخمی کردیا

جان ڈیوک کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ 60 سال سے یہ کوشش جاری رکھی ہوئی ہے کہ سعودی عرب کے بارے میں کوئی اچھی بات دنیا کے سامنے نہ آسکے اور محض منفی معلومات ہی سامنے آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال کے پیش نظر سعودی ولی عہد محمد بن نائف کی اقوام متحدہ میں تقریر بہت اہم ہے کیونکہ اس کے زریعے دنیا کو پتا چلے گا کہ سعودی عرب شامی پناہ گزینوں کے لئے کیا کر رہا ہے۔ جان ڈیوک نے بتایا کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب اب تک 25 لاکھ سے زائد شامی پناہ گزینوں کو قبول کرچکا ہے، جس کا ذکر مغربی میڈیا میں کبھی نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی مملکت کا انداز مغربی ممالک سے مختلف ہے۔ وہ شامی پناہ گزینوں کو رہنے کے لئے گھر، تعلیم کے لئے سکول اور صحت کے لئے ہسپتال کی سہولتیں بھی دیتے ہیں، لیکن مغربی میڈیا پناہ گزینوں کی قانونی تعریف میں الجھا ہوا ہے اور سعودی کوششوں کو سراہنے کی بجائے مملکت کے خلاف پراپیگنڈے میں مصروف ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...