ڈاکٹر حسین محی الدین کا ”نقشِ اوّل“

ڈاکٹر حسین محی الدین کا ”نقشِ اوّل“
ڈاکٹر حسین محی الدین کا ”نقشِ اوّل“

  


اگلی نسلوں کے تجربے کا حاصل یہ ہے کہ برگد کے سائے میں برگد نہیں اُگ سکتا لیکن کبھی کبھی تجربات غلط بھی ثابت ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری برگد کے سائے میں اُگنے والا ایک برگد ہے۔ وہ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کے فرزندِ ارج مند ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے پہلے مذہبی علما پر اپنی دھاک بٹھائی۔ تقریریں کیں۔ کتابیں لکھیں۔ مذہبی کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو یکجا اور یک سُو کیا۔ تعلیمی ادارے قائم کیے۔اس کے بعد انہوں نے سیاست کے کارزار میں قدم رکھا۔ ایک بار ایم این اے بھی بنے۔ اگرچہ ان کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے لوگ کامیابی حاصل نہ کر سکے، لیکن اس کے باوجود انھوں نے سیاست سے تعلق رکھنے والی ایک بہت بڑی تعداد کو متاثر کیا۔ لاکھوں لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ مانتے ہیں اور ان کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے احتجاجی سیاست میں خوب نام کمایا۔ ان کے دھرنے سے ایوان ہائے اقتدار کے در و دیوار لرزتے رہے۔ اب جب کہ چار دانگِ عالم اُن کا شُہرہ ہے، پاکستانی عوام ڈاکٹر طاہر القادری سے توقع کر رہے تھے کہ موجودہ عمرانی حکومت میں بھی وہ عوام کے مسائل کو لے کر سرِ میدان نکلیں گے لیکن انھوں نے تو سیاست چھوڑنے کا اعلان ہی کر دیا…… بہرحال یہ ڈاکٹر صاحب کا ذاتی فیصلہ ہے اور اس میں بھی ان کی کوئی مصلحت ہو گی۔ کیونکہ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ عالم کی خاموشی، نعرۂ مستانہ سے کم نہیں ہوتی۔ اس عرصہ ء خاموشی میں، ممکن ہے کہ ڈاکٹر صاحب اپنے ادھورے علمی منصوبوں پر کام کرنا چاہتے ہوں۔ یہ تو تھی ایک گھنے اور قدیم برگد کی۔ اس برگد کے سائے میں اُگنے والے برگد کی بھی سُن لیجیے، نام جس کا ڈاکٹر حسین محی الدین قادری ہے۔

چند روز پہلے ادارہ منہاج القرآن کے میڈیا ڈائریکٹر اور میرے دیرینہ دوست اور صحافی نور اللہ صدیقی کا فون آیا۔ کہنے لگے کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے چھوٹے بیٹے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری صاحب ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ انھوں نے احباب سے ملاقات کے لیے ایک عشائیے کا اہتمام کیا ہے اور انھوں نے آپ سے خاص طور پر ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے تو میں نے سوچا:

کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ!

غالب کے نام سے شہرت پانے والے اسد اللہ خان بھی یاد آئے جنھوں نے کہا تھا:

اَسد خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے

میں نے اپنے ذہن پر ذرا زور دیا کہ میں نے ایسا کون سا علمی یا ادبی کارنامہ انجام دیا ہے کہ نہایت کم عمری ہی میں بہت سی کتابیں لکھنے اور تحقیق کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے ڈاکٹر حسین محی الدین نے مجھے یاد کیا ہے۔ تب یاد آیا کہ ڈاکٹر حسین محی الدین کو میں نے پہلی بار دس پندرہ سال پہلے پی ٹی وی کے ایک مشاعرے کی ریکارڈنگ کے دوران میں دیکھا تھا۔ انھوں نے نہایت اعتماد سے اپنا کلام پڑھا تھا۔ ہمارے کئی شاعر پوچھتے رہ گئے کہ حسین محی الدین کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اب حسین محی الدین قادری سے ملاقات ہوئی تو پتا چلا کہ انھوں نے پی ایچ ڈی کر لی ہے اور تقریباً پندرہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ اسی ملاقات میں انھوں نے بکمالِ مہربانی مجھے اپنا پہلا شعری مجموعہ ”نقشِ اول“ عطا کیا۔ کتاب کا نام رکھنے میں ڈاکٹر صاحب نے قدرے انکسار سے کام لیا ہے۔ فکری سطح پر یہ ایک نہایت مضبوط کتاب ہے۔ ایک ایک مصرع بتاتا ہے کہ اس کا خالق راست فکر آدمی ہے۔ دل میں قوم کا درد رکھتا ہے اور بہت صاحبِ مطالعہ بھی ہے۔ کتاب کا آغاز انھوں نے میر تقی میر کے اس شعر سے کیا ہے:

مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے

درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا

کتاب کے انتساب میں شاعر کی سعادت مندی ملاحظہ کیجیے:

”سیدی و مرشدی، مجددِ دوراں حضور شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ، کے نام، جن کے فیضانِ کرم سے نہ صرف میری ظاہری و باطنی پرورش ہو رہی ہے بلکہ زیرِ نظر مجموعہ ء کلام قابلِ اشاعت ہوا ہے“۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے نہایت فخر سے لکھا ہے کہ اس کتاب پر نظرثانی نعت کے ممتاز شاعر ریاض حسین چودھری اور جناب ضیاء نیّر نے ڈالی ہے۔ اس کتاب میں ان کا وہ کلام شامل ہے جو انھوں نے تیرہ سے انیس سال کی عمر کے دوران میں کہا۔

جہاں اس کتاب میں فکری رنگارنگی دکھائی دیتی ہے وہاں اس میں اصناف کا تنوع بھی نظر آتا ہے۔ ”نقشِ اول“ میں حمد، نعت، مناقب، تحسینی نظمیں، موضوعاتی نظمیں، آزاد نظمیں، نثری نظمیں، غزلیں، قطعات اور فردیات شامل ہیں۔ یہ تنوع بتاتا ہے کہ حسین محی الدین ایک فطری شاعر ہیں۔ ان کے اندر نادر افکار و خیالات کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے جو ہر دم بہنا چاہتا ہے۔ ان کے بحر کی موجوں میں اضطراب ہی اضطراب ہے۔ وہ ابھی بہت کچھ کہیں گے اور فن کی پختگی کے بھی بہت سے مراحل طے کریں گے۔ ان کی ایک نظم ”بِِیتے دِنوں کی یاد“پڑھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے اندر کتنا تخلیقی وفور ہے۔ ان اشعار میں انھوں نے ٹورانٹو میں گزرے دنوں کو یاد کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ بھی یہ شعر ملاحظہ کیجیے اور سر دُھنیے:

آنکھوں میں اچانک یوں یہ کیسی نمی آئی

لگتا ہے کوئی ٹہنی، پھر یاد کی لہرائی

…………………………

اک قربتِ جاناں تھی اور لذّت الفت بھی

یکدم ہی مقدر میں، لکھی گئی تنہائی

…………………………

سوچا نہ کبھی میں نے یہ وقت بھی آئے گا

تنہائی کی راتوں سے یوں ہو گی شناسائی

…………………………

کیا محفلِ دلبر تھی! کیا حُسن کے جلوے تھے

بجتی ہے سماعت میں، ہر لمحہ وہ شہنائی

…………………………

دن رات بدلتے ہیں، سب لوگ بدلتے ہیں

پھر رنگِ زمانہ سے کیوں آنکھ ہے بھر آئی

…………………………

لاہور کی مٹی سے، کیا کیا ہے سحر پُھوٹی

اب مٹی کی خوشبو بھی سانسوں میں اُتر آئی

…………………………

ان کی غزلوں کے جو اشعار مجھے پسند آئے۔ وہ بھی پڑھ لیجیے:

دستِ یزید میں مجھے خنجر دکھائی دے

ہر سمت ایک پیاس کا لشکر دکھائی دے

…………………………

سب عقل کے ہیں بندے، ہم عشق کے مسافر

واعظ کو جا کے اپنا، کیا حالِ دل بتائیں

…………………………

رات رلانے آ جاتی ہے

یاد ستانے آ جاتی ہے

آنکھ کسی کی دیوانوں کو

جام پلانے آ جاتی ہے

بادِ صبا ہر پھول کو اپنا

حال سنانے آ جاتی ہے

…………………………

ساقی سنبھل کے چلنا، ساغر نہ ٹُوٹ جائے

رکھنا خیال کوئی مَے کش نہ روٹھ جائے

…………………………

آنکھوں میں اب کیا رکھّا ہے

آنسو ایک چھپا رکھّا ہے

دل بھی خالی، ہاتھ بھی خالی

کیسا شور مچا رکھا ہے

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری سے اپنی پہلی تفصیلی ملاقات کو بھی میں فی الحال مختصر سمجھتا ہوں۔ ان کی شخصیت کے بہت سے پوشیدہ گوشے تاحال آشکار ہونا باقی ہیں۔ یار زندہ صحبت باقی!

مزید : رائے /کالم


loading...