اللہ کا حکم تبدیل کرنے کا مطالبہ

اللہ کا حکم تبدیل کرنے کا مطالبہ
اللہ کا حکم تبدیل کرنے کا مطالبہ

  


ایک کالم نویس لکھتے ہیں کہ جب ”بازار“ بھی بند کر دیئے اور بادہ نوشی پر بھی پابندی تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ”پورنو سائٹس“ میں بھی نمبر وَن نہ ہوں اور بادہ نوش نشے میں دُھت ہو کر دن دیہاڑے باپ بیٹی پر کار بھی چڑھا دے اور شادی بیاہوں پر پی پلا کر اندھا دھند فائرنگ کا فیشن بھی بہت مقبول ہو۔

کالم نگار نے بڑی دردمندی کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ ”ماہرین نفسیات کا کوئی بورڈ بٹھاؤ جو حکمرانوں کو بتائے کہ اس زوال، انحطاط، گراوٹ، غصہ، عدم برداشت، جنسی جرائم(بچوں کو بھی معافی نہیں)، تشدد، مار دھاڑ، قانون شکنی، اخلاق باختگی، ظلم و ستم کی وجوہات کیا ہیں۔تاکہ ان کا تدارک ہو سکے“۔

کالم نویس کا اپنے کالم میں مرکزی نکتہ یہ تھا کہ پاکستان میں بہت سارے نفسیاتی اور معاشرتی مسائل ملک میں بادہ نوشی پر پابندی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔کالم نویس نے امریکہ کا بھی حوالہ دیا ہے کہ وہاں بھی شراب پر پابندی لگی تھی،لیکن امریکہ کے بڑوں اور سیانوں نے جلد ہی جان لیا کہ یہ حماقت کر کے انہوں نے معاشرے کو جہنم رسید کر دیا ہے،کیونکہ الکوحل پر پابندی کے فائدے کم اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔کالم نگار امریکیوں کی مثال سامنے رکھتے ہوئے اس نتیجہ اور تجویز پر پہنچے ہیں کہ پاکستان میں ”شراب خانہ خراب“ پابندی ختم ہونی چاہئے۔مَیں کوئی مُلا یا مفتی نہیں کہ کالم نگار کی رائے کے بارے میں شرعی فیصلہ دے سکوں،مگر قرآن کریم کی پانچویں سورہئ المائدہ کی آیت نوے اور اکانوے کا مَیں نے کئی بار مطالعہ کیا ہے۔ جن کا مفہوم یہ ہے”اے ایمان والو! یہ شراب اور جُوا اور بُت اور جوئے کے تیر (پانسے) سب ناپاک اور شیطان کی کارستانیاں ہیں۔سو بچو ان سے کہ تم فلاح پا جاؤ۔یہی تو چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے تمہارے درمیان عداوت اور بغض شراب اور جوئے کے ذریعے اور روک دے، تمہیں یادِ الٰہی اور نماز سے کیا تم ان چیزوں (اعمال) سے باز رہو گے؟“

اللہ تعالیٰ نے شراب کو شیطان کے گندے کاموں میں سے ایک کام قرار دیا ہے۔

یہ شراب کے حرام ہونے کا قطعی حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے اسی لئے اسے شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا یہ حکم رسول اکرمؐ پر نازل ہوا تو انہوں نے حکم دیا کہ مدینہ کے گلی کوچوں میں بلند آواز سے ان آیات کا اعلان کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کا شراب کے قطعی حرام ہونے کا حکم جب مسلمانوں تک پہنچا تو جن لوگوں کو شراب بہت پسند بھی تھی،انہوں نے گندے پانی کی طرح گلیوں میں بہا دی۔ یہ درست ہے کہ امریکہ میں شراب پر پابندی عائد کرنے کے بعد واپس بھی لے لی گئی تھی۔برطانیہ میں بھی کچھ عرصہ شراب پر پابندی تھی اور مگر پھر یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا،لیکن ایک اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرے میں ایک مسلمان کو کیسے زیب دیتا ہے کہ وہ یہ مطالبہ کرے کہ پاکستان میں بھی شراب پر پابندی ختم کی جائے۔ مَیں بڑے دُکھ اور افسوس کے ساتھ یہ لکھ رہا ہوں کہ ایک مسلمان کیسے اور کیوں کر یہ رائے دے سکتا ہے کہ امریکیوں نے شراب پر پابندی عائد کر کے اپنے معاشرے کو جہنم رسید کر لیا،کیونکہ شراب پر پابندی کے فائدے کم اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ شراب کو اُم الخبائث، تمام خرابیوں کی جڑ بھی قرار دیا ہے گیا ہے۔مَیں کیسے تسلیم کر لوں کہ شراب جو تمام خرابیوں کی جڑ ہے اُس پر پابندی عائد کر دی جائے تو معاشرہ جہنم رسید ہو جاتا ہے اور شراب پر پابندی ختم ہو جائے تو معاشرہ جنت مثال بن جائے گا۔شراب انسان کی عقل کو سلب کر لیتی ہے، شراب ایک انسان کو انسان نہیں رہنے دیتی،بلکہ حیوان سے بھی بد تر بنا دیتی ہے۔شراب پینے والا اکثر اوقات اتنا پاگل ہو جاتا ہے کہ وہ باؤلے کتے کی طرح دوسرے انسانوں کو کاٹنے کے لئے دوڑتا ہے۔ایک شرابی کا کسی انسان کو ذلیل کرنا یا پھر خود ذلیل ہونا ایک معمولی بات ہے،کیونکہ شرابی آدمی کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے اور عزت اور بے عزتی کا فرق وہ محسوس ہی نہیں کرتا۔اسی وجہ سے شراب کتاب و سنت کی رُو سے بالکل حرام ہے اور ارشادِ نبویؐ ہے کہ شرابی کو کوڑے مارے جائیں۔

صحابہ کرامؓ کا بھی اجماع ہے کہ شراب پینے والے کو اسی کوڑے مارے جائیں۔ کیا قرآن و سنت اور اس کے بعد صحابہ کا جس حکم پر اجماع ہے اُس کو آج کوئی تبدیل کر سکتا ہے،جس شراب کو معاشرے کے لئے مضر ترین خرابیوں کے باعث اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے حرام قرار دے دیا ہو، اس شراب پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کوئی بدبخت شخص ہی کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول مکرم ؐ نے جو حکم صادر کر دیا ہو اُس سے نافرمانی کرنے والے شخص کا تو اسلام ہی سے رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ایک سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار بھی اخبارات میں کالم لکھتے ہیں۔ وہ کئی بار اپنے کالموں میں اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ ہندوؤں کے لئے بھی شراب کے حصول کے لئے جاری کئے گئے خصوصی ”اجازت نامے“ ختم کئے جائیں، کیونکہ ہندومذہب میں شراب نوشی کی اجازت نہیں ہے۔ڈاکٹر رمیش کمار ہندو ہوتے ہوئے بھی پاکستان میں شراب پر پابندی کے حمایتی ہیں،لیکن ایک مسلمان کالم نگار شراب پر پابندی کو معاشرے کو جہنم رسید کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔

یہ دلیل بھی کتنی بھونڈی اور ناقص ہے کہ شراب پر پابندی کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں ہیروئن اور آئس کے نشوں کا استعمال عام ہُوا ہے،اِس لئے شراب پر پابندی اُٹھا لی جائے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں بدقسمتی سے شراب پر بھی پابندی برائے نام ہے۔ہر شرابی کے لئے پاکستان میں شراب دستیاب ہے۔اسی طرح ہیروئن،چرس اور آئس بھی سب کے لئے میسر ہے۔اس کی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے ایمانی اور بددیانتی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ افراد(افسر اور اہلکار) اگر اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دینے کا پختہ عزم وارادہ کر لیں اور ان اداروں سے رشوت کی لعنت ختم ہو جائے تو پاکستانی معاشرے کو شراب،ہیروئن، چرس اور آئس یا دیگر جتنے بھی نشے ہیں، سے پاک کیا جا سکتا ہے۔حیرت ہے کہ جن کو پینے کے لئے روز بِلا روک ٹوک شراب ملتی ہے وہ بھی شراب پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دراصل یہ لوگ ملک کے ہر شہر، گلی کوچوں میں برطانیہ اور امریکہ کی طرح کھلے عام شراب خانوں پر شراب بکتی ہوئی دیکھنا چاہتے ہیں کہ اسی طرح ان کی مردود روحوں کو سکون ملتا ہے، لیکن ایک چیز جو حرام ہے، اللہ اور رسولؐ کے احکامات کے خلاف ہے، غیر مباح،پلید، نجس اور ناپاک ہے، اُس پر پابندی ختم کرنے کے مطالبہ کو جائز اور درست کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔کیا معاشرے سے جنسی جرائم اور فحاشی و عریانی کے خاتمہ کے لئے یہ نسخہ درست قرار دیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف بازارِ حُسن پر ہر طرح کی پابندی ختم ہونی چاہئے،بلکہ زنا و بدکاری کو قانونی تحفظ دے کر ملک میں کئی نئے بازار حُسن قائم کئے جائیں اس طرح ملک سے جنسی جرائم اور ہرطرح کی اخلاقی باختگی ختم ہو جائے گی۔ اس طرح کا مطالبہ کوئی پاگل،فاتر العقل اور احمق شخص ہی کر سکتا ہے۔شراب پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ اور وہ بھی ریاست مدینہ قائم کرنے کے ”علمبردار“ حکمرانوں سے۔اور ان کے حامیوں کی طرف سے بوالعجبی ہے۔اس کے بعد زنا و بدکاری کو قانونی طور پر جائز قرار دینے کا مطالبہ کرنے والے کسی پاگل شخص کا ہمارے ملک میں پیدا ہونا کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہو گی۔

مزید : رائے /کالم


loading...