عمران خان کو کسی صورت این آر او نہیں دوں گا ,اگر ہمارا راستہ روکا گیا تو کسی حکومت کو بھی چلنے نہیں دیں گے:مولانا فضل الرحمن

عمران خان کو کسی صورت این آر او نہیں دوں گا ,اگر ہمارا راستہ روکا گیا تو کسی ...
عمران خان کو کسی صورت این آر او نہیں دوں گا ,اگر ہمارا راستہ روکا گیا تو کسی حکومت کو بھی چلنے نہیں دیں گے:مولانا فضل الرحمن

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران خان کو کسی صورت این آر او نہیں دوں گا،ہم ٹی وی اور میڈیا کے تبصروں سے مرعوب نہیں ہونے والے،ہمارا کسی ادارے سے تصادم  کا ارادہ نہیں ہے،آزادی مارچ پر امن ہو گا ،کوئی بھی مسلمان عقیدہ ختم نبوت ﷺ  پر کسی قسم کی نرمی نہیں برت سکتا،جمعیت علماء اسلام ایک مضبوط سیاسی قوت ہے، اگر ہمارا راستہ روکا گیا تو کسی حکومت کو بھی چلنے نہیں دیں گے۔

نجی ٹی وی کے مطابق لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہہم ابھی آزادی مارچ کی تاریخ کا تعین نہیں کر سکے لیکن ایک دو روز میں آزادی مارچ کی تاریخ کا تعین ہو جائے گا ، امید ہے حزب اختلاف کی جماعتیں آزادی مارچ میں ہمارا ساتھ دیں گی،اگر کوئی ہمارا ساتھ نہیں بھی دے گا تو ہم اس سے پہلے بھی 15 ملین مارچ کر چکے ہیں اور یہ آزادی مارچ بھی اکیلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم دیگرسیاسی جماعتوں نے ہم سے جو معاہدہ کیا تھا،اُنہیں اس پر عمل کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ  آئین،اسلامی دفعات،بدامنی،مہنگائی اور عوام کے دیگر مسائل کیخلاف مارچ کر رہے ہیں،آزادی مارچ میں یہ  سارے موضوعات آتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمارا کسی بھی ادارے کیساتھ تصادم نہیں ہے،آزادی مارچ کے سلسلے میں عوام ہم سےبہت آگےہیں،کوئی بھی مسلمان عقیدہ ختم نبوتﷺ پر کسی قسم کی نرمی نہیں برت سکتا،ٹی وی کے پروپیگنڈوں کا شکار مت ہوں، یہ وقت استقامت کا متقاضی ہے،ہم ٹی وی اور میڈیا کے تبصروں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ایک مضبوط سیاسی قوت ہے، اگر ہمارا راستہ روکا گیا تو کسی حکومت کو بھی چلنے نہیں دیں گے،آج ملک میں ہر طبقہ بے چین ہے،انسانی حقوق کے ادارے بھی پریشان ہیں، نوجوانون کو نوکریوں کا وعدہ کرکے بے روزگار کردیا گیا،پاکستان کی موجودہ حکومت نے گزشتہ تمام حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیئے، قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ہوچکا، آج ملک میں کاروباری طبقہ عدم اطمینان کا شکار ہے،سرمایہ سمٹ چکا،کوئی بندہ سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ کرتارپورہ کوریڈور کو کھول کر سکھوں کو راستہ فراہم کیا جارہا ہے، افغانستان قبائل کو راستہ فراہم کررہا ہے، یہ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے؟ جعلی وزیراعظم ایران میں جاکر اس بات کااعترافی بیان دے رہا ہے کہ ہاں ہمارا ملک دہشتگردی میں ملوث ہے، آج کا جعلی وزیراعظم وعدہ معاف گواہ بن چکا،پوری دنیا میں قادیانی نیٹ ورک متحرک ہوا اور پاکستان سے امیدیں وابستہ کرلی گئیں،صاف کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے گھناؤ نے اقدام کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، آج جمہوریت پسند اور مذہب پسند طبقہ خدشات کا شکار ہے ،ہم تمام طبقات کی آواز بن کر آرہے ہیں، ہم عام آدمی کے حقوق کی خاطر لڑ رہے ہیں ،عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہوچکا ،اگر آج ہم میدان میں آئے ہیں تو آئین اور قانون کے دائرہ میں رہ کر کام کررہے ہیں ،مذہب لاوارث نہیں ہم تنہا نہیں،قوم ہمارے ساتھ ہے ،آج چائنہ جیسا دوست ملک ہم سے ناراض ہوچکا،ایران سے بھی تعلقات کچھ اچھے نہیں، اسرائیل سے دوستی کی فکر ہے اور اسے تسلیم کرنے کی باتیں جاری ہیں کسی بھی ملک کو تسلیم کرنے کا تعلق اس سے وجود سے ہوتا ہے اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطین کے قبضے کوتسلیم کرنے کے مترادف ہے، جعلی وزیراعظم نے آزادکشمیر میں سرکاری ملازمین کو جمع کرکے جلسہ کیا جسے وہاں کی عوام نے مسترد کیا،ہم نے آزاد کشمیر میں جلسہ کیا اور ثابت کیا کہ ہم حقیقی عوام کے ترجمان ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا آزادی مارچ کسی قسم کے تصادم کیلئے نہیں ،ہم پرامن لوگ ہیں، اس ملک کو مزید تباہ ہوتا نہیں دیکھ سکتے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...