راضی نامے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے

راضی نامے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے
راضی نامے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے

  

موٹروے پر ایک محترم خاتون سے پیش آنے والا دلخراش سانحہ آج ہر فورم پر موضوع بحث ہے۔بلاشبہ اس دل دہلا دینے والے بھیانک اورسنگین سانحہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے،وہ کم ہے۔ میڈیا کی کوریج سے بظاہر لگتا ہے کہ اس سے قبل ایسا سنگین وقوعہ پہلے کبھی نہیں ہوا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اخبارات پر نظر دوڑائیں تو ایک سے بڑھ کر ایک سنگین واقعہ معمولی خبر وں میں کسی جگہ نظر آئے گا اور لگتا ہے جیسے یہ پاکستان کے معمولات کا ایک حصہ ہے۔ اس سانحہ کے ساتھ ہی کراچی کی صرف پانچ سالہ معصوم مروہ کے قتل کی خبر بھی سرخیوں کا حصہ ہے جسے دو درندوں نے زیادتی کے بعد قتل کیا ہے۔غور کریں تو سنگینی کے اعتبار سے یہ اس سانحہ سے بھی بڑا سانحہ ہے۔ بہاولپور کے علاقہ خیر پور ٹامیوالی کا سانحہ بھی کسی طرح ان دونوں سے کم نہیں جب کھیت میں کام کرنے والی ایک لڑکی لقمان نامی ایک درندے کے ہاتھوں عزت گنوا کر تھانے پہنچتی ہے تو اس کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا،مقدمے کے اندراج کے لئے اس کو بار بار چکر لگوائے جاتے رہے، راضی نامہ کے لئے کہا جاتا رہا۔ انصاف کی متلاشی انصاف کی دہائی دیتے دیتے، انصاف کے نام پر بننے والی حکومت کے دور میں اپنا مقدمہ اوپر لے جانے کے لئے زہر پینے پر مجبور ہو گئی۔ ایک اور سنگین واقعہ لاہور کالا شاہ کاکوکا ہے جہاں چار درندوں نے شوہر کو باندھ کراس کے سامنے اس کی بیوی سے زیادتی کی۔ایک خبر وہاڑی سے بھی آئی ہے جہاں ایک ذہنی معذور لڑکی سے اجتماعی زیادتی کرتے ہوئے پانچ ملزمان موقع پر ہی برہنہ حالت میں گرفتار کئے گئے ہیں۔ یہ ساری خبریں ایک ہفتے کی ہیں، ایسا نہیں ہے کہ ایسے واقعات کا سلسلہ اب شروع ہوا ہو بلکہ ایک سے بڑھ کر ایک سنگین واقعات کا نہ رکنے ولا سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب سے نام نہاد صلح یا راضی نامے والا قانون بنا ہے۔

دور کیوں جائیے، لنک موٹر وے واقعہ کے مرکزی ملزم عابد علی نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ایک جگہ ڈکیتی کی واردات کی اورڈکیتی کے دوران مرد کو باندھ کر اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی بیوی اور بیٹی سے باری باری زیادتی کی۔ذرا ایک منٹ رک کر غور کریں، اس سے زیادہ سنگین واقعہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ تینوں مجرم پکڑے گئے،کچھ دن اخبارات میں خوب شور اٹھا، وزیر اعلیٰ نے نوٹس لیا اورانصاف کی یقین دہانیاں کرائیں۔ ہونا تو چاہئے تھا کہ تینوں مجرموں کو پھانسی دی جاتی تاکہ آئندہ ان درندوں سے لوگ محفوظ ہوجاتے، لیکن ہوا کیا۔پولیس نے مجرموں سے ”مک مکا“ کر لیا اور مظلوموں کو صلح کے لئے مجبور کرنے لگے، کچھ نام نہاد سیاسی اور سماجی راہنما بھی چودھراہٹ چمکانے کے لئے بیچ میں آکودے اور راضی نامے کے لئے دباؤ ڈالنے لگے۔ مجرمین کے خاندان والے بھی مزید سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگے۔آخرکار مظلوموں نے راضی نامہ کیا اور مزید بدنامی سے بچنے کے لئے آبائی علاقہ چھوڑ کر دور کہیں جا بسے۔اب بھی عابد علی پر اٹھارہ مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہیں اور داد دیجئے اس نظام کی کہ مجرم سب مقدمات کو جوتے کی نوک پر رکھ کر مسلسل وارداتوں میں مصروف رہا۔اب ان صلح کرانے والوں سے پوچھا جانا چاہئے کہ تم نے بغیر اس گارنٹی کے کہ میں آئندہ کوئی جرم نہیں کروں گا،کیوں اس مجرم کی مدد کی۔

اس مجرم کی آئندہ وارداتوں میں آپ کو بھی کیوں نہ شامل سمجھا جائے۔اگر پہلی مرتبہ ہی یہ منحوس لوگ پھانسی چڑھ جاتے تو موٹر وے والا واقعہ بھی نہ ہوتا۔ سیالکوٹ کی ایک لڑکی کو اغوا کرکے دو ملزموں نے  اس سے زیادتی کی، خوب شور مچا،ایک ملزم کو کراچی ریلوے اسٹیشن سے پکڑا گیا، بی بی سی نے بھی اس واقعہ کی کوریج کی۔ تیسرے دن سیالکوٹ کی سبھی بڑی سڑکیں بند تھیں، کرفیو جیسا ماحول تھا، معلوم ہوا کہ وزیر اعلیٰ جناب شہباز شریف مظلومہ کو انصاف دلانے اس کی دہلیز پر تشریف لارہے ہیں۔ فوٹو کھینچے گئے۔ ٹی وی پر دکھایا گیا۔  جناب شہباز شریف واہ واہ کراکے واپس لوٹے۔ کچھ عرصہ بعدمعاملہ ٹھنڈا ہوا،مجرمین کی ضمانتیں ہوئیں اور انہوں نے اس لڑکی اور خاندان کا جینا حرام کردیا۔ تنگ آکر لڑکی نے عدالت میں ملزموں کو پہچاننے سے انکار کردیا اور یوں ملزم بری ہوگئے۔ قصہ مختصر، جب تک یہ راضی نامے والا قانون موجود ہے،جو مرضی کرلیں یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔ مظلوموں کو ڈبل سز املتی رہے گی، پہلے مجرم ان کے ساتھ زیادتی کریں گے،بدنامی ہو گی، وزیر اعلیٰ تشریف لائیں گے،مزید بدنامی ہو گی، علاقے میں جس کو نہیں پتہ اسکے علم میں بھی اضافہ ہو گا، پھر پولیس اور مجرم مشترکہ اتحاد بنا کر مظلوموں کو تنگ کریں گے، بیچ میں سیاسی راہنما بھی حب توفیق مجرمین کی مدد کریں گے۔

موجودہ نظام مکمل طور پر مجرموں کو سپورٹ کرتا ہے اسی لئے آئے دن اس قسم کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ یہ ملزم پہلے بھی تیس مرتبہ پکڑا گیا ہے۔ اجمل پہاڑی اور اس قسم کے درجنوں لوگ ہیں جنہوں نے سو،سو، قتل کئے ہوئے ہیں۔ سو جناب جب تک اس نظام کو پھانسی نہیں دیں گے ایسے جرائم ختم نہیں ہوں گے۔ اخلاقی جرائم میں بجائے مظلوم کے،ریاست کو مدعی بنانے کا قانون ہونا چاہئے تاکہ یہ راضی نامے والا سلسلہ ہی نہ ہو۔ جیسا کہ متعدد ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔ پولیس میں سیاسی بھرتیاں بند ہونی چاہئیں اور صرف میرٹ پر لوگ آگے آنے چاہئیں۔ معزز ترین ارکانِ پارلیمنٹ سے درخواست ہے کہ جس طرح آپ مراعات اور تنخواہیں بڑھانے کے سلسلے میں ایک ہو جاتے ہیں، نہ کوئی بندہ رہتا ہے اور نہ کوئی بندہ نواز،  نہ کوئی حزب اقتدار اور نہ کوئی اپوزیشن۔ا س معاملے میں بھی اسی یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور ریاست کو مدعی بنانے کا قانون منظور کرائیں۔                  

مزید :

رائے -کالم -