مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کی جوڈیشل انکوائری 4سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکی

مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کی جوڈیشل انکوائری 4سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکی
مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کی جوڈیشل انکوائری 4سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکی

  


لاہور(نامہ نگار)مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کی جوڈیشل انکوائری 4سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکی ،ایڈیشنل سیشن جج وسیم الرحمن نے پولیس اہلکاروں کو 7اکتوبر کے لئے نوٹس جاری کردیئے،عدالت عالیہ کے حکم پر یہ جوڈیشل انکوائری 2013ءمیں شروع ہوئی تھی ، اس مبینہ پولیس مقابلے میں تھانہ اقبال ٹائو ن کے سب انسپکٹر مقصود سمیت11اہلکارشامل ہیں۔ایڈیشنل سیشن جج وسیم احمد کی عدالت میں تھانہ اقبال ٹاون کے سب انسپکٹر مقصود حیات سمیت 11اہلکاروں کے خلاف مبینہ طور پر جہلم کے عثمان بھٹی کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے پر جوڈیشل انکوائری زیرسماعت ہے ،عثمان بھٹی کو 2013ءمیں گلشن اقبال پارک کے قریب مبینہ پولیس مقابلہ میں ہلاک کیا گیا تھاجبکہ پولیس کا موقف ہے کہ ملزم پولیس کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے ہلاک ہوا ،فاضل جج نے ایڈیشنل سیشن جج وسیم احمد کی عدالت میں انکوائری آنے پر عدالت نے پولیس اہلکاروں کو طلب کیا جن میں اے ایس آئی عابد، ہیڈ کانسٹیبل، کانسٹیبل رشید ، منیر،تنویراورمقصود پیش ہوئے ، عدالت نے امتیاز احمد کانسٹیبل،سلمان ،وقاص اور محمد لطیف کے پیش نہ ہونے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مذکورہ پولیس اہلکاروں کو آئندہ سماعت پرطلب کرلیا ہے ۔

مزید : لاہور


loading...