اپوزیشن جماعتوں کا نیا سیاسی اتحاد

  اپوزیشن جماعتوں کا نیا سیاسی اتحاد

  

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“ کے نام سے سیاسی جماعتوں کا نیا اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو حکومت کے خلاف مرحلہ وار تحریک چلائے گا، اپوزیشن کے پلان آف ایکشن کے مطابق حکومت مخالف تحریک میں وکلاء، تاجر، کسان عوام اور سول سوسائٹی کو شامل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں آئندہ ماہ چاروں صوبوں میں مشترکہ جلسے اور ریلیاں ہوں گی۔ دوسرے مرحلے میں دسمبر سے احتجاجی مظاہرے اور ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔نئے سال کے آغاز میں یعنی جنوری 2021ء کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہو گا حکومت کی تبدیلی کے لئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام آپشنز استعمال کئے جائیں گے۔ پروگرام میں عدم اعتماد کی تحاریک اور اجتماعی استعفے بھی شامل ہیں۔ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے گی جو عدم اعتماد اور اجتماعی استعفوں کے معاملے پر لائحہ عمل وضع کرے گی۔ اے پی سی میں جو 26نکاتی قرارداد منظور کی گئی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں شفاف، آزادانہ، غیر جانبدارانہ انتخابات کرائے جائیں۔اپوزیشن کے یہ تمام اقدامات اسی صورت میں روبعمل آئیں گے اگر وزیراعظم مطالبے کے مطابق مستعفی نہیں ہوتے۔ حکومت نے اے پی سی کو ”چوروں کا اکٹھ“ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کرپٹ مافیا اکٹھا ہو گیا ہے کسی کو رعایت نہیں ملے گی نہ کسی کو این آر او دیا جائے گا۔ وفاقی وزراء اور حکومتی شخصیات کا کہنا ہے کہ اگر سارے چور اکٹھے ہو جائیں تو سمجھو ”ایمان دار تھانیدار“ آ گیا۔ سابق وزیراعظم نوازشریف بیرون ملک بیٹھ کر قانون کا منہ چڑا رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم پہلے سے صحت مند، ہشاش بشاش لگے۔ نواز، زرداری بے نقاب ہو گئے، واویلا کرپشن چھپانے کے لئے ہے، اربوں لوٹنے والے اکٹھے ہوئے۔

حکومت تو اس کانفرنس کو انعقاد سے پہلے ہی ناکام قرار دے چکی تھی، ابھی کانفرنس کی تاریخ بھی طے نہیں ہوئی تھی اور ایجنڈے پر تبادلہء خیال جاری تھا کہ پیش گوئیوں کے ”ماہرین“ کہہ رہے تھے کہ یہ کانفرنس تو ہو ہی نہیں سکے گی، جب کانفرنس کچھ دن کے لئے آگے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو کہا گیا دیکھو، ہم نہ کہتے تھے کہ یہ کانفرنس نہیں ہو سکتی، ان تمام تر تبصروں کے باوجود کانفرنس نہ صرف منعقد ہو گئی ہے بلکہ ایک نیا سیاسی اتحاد بھی بن گیا ہے جس کے تحت حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے جس کا آخری مرحلہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہو گا جو نئے سال کے آغاز میں ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ اکتوبر سے دسمبر تک تین مہینے اہم ہیں۔ کانفرنس میں جو فیصلے کئے گئے ہیں لگتا ہے ان پر سوچ بچار کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا ورنہ چند گھنٹے کی کانفرنس میں تو ایسے تمام فیصلے نہیں کئے جا سکتے۔ کانفرنس کی سب سے اہم ”آئٹم“ سابق وزیراعظم نوازشریف کا خطاب ہے، انہوں نے تو جو کچھ کہا وہ سب لوگوں نے سن لیا وہ اپنا مدعا بیان کرنے اور عوام تک پہنچانے میں کامیاب رہے اس پر خود مسلم لیگی  حلقوں میں بھی غور و خوض جاری ہے لیکن حکومت کے نمائندے اس خطاب پر جس انداز کی حاشیہ آرائی کر رہے ہیں اور جس جس طرح تشریحات کے ذریعے وہ حجابات بھی الٹے جا رہے ہیں جنہیں نوازشریف نے اپنے خطاب میں نہیں اٹھایا تھا اس طرح تو حکومت کے نادان دوست خود نوازشریف کا پیغام عام کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس تقریر میں نوازشریف نے کوئی ایسی بات بھی نہیں کہی جو وہ کسی نہ کسی انداز میں پہلے نہ کہہ چکے ہوں خاص طور پر اپنی حکومت کی برطرفی کے بعد انہوں نے ”ووٹ کو عزت دو“ کا جو نعرہ اپنایا تھا تقریر سے لگتا ہے کہ وہ اب تک اس پر قائم ہیں اور خطاب کا موقع ملتے ہی انہوں نے اسے نپے تلے الفاظ میں دہرا دیا ہے۔ کچھ عرصے سے لگتا تھا کہ یہ نعرہ پس منظر میں چلا گیا ہے  اور کہا جا رہا تھا کہ شاید انہوں نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا ہے اور ان کی پارٹی میں ”اعتدال پسند“ چھا گئے ہیں لیکن اب واضح ہو گیا کہ وہ نہ صرف اپنی رائے پر قائم ہیں بلکہ اپنے اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ ان کو شدید نکتہ چینی کا ہدف بھی بنایا جا رہا ہے  اور کئی مبصرین اس کے منفی اثرات کا بڑے شد و مد سے ذکر کررہے ہیں لیکن یہ بحث تو ایسی ہے جو جاری رہے گی۔اس خطاب کو براہ راست آن ائر جانے سے روکنے کے لئے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے جو تجاویز پیش کی تھیں اطلاعات کے مطابق ان کی پذیرائی نہیں ہوئی اور وزیراعظم عمران خان نے خطاب کو روکنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو جھوٹ سن کر خود فیصلہ کرنے دیں، یہ مثبت اور صائب سوچ ہے، نوازشریف کا خطاب جن لوگوں نے سنا اور جو آئندہ سنتے رہیں گے وہ خود ہی فیصلہ کرلیں گے کہ انہوں نے کیا غلط کہا ہے اور کیا صحیح۔ وزیراعظم اگر اس خطاب کو روکنے کا فیصلہ کرتے تو بھی اس نے کسی نہ کسی طرح لوگوں تک پہنچ ہی جانا تھا اس لئے انہوں نے اپنے مشیروں کی رائے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے جو فیصلہ کیا وہی مناسب تھا ۔

پاکستان میں سیاسی اتحادوں کی تشکیل کوئی اچنبھے کی بات نہیں، ماضی میں بھی حکومتوں کے خلاف ایسے سیاسی اتحاد بنتے رہے ہیں جن کے پلیٹ فارموں سے حکومتوں کے مخالف تحریکیں چلیں اور کئی پہلوؤں سے کامیاب بھی رہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جو جماعتیں تحریک چلائیں، کامیابی کا پھل بھی ان کی جھولی میں گرے یا کسی تحریک کے نتائج محرکین کے حسب منشا نکلیں، کبھی کبھار سیاست میں وہ لوگ بھی منزل پا لیتے ہیں جو شریک سفر نہیں ہوتے لیکن تحریکیں محض اس خدشے کی وجہ سے تو نہیں رُکتیں کہ ان کا نتیجہ حسب منشا نہیں نکلے گا، اس لئے اگر یہ نیا سیاسی اتحاد بھی اپنے مقاصد میں پوری طرح کامیاب نہیں بھی ہوتا تو بھی اس نے جس منزل کی جانب سفر شروع کر دیا ہے وہ بالکل ناکام و نامراد بھی نہیں ہو گا۔سیاست پر اس کے اثرات لازماً مرتب ہوں گے احتساب کے نام پر  سیاستدانوں کو دیوار سے لگانے کا جو عمل کچھ عرصے سے جاری ہے اب اس کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی ہو جائیں گی اور یک طرفہ ٹریفک کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا، کوئی اس اے پی سی کو بھلے سے جتنا بھی ناکام کہے اس نے اپنا جو لائحہ عمل مرتب کر لیا ہے وہ نتائج ضرور مرتب کرے گا۔ جو لوگ دو ہفتے پہلے ہی اس کانفرنس کو ”ٹائیں ٹائیں فش“ قرار دے رہے تھے اب ان کا خیال ہے کہ 2023ء تک ایسی بہت سی کانفرنسیں ہوں گی لیکن یہ حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، یہی اس کانفرنس کی کامیابی ہے کہ اس کے انعقاد کو غیر ممکن سمجھنے والے اب خود ہی ایسی بہت سی کانفرنسوں کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -