فنِ خطاطی اُمت مسلمہ کا زرّیں اثاثہ

فنِ خطاطی اُمت مسلمہ کا زرّیں اثاثہ
 فنِ خطاطی اُمت مسلمہ کا زرّیں اثاثہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ آخری کتاب قرآن کریم کی پہلی وحی میں ’’اقراء‘‘ کے بعد ’’عَلَّمَ بِالقَلَم‘‘ کے الفاظ کے ذریعہ قلم و کتاب کا حوالہ دے کر انسانوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ لکھنے (کتابت) کی بھی ترغیب دی ہے، چنانچہ اللہ کے آخری نبی و رسول سیدنا محمدﷺ اُمی ہونے کے باوجود امت کے افراد کو صاف ستھرا اور خوش خط لکھنے کی ترغیب دیتے تھے۔ بعض سیرت نگار حضرات نے لکھا ہے کہ سیدنا رسول اللہﷺ نے لکھنے کے سلسلے میں سیاہی گاڑھی رکھنے ، ’’ب‘‘ کو پورا لکھنے، ’’س‘‘ کو کھینچ کر اور ’’م‘‘ کو گول بنانے کی ہدایت فرمائی تھی۔

علامہ بلا ذریؒ نے فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ اسلامی دور کے آغاز میں قریش کے سترہ افراد ایسے تھے جو تحریر و کتابت سے واقف تھے جن میں حضرت عمر بن خطابؓ ، عثمان بن عفانؓ، عبیدہ بن جراحؓ، ابو سفیان بن حربؓ، حضرت ام کلثومؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت شفابنت عبداللہ ؓ تحریر و فن کتابت سے آشنا تھیں۔ حضرت عائشہؓ اپنے مکاتیب میں بسم اللہ شریف کے بعد اس طرح لکھا کرتی تھیں، عائشہ بنت ابی بکرؓ، جو حبیب اللہﷺ کی محبوب اور پیاری ہے۔

اسلامی دورِ آغاز میں سیدنا رسول اللہﷺ نے قرآن کریم کی تحریر اور کتابت کے سلسلے میں چند حضرات کو مقرر اور منتخب کیا تھا ان میں حضرت ابی بن کعب انصاریؓ ، حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت شرجیل بن حسنہؓ، ابان بن سعیدؓ، علاء بن حضرمیؓ، معاویہ بن ابو سفیانؓ کے اسماء گرامی خصوصاً ہیں۔ تحریر و کتابت کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ غزوۂ بدر کے موقع پر کفار میں جو لوگ قیدی بنائے گئے تھے، ان کی رہائی کا فدیہ اور شرائط میں تھا کہ جو مدینہ منورہ کے دس بچوں کو فن کتابت کی تعلیم و تربیت دیں گے، انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ علامہ ابو منصور عبدالقادر بن طاہر بغدادیؒ نے لکھا ہے کہ سیدنا رسول اللہﷺ کو شرف اولیت حاصل ہے، جس نے غیر قوموں کے ساتھ معاہدات لکھوانے کا آغازکیا، یہ تحریریں سفارات اور مکتوبات گرامی کا حصہ ہوتی تھیں۔

سیدنا رسول اللہﷺ کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ضروری ہے کہ پاکستان میں فن خطاطی کو فروغ دینے اور تعلیمی اداروں کے طلباء کو خوش خطی کی تربیت کے لئے خطاط اکیڈمی قائم کی جائے۔ جیسا کہ قیامِ پاکستان سے قبل دارالعلوم دیوبند میں فن خطاطی کی تربیت نصاب تعلیم میں شامل تھی، اس لئے اس دور کے بزرگ علماء کرام کا خط خوش نما اور اعلیٰ خطاطی کا آئینہ دار ہوتا تھا۔ ان میں سے مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ ، مولانا عماد الدین انصاریؒ ، مولوی سردار محمد جالندھریؒ ، مولانا انوارالحسن شیر کوٹیؒ اور دیگر شخصیات فن خطاطی میں کمال مہارت رکھتے تھے۔

حضرت مفتی کفایت اللہ ؒ کی 1931ء میں مجلس احرار کی تحریک آزادئ کشمیر کے سلسلے میں کشمیری حکومت کے ساتھ جو خط و کتابت ہوئی تھی (اس کی اصل کاپی میرے پاس محفوظ ہے۔) یہ حضرت مفتی صاحب کی خطاطی کا شاہکار ہے۔ یاد رہے کہ 1944ء کو دارالعلوم ڈابھیل سے سند فراغت پانے کے بعد 1945ء کو استاد محترم مولانا خیر محمد جالندھریؒ نے مجھے ابتدائی کتب کی تعلیم ، مضمون نویسی اور فن کتابت کی تربیت کا استاد مقرر کیا تھا۔

بہرحال پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ قومی ورثے اور تاریخ کے مُشیر محترم عرفان صدیقی کے بین الاقوامی خطاطی نمائش کا اہتمام کرکے ایک لائق تحسین روایت قائم کی ہے، لیکن خُوگر ’’تحسین‘‘ سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے

یہ بات موجب حیرت ہے کہ اس نمائش خطاطی کو بین الاقوامی نمائش کیسے قرار دیا گیا؟ جبکہ اس میں دیگر اقوام کے نہ تو خطاط (آرٹسٹ وغیرہ) شریک تھے اور نہ ہی ان کے آرٹ اور خطاطی کا کوئی نمونہ پیش کیا گیا، یہ بین الاقوامی نہیں، بلکہ صرف مسلم ملکوں کی عالمی نمائش خطاطی قرار دی جا سکتی ہے۔

ثانیاً یہ کہ خطاطی کی اس نمائش میں پاکستانی خطاطوں کے اساتذہ کرام کا قطعاً کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا، جن کے حوالے کے بغیر پاکستانی خطاطی بے معنی ہو جاتی ہے، ان شخصیات میں سے عبدالمجید پرویں رقم، تاج الدین زریں رقم، حافظ محمد یوسف سدیدی، سید انور حسین نفیس رقم، صوفی خورشید عالم، عبدالمجید دہلوی اور دیگر حضرات کے اسماء گرامی خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ان کے تذکرے کے بغیر خطاطی کا حوالہ ادھورا ہے۔

اس نمائش کے سلسلے میں موجودہ حکومت کے اقدامات کی جو طویل فہرست شائع کی گئی، اس میں نہ تو خطاط اکیڈمی کے قیام کا حوالہ ہے اور نہ ہی ملتان کے علاوہ کسی شہر اور کسی صوبے میں اکادمی ادبیات کے دفاتر قائم کرنے کا مژدہ سنایا گیا ہے۔ اس فہرست میں دس لاکھ روپے سالانہ کی رقم سے انتظار حسین ایوارڈ کے اجراء کا اعلان کیا گیا ہے، کیا انتظار حسین بھی خطاط تھے وہ افسانہ نگار ،نثر نگار کالم نگار ،ضرورتھے ان سے اچھے کئی کالم نگار موجود ہیں، انہیں کیوں نظر اندازکیا گیا ہے؟

حکومت کو خطاطی کے فروغ کے سلسلے میں کسی ماہرِ فن خطاط کے نام سے ایوارڈ کا اجراء کرنا چاہیے تھا، نیز حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں ’’شہر کتاب‘‘ کے نام سے قیام کا بھی اعلان کیا گیا۔ کیا کسی مفسر قرآن اور سیرت نگار کی کتابوں کو بھی شہر کتاب میں پذیرائی مل سکے گی؟ جبکہ حکومت کرکٹ کے کھلاڑیوں کو تو دو دو کروڑ روپے کے ایوارڈ سے نواز رہی ہے اور کسی مفسر قرآن، سیرت نگار اور مورخِ اسلام کو خاطر میں لانے پر آمادہ نہیں ہے:

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ براندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی

مزید : کالم