ملکی و عالمی حالات، حکومتی تبدیلی کا سوچنا بھی ممکن نہیں

ملکی و عالمی حالات، حکومتی تبدیلی کا سوچنا بھی ممکن نہیں

(تجزیہ،ایثار رانا)

اگر ملکی حالات کا عمومی جائزہ لیا جائے اور وہ بھی اکثر تجزیہ نگاروں اور اسلام آباد کے نامہ نگاروں کی نظر سے،تو چند نکات سامنے آتے ہیں جو پیش ِخدمت ہیں۔حکومت ناکام ہوتی جا رہی ہے،اقتصادی صورتحال روز بروز تباہ ہو رہی ہے،عمران خان مقبولیت کھو رہے ہیں، بیو ر و کر یسی حکومت سے تعاون نہیں کر رہی،سرمایہ داروں نے ہاتھ کھینچ لیا ہے،عمران خان سے بالا دست طبقے مایوس ہو گئے ہیں،اس سے بھی آگے کے نکات ملاحظہ فرمائیں۔عمران خان کی سیاسی گرفت ختم ہو چکی ہے،کنگ میکر دوسری آپشنز تلاش کرنے لگے،نواز شریف کے وکلاء کا نومبر تک کا وقت لینا،مولانا فضل الرحمن کا اکتوبر کے آخر میں مارچ اور دھرنے کا اعلان،اس سے بھی آگے کے نکات ملاحظہ کریں۔کنگ میکر جیل میں جا کر نواز شریف کی منتیں کر رہے ہیں کہ وہ صورتحال کو سنبھالیں،اب میرے کچھ سوال ہیں؟ کیا ہمارے ”نیشنل برینز“کی سوچ چھوٹے بچوں جیسی ہے کہ ابھی روٹھے ابھی مانے اورابھی مانے ابھی روٹھے؟اگر سابق قومی قیادت کے پاس ہی ملک کے تمام مسائل کا حل ہے تو جن لوگوں نے انہیں سائیڈ لائن کیا ان کی سزا کیا ہونی چاہیے؟کیا آصف زرداری اور نواز شریف ان قوتوں کو اب بھی قابل قبول ہوں گے جو ایک عرصہ سے انہیں پسند نہیں کر رہی؟کہا جا رہا ہے مولانا کے لانگ مارچ کے ذریعے موجودہ حکومت کی چھٹی ممکن ہے جیسا کے ماضی میں مذہبی جماعتوں کے ذریعے ایسا کیا گیا اور اس دھرنے کو ماضی کی طرح مختلف ذرائع سے تقویت ملتی رہے گی۔میں نہیں سمجھتا پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کیلئے کسی اتنے بڑے تکلف کی ضرورت ہو گی۔کوئی ایک بڑا فیصلہ حکومت کا جھٹکا کرنے کیلئے کافی ہو گا۔جیسا کے خواہشا ت اور خواب دیکھنے پر پابندی نہیں اسی طرح خُوش کن اور معصوم خواہشات پر مبنی تجزیے کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔میری غیر جانبدارانہ رائے یہ ہے کہ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات میں فی الحال ایسا سوچنا بھی ممکن نہیں۔ہاں یہ ضرور ہے وزیر اعظم عمران خان نے جہاں بہت سے طاقتوروں کو راضی اور خوش کیا ہے وہیں بہت سوں کو ناراض بھی کیا ہے،اس کیساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان پہلے روز سے سولو فلائٹ کی پوزیشن میں نہیں رہے۔وہ بطور کرکٹ ٹیم کے کپتان کرنل (ر) رفیع نسیم کو تو ڈریسنگ روم سے باہر نکال سکتے ہیں لیکن سیاسی کپتان کے طور پر نا وہ اتنے بہادر ہیں اور نا ہی اتنے خود مختار۔ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ کنگ میکر کسی نہ کسی شکل میں کرپشن کے حوالے سے عمران خان کے بیانیہ کو پٹنے نہیں دینگے اور وقت کی ضرورت بھی یہ ہے کہ جس کی بھی حکومت ہو،جیسی بھی حکومت ہو اسے وقت پورا کرنے دیا جائے اور اس کے احتساب کی ذمہ داری عوام پر چھوڑ دی جائے۔میری آخری سطور میرے خواب آمیزتجزیے کا حصہ ہیں اور خواب دیکھنے کا مجھے بھی حق ہے۔

تجزیہ،ایثار رانا

مزید : تجزیہ


loading...