مضبوط ، مستحکم اور جمہوری پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بے حد ضروری،جنگی جنون پیدا کرنے سے دونوں ملکوں کو نقصان ہوگا :وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر

مضبوط ، مستحکم اور جمہوری پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بے حد ضروری،جنگی ...
مضبوط ، مستحکم اور جمہوری پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بے حد ضروری،جنگی جنون پیدا کرنے سے دونوں ملکوں کو نقصان ہوگا :وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر

  


لاہور(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ مضبوط ، مستحکم اور جمہوری پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بے حد ضروری ہے ،جنگی جنون پیدا کرنے سے دونوں ملکوں کو نقصان ہوگا ،مسئلہ کشمیر کا واحد اور قابل قبول حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے میں ہے ،تیسرا آپشن (خود مختار کشمیر ) مزید پیچیدگیاں اورمسائل کا باعث بنے گا اورکشمیر بین الاقوامی سازشوں کا گڑھ بن جائے گا، کشمیریوں کی اکثریت اس کی حامی نہیں ہے ۔وزیر اعظم پاکستان کی اقوام متحدہ میں تقریر ہی ہماری کشمیر پالیسی ہے، ہم پاکستان کے سیاستدانوں سے ملاقاتیں کرکے ان سے مسئلہ کشمیر پر اتفاق رائے حاصل کریں گے ۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم کا خطاب عام تقریر کی بجائے بھرپور اور دوٹوک ہونا چاہیے تھا ، ہندوستان ہمیں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے پر مجبور نہ کرے:خورشید شاہ

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں’’ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز‘‘(سی پی این ای) کے پروگرام ’’ میٹ دی ایڈیٹرز ‘‘ میں کیا۔ پروگرام کی صدارت صدر سی پی این ای ضیا ء شاہد نے کی ۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات ،سیاحت حکومت آزاد کشمیر مشتاق منہاس ، سی پی این ای کے سابق صدور عارف نظامی ، جمیل اطہر قاضی ،مجیب الآحمان شامی، شاہین قریشی( سینئرنائب صدر سی پی این ای )کے علاوہ ڈاکٹر جبار خٹک، ایاز خان ، عطاء الرحمان ، ممتاز طاہر، سجاد بخاری ، میاں حبیب ، خالد چوہدری ، سعید آسی ، سید ارشاد احمد عارف ، ہمایوں طارق، سید منیر جیلانی ، خواجہ منور الحسن، ذوالفقار راحت، صفدر علی خان، ابرار مصطفی اور دیگرمدیران اخبارات بھی موجود تھے ۔ تقریب کی نظامت عرفا ن اطہر قاضی قائم مقام سیکرٹری جنرل (سی پی این ای) نے کی۔

مزید پڑھیں:ہم پر الزام لگانے سے پہلے بھارت کو کشمیریوں پر ڈھائے گئے مظالم کا حساب دینا ہوگا:وزیراعظم کی پاکستانی صحافیوں کے ساتھ ناشتے پر گفتگو

صدر سی پی این ای ضیا ء شاہد نے ابتدائی کلمات میں مہمان خصوصی کووزیراعظم آزاد کشمیرمنتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ،انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے مدیران اخبارات کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہاکہ بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں آج جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اور نہتے کشمیریوں پر جومظالم ڈھائے جا رہے ہیں اس کے نتیجے میں کشمیریوں میں جذبہ آزادی مزید بڑھ گیا ہے، برہان وانی کی شہادت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو نیا خون دیا ہے ، ا ب تک لاکھوں کشمیری اپنی جان ومال اور عزت آبرو کی قربانیاں دے چکے ہیں اس کی مثال پورے خطے میں نہیں ملتی۔ ہماری نظر میں پاکستان کی سلامتی کشمیر سے زیادہ ہے کیونکہ پاکستان ہوگا تو کشمیر بھی ہوگا،ایک جمہوری ، مستحکم اور مضبو ط پاکستان کشمیر کے لیے ضروری ہے کیونکہ ایک جمہوری ، مستحکم اور مضبوط پاکستان ہی دنیا میں مسئلہ کشمیر پر ہمار ا ایک اچھا وکیل بن سکتاہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہاکہ ہم پاکستان کی سلامتی اور بقا کی جنگ لڑرہے ہیں کیوں کہ بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردیا تھا ، پاکستان اور انڈیا جنگ سے کچھ حاصل نہ کر سکیں گے ،اس سے تباہی کے سوا کچھ نہیں ملے گا ،جنگ سے جانوں کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی ہوتا ہے اورہندو بنیا کسی صورت بھی مالی نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔مودی پاکستان کو تنہا کرنا چاہتا ہے ،اسے سی پیک منصوبے کی تکلیف ہے،ہمیں پاکستان کی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی سطح پر سپورٹ درکار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں ہمارے لئے قابل احترام ہیں، انہیں حکومت سے اختلاف کا پورا پورا حق ہے لیکن ہمیں اپنے اختلافات پاکستان کے باہر نہیں لے جا نے چاہئیں ۔انہوں نے کہاکہ شملہ معاہدہ دو طرفہ معاہدہ ہے، ہمیں اسے انٹرنیشنلائز کرنے کی ضرورت ہے ۔ایک او ر سوال کے جواب میں وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھاکہ جیش محمد کا آزاد کشمیر میں کوئی وجود نہیں ہے ۔قبل ازیں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی بھارتی بربریت کے حوالے سے ڈاکو منٹری دکھائی گئی ۔اس موقع پر وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیرراجہ فاروق حیدر خان نے سی پی این ای کے صدر ضیاء شاہدکو سونیئربھی پیش کیااورتقریب میں مقبوضہ کشمیر کے شہداء کے لئے خصوصی دعا بھی مانگی گئی ۔

مزید : قومی


loading...