کورونا: کارکردگی کے شوق میں جعلی ڈیٹا اپ لوڈ

کورونا: کارکردگی کے شوق میں جعلی ڈیٹا اپ لوڈ

  

کورونا وائرس کے حوالے سے کارکردگی بہتر بنانے کے لئے جعلی ڈیٹا اپ لوڈ کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ یوں یہ شبہ ہوا کہ جو اعداد و شمار عوام تک پہنچتے ہیں ان میں مبینہ طور پر غلط بیانی ہوتی ہے، یہ شکائت لاہور سے ملی کہ 8ٹاؤنز کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر صاحبان نے اگست میں ایک ہفتہ کا جعلی ڈیٹا اپ لوڈ کیا۔ اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاکہ یہ معلوم ہو کہ ایسا اور کہاں کہاں ہوا کہ اس طرح کورونا کے بارے میں این سی او سی کا جاری ڈیٹا بھی مشکوک ہو جاتا ہے۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق راوی ٹاؤن، کینٹ ٹاؤن، علامہ اقبال ٹاؤن، گلبرگ ٹاؤن، عزیز بھٹی ٹاؤن، نشتر ٹاؤن، شالامار ٹاؤن اور واہگہ ٹاؤن کی طرف سے 23اگست تا 31 اگست کا ڈیٹا جعلی اپ لوٹ کیا گیا۔ دریں اثناء این سی او سی کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔  اگرچہ مجموعی متاثرین کی تعداد 3لاکھ 5ہزار 671 تھی، ان میں سے 2لاکھ 92ہزار 303 صحت یاب بھی ہو چکے اور اس وقت فعال کیسوں کی تعداد 6ہزار 952 ہو گئی ہے۔مذکورہ  خبر اور انتظامیہ کی طرف سے تحقیقات شروع ہونے کے بعد عوامی سطح پر جو بے احتیاطی جاری ہے، اس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ خود قومی ادارے کو بھی حقیقی صورت حال سے بے خبر رکھنے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب ان سنجیدہ فکر طبقات کی تشویش میں اضافہ کرتا ہے جو ملکی صورت حال کے باعث اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ بہتر حالات پھر سے خراب نہ ہوجائیں، اب این سی او سی کا فرض ہے کہ وہ ان اطلاعات اور تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں مزید احتیاط اور حفاظتی اقدامات پر عمل درآمدکی بھرپور سعی کرے کہ بہتر ہوتی صورت حال خراب نہ ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -