عمران خان کے دشمن اور علیم خان کا پنجاب؟

عمران خان کے دشمن اور علیم خان کا پنجاب؟
 عمران خان کے دشمن اور علیم خان کا پنجاب؟

  

کیا عمران خان سے بہت سارا قیمتی وقت ضائع کر وایا جا رہا ہے؟۔ رہی سہی کسر علیم خان نے نکال دی جس نے پہلے تو عمران خان اور پنجاب کے کارکنوں میں دوریاں پیدا کیں، پھر پنجاب بھر کے تنظیمی نیٹ ورک کو خراماں خراماں بربادی کے سفر پر گامزن کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس ضلع میں بھی کوئی کام کرنے والا کارکن نظر آیا اسے بے عزت کرکے ہی دم لیا۔ عمران خان کے لئے لمحہ فکریہ ہے جن کارکنوں نے ملک بدلنے کے لئے تن من دھن نچھاور کرکے تحریک انصاف کو اوڑنا بچھونا بنایا انہیں علیم خان جیسے افراد یا تو مار مار کر بے حال کر رہے ہیںیا انتہائی حقارت سے پکار رہے ہیں۔

ایک تحریک اٹھی جس کی چکاچوند نے ملک بھر کو متاثر کیا۔خاص طور پر نوجوان طبقہ دیوانوں کی مانند لپکا۔اب دنیا بھر کی انقلابی تحریکوں کی طرح سامنے تین بڑے چیلنج تھے۔ مقبولیت کا تسلسل، قبولیت کا پھیلاؤ اور سرعت کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر حاصل ہوتے تنظیمی اہداف۔ دو میں کامیابی ملی، عمران خان نے برانڈ کی مانند گلی کوچوں میں مقبولیت حاصل کی، قبولیت کی خوشبو درودیوار سے ہوتی عام گھروں کے ڈرائنگ روموں تک بھی پہنچی۔۔۔ لیکن اہداف کے حصول میں معاملہ برعکس نظر آیا۔انقلابی تحریکیں یا تو عوام میں پذیرائی حاصل کرتی ہیں یا تیزی سے وجود کھو بیٹھتی ہیں۔ تحریک انصاف کے معاملے میں ایک نیا پہلو منظر عام پر آیا، اس جماعت نے مقبولیت، قبولیت اور پذیرائی حاصل کرنے کے باوجود اپنے ساتھیوں کی کلہاڑیوں سے اپنی ہی جڑوں کو کاٹا ۔یہ ساتھی تنظیمی نیٹ ورک کے پھیلاؤ سے ہمیشہ گھبراتے رہے، انہیں جلسوں، ٹی وی پروگراموں اوراخبارات کے انٹرویوز دینے میں زیادہ مسرت محسوس ہوئی۔ متبادل دھڑا سنبھالنے کے باوجود پی ٹی آئی کی سیکنڈ کلاس لیڈر شپ نے کارکنوں کو تنہاء چھوڑا۔ علیم خان سمیت کئی قریبی رفقاء عمران خان کو تسلسل سے باور کروا تے رہے آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) عبرت ناک شکست سے دوچار ہو گی اور پی ٹی آئی مرکز میں حاکم۔ کیا واقعی ایسی سوچ زمینی حقائق کے عین مطابق تھی؟۔

عمران خان کو تنہائی کے ایسے آسمان پر کس نے پہنچایا کہ وہ نیچے بکھرے کارکنوں سے ہی دور ہوگئے۔ وہ کون سے ایسے احباب ہیں، جنہوں نے عمران خان کی سوچ کو ہائی جیک کر لیا ؟۔ کیا عمران خان ایک سائے کی سی صورت اختیار کر چکے جو چکاچوند روشنیوں میں نمودار ہوکر کئی ہفتوں کے لئے تاریکیوں میں کھو جاتا ہے؟۔ شہری و قصباتی تنظیموں اور عمران خان کے درمیان براہ راست رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ وہ اگر چند روزہ دورے پر لاہور تشریف بھی لے آئیں تو یہی ٹولہ انہیں ایک دو سیمینارز سے خطاب کروا کر دوبارہ بنی گالہ چھوڑ آتا ہے۔ الیکشن دہانے پر ہوں، انقلابی تحریک اپنے بڑے مخالف کو تخت حکمرانی سے رخصت کروا چکی ہو اور پھر اسی انقلابی تحریک کی مرکزی قیادت خود ہی گھروں میں پردہ کر کے بیٹھ جائے، سیاسی خودکشی پر مبنی ایسا طرز عمل صرف پاکستان تحریک انصاف سے ہی متوقع تھا۔۔۔یہ نتیجہ ہے پنجاب کی قیادت علیم خان کو سونپنے کا۔

کیا وجہ ہے مسلم لیگ(ن) کی ٹاپ لیڈر شپ پر عدالتی فتح حاصل کرنے کے باوجود پی ٹی آئی لاہور کے کارکنان میں پژمردگی دکھائی دے رہی ہے۔پنجاب بھر کی تنظیمات بھی روز بروز کمزور ہوتی چلی جارہی ہیں۔ ڈائی ہارڈ ورکرز کی بہت بڑی تعداد خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی ہے۔ ان کارکنوں کو متحرک کون کرے گا؟۔ عمران خان یہ کام کر سکتے تھے لیکن بنی گالہ پر قابض ٹولے نے انہیں جمورا تھماتے ہوئے کہا ’’وہ مستقبل کے وزیراعظم ہیں، تنظیمات اور کارکنوں کو ہمارے حوالے کریں، یہ چھوٹے موٹے معاملات ہم نمٹا لیں گے‘‘۔

پنجاب کا مرکزی علاقہ علیم خان کے سپرد ہوا۔ علیم خان نے کیا کیا؟ ڈویژنز کے دورے کس نے کرنے تھے؟۔ تنظیمات کی ناراضگیاں کس نے دور کروانی تھیں؟۔ اچھے کارکنوں کو پذیرائی کس نے بخشنی تھی، خاموش ورکرز کو متحرک کس نے کرنا تھا؟ یہ سارے کام علیم خان کے کرنے والے تھے۔ لیکن حقائق یہ ہیں علیم خان راوی کا پل پارکرنے پر آمادہ نہیں تھے۔کیاکسی انقلابی منشور رکھنے والی جماعت میں ایسے ساتھیوں کو بڑی ذمہ داریاں تفویض کی جا سکتی ہیں؟ کیا نظام بدلنے کے لئے ’’ریاست اور فرد‘‘ کی تعریف سے نا آشنا شخص کو پنجاب جیسے صوبے کی صدارت سونپی جا سکتی ہے؟۔

کیا علیم خان کا پیسہ انقلابی جذبوں سے سرشار کارکنوں کے حوصلے نوچ رہا ہے؟۔ عمران خان خود کیوں چپ ہیں؟۔ کیا وہ دیکھ نہیں رہے پنجاب میں تحریک انصاف برباد ہوتی چلی جا رہی ہے؟۔ وہ تنظیمی نیٹ ورک میں کرنٹ دوڑائے بغیر کسی معجزے کا انتظار کیوں کر رہے ہیں؟۔ گناہ گاروں کی اس دنیا میں محنت، حکمت اور منصوبہ بندی ہی معجزے کا دوسرا نام ہے۔ عمران خان کے گرد موجود لوگ جلسے کے انعقاد کو محنت، دھواں دھار خطاب کو حکمت اور کبھی کبھار کسی کارکن کو عمران خان سے ملوانے کو منصوبہ بندی سمجھتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے ایسے تمام رفقاء عمران خان پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں عمران خان کو تنظیمات کے درمیان ہونا چاہئے تھا، پرانے و نئے کارکنوں سے براہ راست ٹیلی فون رابطوں میں رہنا چاہئے تھا، انہیں آنے والی سیاسی جنگ سے قبل توانائی کا احساس دلانا چاہئے تھا ۔۔۔لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ کارکنوں کا ایک بہت بڑا طبقہ قائدین کے رویوں سے نالاں ہوکر خاموش ہو چکا ہے۔ انہی کارکنوں نے لوگوں کو متحرک کرنا تھا، گلی محلوں، دکانوں، تھڑوں اور چوکوں ، چوراہوں میں جماعت کی ہوا بنانی تھی۔ لیکن جب انہیں ملنا تو درکنار فون کرنا بھی گوارہ نہیں کیا جائے تو وہ لامحالہ مایوسیوں کے تاریک گڑھوں میں ہی گریں گے۔

چند ماہ قبل عمران خان نے اپنے گرد موجود ٹولے کو ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے براہِ راست تنظیمات تک رسائی اور شہروں میں کارکنوں سے ون ٹو ون ملاقاتوں کا پلان تشکیل دیا۔ ساری تیاریاں مکمل تھیں کہ یہی مخصوص ٹولہ جس نے پاکستان تحریک انصاف کی انقلابیت کے پرخچے اڑائے، عمران خان کو کہنے لگا ’’جناب تنظیمات سے مل کر کیا حاصل ہوگا۔ کارکن ایک دوسرے کی شکائتیں ہی کریں گے۔

بس ذرا پانامہ کا فیصلہ آلینے دیں،مسلم لیگ (ن) کے لگ بھگ اسی ایم این اے لائن لگا کر بنی گالہ حاضر ہو جائیں گے، جبکہ ان کی دیکھا دیکھی پنجاب کے نواحی علاقوں سے پیپلز پارٹی کے جیتنے والے سیاسی فگرز تو پی ٹی آئی کا پیچھا ہی نہیں چھوڑیں گے‘‘۔ یہ وہ جوا تھا جسے جیتنے کے انتظار میں عمران خان کو دوبارہ کارکنان سے دور کر دیا گیا۔ پانامہ کا فیصلہ بھی آگیا، میاں محمد نواز شریف وزارت عظمی سے فارغ بھی ہوگئے، لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا ۔

نہ تو لیگی ایم این اے بنی گالہ حاٖضر ہوئے اور نہ ہی دیہی علاقوں سے پی پی پی کے بڑے نام تحریک انصاف میں شامل ۔ جو قیمتی وقت ضائع ہوا اس کا ذمہ دار کون تھا؟۔ بڑے ناموں کے لالچ میں اپنی تنظیم میں موجود ناموں پر بھی توجہ نہ دی گئی۔’’ بڑے ناموں کی تلاش ‘‘ ناول کے ٹائٹل کی حد تک تو ٹھیک لیکن اگر یہ سوچ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت میں بھی سرایت کر چکی ہے تو پھر اگلے الیکشن میں اللہ ہی حافظ۔ عمران خان کے گرد براجمان لوگ بڑا خطرناک جوا کھیل رہے ہیں۔ وننگ ہارسز کے انتظار میں اپنے پاس موجود گھوڑوں کو بھی نقاہت زدہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) ذہانت سے پتے کھیل رہی ہے۔ خان صاحب بنی گالہ بیٹھے رہے انہوں نے مہارت سے عدالتی فیصلے میں سے ہمدردی کے راہیں ڈھونڈ لیں۔یہ سلسلہ مزید بڑھے گا اور لگتا یونہی ہے خان صاحب کو اسی طرح تنظیمات اور کارکنان سے دور رکھا جائے گا۔ شائد انہیں دوستوں ، دشمنوں میں فرق ہی معلوم نہیں؟۔ اب انتخابات میں وقت ہی کتنا بچا ہے۔ پی ٹی آئی کو اس وقت تک امیدواران فائنل کر دینے چاہئے تھے، تاکہ گومگو کی کیفیت سے چھٹکارہ پا کر حلقوں پر توجہ مرکوز کی جاتی۔ پی ٹی آئی کے ورکرز کی محنت اور لگن میں کوئی شبہ نہیں۔

یہ تو عمران خان کے اس قدر دیوانے ہیں کہ پیدل ہی لاہور نکل پڑتے ہیں، لیکن ڈائریکشن دینے والا کوئی نہیں۔ ایک دن علم ہوتا ہے لاہور گروپ نے فلاں کی ٹکٹ فائنل کر دی۔ دوسرے دن عقدہ کھلتا ہے اسلام آباد گروپ والوں نے کسی اور پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ بعد میں خبر آتی ہے سب افواہیں تھیں۔عمران خان کے انقلابی منشور کو باقاعدہ چینلائز کرنے والے احباب تحریک انصاف میں موجود ہیں، لیکن مخالف دھڑا جو کچھ بھی کرنے کا قائل نہیں ان کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ پنجاب کے حوالے سے بہترین نام چودھری سرور کی صورت موجود تھا۔ماضی میں چودھری سرور کو پنجاب میں ذمہ داری ملی تو انہوں نے قلیل عرصے میں طوفانی دوروں کی بدولت تنظیمات اور کارکنوں کو متحرک کیا، لیکن شائد یہی ان کی غلطی بھی تھی۔ ایک ٹولہ دور کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا ، جونہی موقع ملا انہوں نے چودھری صاحب کو کھڈے لائن لگوا دیا۔ کارکن دوبارہ تنہاء رہ گئے۔ اب عمران خان خود ہی اپنے دوست نما دشمنوں پر غور کریں۔

پنجاب بھر کی تنظیمات میں کیا چل رہا ہے۔ ہر شہر میں متحرک لیڈر، نمائشی لیڈر، متحرک کارکن، خاموش کارکن، اعلانیہ اور غیر اعلانیہ ہمدرد موجود ہیں۔ گوجرانوالہ کی مثال لیجئے۔ پورے شہر میں جنونیوں کی طرح متحرک صرف ایک ہی کارکن نظر آتا ہے، پی پی93 سے سابقہ ٹکٹ ہولڈر چودھری محمد علی ۔ حالات جیسے بھی رہے اس نے ہر ایونٹ پر خواہ وہ لانگ مارچ ہو یا اعجاز چودھری کی پیدل ریلی، دل کھول کر نہ صرف پیسہ خرچ کیا، بلکہ پولیس کے چھاپے بھی سہے۔ پیدل ریلی سے یاد آیا اس دن اعجاز چودھری ابھی گوجرانوالہ کی حدود میں داخل بھی نہیں ہوئے تھے کہ مقامی پی ٹی آئی قیادت، الف سے لے کر ی تک،گرفتاریوں کے خوف سے گھروں میں مقید ہوگئی ۔

شہر کے ’’ نامور لیڈروں‘‘ نے اپنے ڈرائیوروں کو لاری اڈے بھجوا دیا اور ساتھ ہدایات دیں اگر پولیس نے اعجاز چودھری کے لئے استقبالیہ کیمپ لگانے والے چودھری محمد علی کو گرفتار کر لیا تو وہ گاڑیاں نکال لائیں۔اعجاز چودھری لاری اڈے پر پہنچے۔اب وہاں ایک طرف پولیس دوسری طرف چودھری محمد علی کھڑا تھا۔ یہ موقع گوجرانوالہ کے سابقہ و متوقع ٹکٹ ہولڈرز کے لئے امتحان کی مانند تھا۔ ساری کی ساری لیڈر شپ اس امتحان میں فیل ہوئی۔ اب المیہ یہ ہے کہ پولیس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے والے چودھری محمد علی کے مقابلے میں این اے چھیانوے سے صدیق مہر نامی اس شخص کو لانے کی باتیں کی جا رہی ہیں جس کا پی ٹی آئی، نظریہ انقلاب، تبدیلی جیسے تصورات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ اگر ایسے امیدوار کو ٹکٹ دیا گیا تو ابھی سے نوٹ کر لیں این اے96 کی بیشتر یونین کونسلز میں کارکن بغاوت کرکے مکمل طور پر لاتعلق ہو جائیں گے۔ کارکنان اتنے بھی بے وقوف نہیں ایسے شخص کی خاطر ووٹ مانگتے پھریں، جس نے ان سے کبھی ملنا تک بھی گوارہ نہ کیا ہو۔ اگر صدیق مہر کو ٹکٹ ملا تو سب سے پہلے خوشیوں کے چراغ خرم دستگیر خان جلائیں گے،اِس لئے کہ خرم دستگیر خان کو بھی علم ہے آرائیں برادری اگر کسی امیدوار پر اکٹھ کر سکتی ہے تو وہ صرف چودھری محمد علی ہے۔ صدیق مہر کو تو خرم دستگیر خان موم کی مانند نگل جائیں گے۔ یہاں یہ بھی بہت بہتر ہوگا اگر وقاص فاروق عالم انصاری کو پی پی 93 میں ٹکٹ دیا جائے۔ یہ نوجوان بیرسٹر ، طارق گجر سے ہزار درجے بہتر امیدوار ہوگا۔

گوجرانوالہ کی اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے پنجاب کے دوسرے ضلعوں پر بھی نظر دوڑائیں تو ایسا ہی منظر نامہ جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گا۔ پرانے محنتی کارکن بمقابلہ حاضری لگانے والے موقع پرست۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے بھی ہو رہا ہے پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کا کوئی والی وارث نہیں۔ کس کارکن کی حوصلہ افزائی کرنی ہے، کسے فرنٹ پر لانا ہے ، کسی کو کچھ خبر نہیں۔ بدقسمتی سے پنجاب بھر میں بھرپور تنظیمی نیٹ ورک ہونے کے باوجود کمی ہے تو صرف ’’سیاسی سرگرمیوں‘‘ کی۔ پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت سیاست میں رہتے ہوئے بھی سیاست نہیں کر رہی۔ سیاست کی عالمگیر اساس تنظیمات اور کارکنان ہیں۔

شائد یہ واحد جماعت ہوگی جو تنظیمات اور کارکنان کو متحرک کئے بغیر بڑی انتخابی فتح کی آرزو مند ہے۔ جناب چیئرمین عمران خان صاحب اگر آپ نے اب بھی تنظیمی معاملات کو اپنے کنٹرول میں نہ لیا، کام کرنے، لانگ مارچ میں ماریں کھانے اور پیسہ خرچ کرنے والے کارکنوں سے روابط بحال نہ کئے تو بھرپور خدشہ ہے آنے والے انتخابات میں پنجاب کی حد تک بدترین شکست مقدر ہوگی۔ تنظیمات اور کارکنوں کو عمران خان چاہئے نہ کہ نخوت ، تکبر ، سیاسی رویوں اور لیڈرشپ کی خصوصیتوں سے نا آشنا علیم خان اینڈ کمپنی؟ ۔ ایک ایسا علیم خان جو ہر ضلعے کو اپنی سوچ رکھنے والے افراد کے سپرد کرکے عمران خان کو بڑی فتح کی جھوٹی تسلیاں دے رہا ہے۔بڑے یاد آتے ہیں مرحوم احسن رشید اس موقع پر۔ آج پنجاب میں جو نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے انہی کی بدولت تھا۔ اس نیٹ ورک کو فقط چودھری سرور جیسا witty approach رکھنے والا کارکن پال شخص ہی دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر سند رہے مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی کو ہڑپ کر جائے گی۔

مزید :

کالم -