شادی بیاہ کا سیزن شروع، دُلہنوں کا بناؤ سنگھار!

شادی بیاہ کا سیزن شروع، دُلہنوں کا بناؤ سنگھار!

  

کورونا وائرس کی وبا میں کمی کے باعث سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے ساتھ دیگر کاروباری ادارے بھی فعال ہو گئے ہیں۔ اگرچہ احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز کا دھیان رکھنا، اس فعالیت کی سب سے اہم وجہ اور ضرورت ہے۔ ریستوران آہستہ آہستہ پہلے جیسی گہما گہمی سے ہمکنا شروع ہوئے ہیں۔ شادی گھر البتہ اُس رونق سے محروم ہیں،جو ان کے ہاں منعقد ہونے والی تقریبات کا خاصہ ہوتی تھی۔ بہرحال شادیوں کا موسم شروع ہے اور بیوٹی پارلرز میں خواتین اور لڑکیوں کی آمدورفت جاری و ساری ہے۔ دُلہنیں روایتی اور جدید میک اَپ سے استفادہ کر رہی ہیں۔ شادی کے پہناووں کے لئے لباس کی تراش خراش کرنے والے لوگ اور درزی حضرات اپنے علم و ہنر کو گاہکوں کی خواہشات کے عین مطابق استعمال میں لا رہے ہیں۔آج کل کی دُلہن اپنے لباس اور میک اَپ کے حوالے سے زیادہ حساس واقع ہوئی ہے۔ سوہے جوڑے اب ناولوں اور افسانوں تک محدود ہو گئے ہیں۔

گو شادی کی تقریبات میں پہلے جیسی بھرپور خوشیوں کا اظہار کم دکھائی دیتا ہے کہ کورونا کی دہشت ہنوز کم نہیں ہوئی، تاہم ہمارے ملک پاکستان پر رَبِ رحیم کا خاص کرم ہے کہ وبا کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے،ورنہ بھارت اور امریکہ میں اس مرض نے خوف کے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں۔

بات ہو رہی تھی، شادی کی تقریبات اور دُلہنوں کی تیاری کی۔ زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ سماج و معاشرے میں حیران کن تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں،لیکن شادی ایک ایسی تقریب ہے جس کے قواعد و رسوم تواتر سے تقریباً ایک جیسے چلے آ رہے ہیں۔ بس اتنا اضافہ ہوا ہے کہ دُلہن اور دولہا کی آمد پر ہال کی روشنیاں کچھ لمحوں کے لئے دھیمی کر دی جاتی ہیں اور صرف کیمروں کی روشنی اور ڈرون کی آواز دولہا اور دلہن اپنی جائے نشست کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بیٹھتے ہی سارا ہال روشنی سے منور ہو جاتا ہے۔ شادی کا فوٹو شوٹ بھی سٹوڈیو کے بجائے اس ہال ہی کے کسی مخصوص سجے سجائے کونے میں تکمیل پاتا ہے۔

دلہنیں ابھی وزنی لباس اور بھاری میک اپ سے اجتناب کر رہی ہیں،کیونکہ گرم و مرطوب موسم کی سختی ابھی تک موجود ہے۔ لباس اگرچہ آرام دہ ہوتے ہیں اور ان کا رنگ اور ڈیزائن بھی چیختا دھاڑتا نہیں ہوتا، پھر بھی ان کا سنبھالنا ایک دِقت طلب مسئلہ ضرور ہے۔ تاہم یہ ایک ایسی روایت ہے کہ جس سے پہلو تہی کرنا ممکن نہیں۔دُنیا کے تقریباً ہر معاشرے میں دُلہن کا لباس اور میک اَپ، شادی والے دن،خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ہر دُلہن کی آرزو ہوتی ہے کہ اپنی رخصتی کے وقت لباس اور میک اَپ کے لحاظ سے وہ اپنے بہترین دکھاوے میں منفرد نظر آئے۔اِس لئے درزی اور بیوٹی پارلر کے انتخاب میں کسی کم تر ہنر مند پر سمجھوتہ نہیں کرتی۔ اس بارے میں امیر،متوسط اور غریب گھرانوں میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔ ہر ایک خاندان اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتا ہے اور اِس بات پر یکسر دھیان نہیں دیتا کہ زندگی کے امور پر آسانیاں پیدا کرنا چاہئیں۔

دُلہن شادی والے دن بہترین میک اپ کی آرزو مند ہوتی ہے،اِس لئے وہ ایسے بیوٹی پارلر کا انتخاب کرتی ہے جو اس کے چہرے کی ساخت اور رنگت کے مطابق میک اپ کرے اور بالوں کے سٹائل کو اس کی شخصیت کے عین مطابق ترتیب دے۔ بھاری اور گہرا میک اپ عموماً چہرے کی اصل چمک دمک کو چھپا لیتا ہے اور دیکھنے والے پر ایک عجیب سا تاثر چھوڑتا ہے۔اس کے برعکس ہلکا اور چہرے سے میل کھانے والا میک اپ شخصیت کو نکھارتا اور جاذبِ نظر بناتا ہے۔میک اپ ایسا ہونا چاہئے کہ اس کے اُترنے کے بعد بھی چہرے کی شگفتگی برقرار رہے۔اسی طرح عروسی پہناوا میک اپ سے میل کھانا چاہئے۔ لباس ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ شخصیت کو دبا دے۔

بہرحال شادی کی تقریبات میں،موسم بدلنے کے ساتھ ہی، اضافہ ہوتا جائے گا۔ شادی گھروں پر لازم ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز کا بطورِ خاص خیال رکھیں۔ شادی گھروں کی احتیاط ہی کے باعث کورونا کی وبا کا خطرہ دور رہے گا اور ایک نیا خاندان محفوظ فضا میں اپنی نئی زندگی کی شروعات کر سکے گا۔عورت اور ماں ہونے کے ناطے مَیں دولہا اور دلہن کے ارمانوں سے بخوبی آگاہ ہوں۔ سبھی ماں باپ چاہتے ہیں کہ اُن کے بچوں کی شادی کی تقریب ہمیشہ یاد رہ جانے والے واقعات کا حصہ بنے،اِس لئے بیٹے اور بیٹی کی خوشی کی خاطر وہ خود کو غیر ضروری مسائل اور تکلفات میں الجھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔شادی کی تقریب بہرحال ایک غیر معمولی تقریب ہے اور غیر معمولی تقریب کے لئے تکلیف تو اٹھانا پڑتی ہے۔

دیسی کیلنڈر کے حساب سے یہ مہینہ اسوج کا ہے۔ صبح گرمی اور رات کو موسم معتدل۔ اسلامی مہینہ صفر المظفر شروع ہو چکا ہے۔ ستمبر کے مہینے کا آخری عشرہ ہے۔لوگوں کی سماجی سرگرمیوں میں ابھی زور پیدا نہیں ہوا،لیکن اکتوبر میں جونہی موسم بدلا، معاشرتی گہما گہمی اپنے زور و شور سے شروع ہو جائے گی۔ ایسے میں شادی کی تقریبات قابل ِ دید ہوں گی۔وہ خاندان یقینا سُکھ کا سانس لیں گے جو اس اہم سماجی فریضہ سے سبکدوش ہونے کے لئے تیاریاں کئے بیٹھے ہیں۔دُعا ہے کہ رَبِ کریم ان خاندانوں کو خوشیوں اور راحتوں سے نوازے اور شادی کی تقریبات کو اپنے فضل و کرم سے بہ احسن و خوبی تمام فرمائے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -