سانحہ موٹر وے کا سبق 

سانحہ موٹر وے کا سبق 
سانحہ موٹر وے کا سبق 

  

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے زیادتی کی واردات دل خراش اور پریشان کن ہے جس نے پوری قوم کو انتہائی غم زدہ کر دیا ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ موٹروے جیسی سڑک پر بھی ایسی واردات پیش آ سکتی ہے۔ ایک خاتون اپنے بچوں کے ساتھ رات کو گوجرانوالہ کے لئے روانہ ہوتی ہے اور ٹول پلازہ پر ٹیکس دینے کے کچھ ہی دیر بعد، گجرپورہ کے علاقے کے قریب ان کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو جاتا ہے اور وہ گاڑی سائیڈ پر لگا لیتی ہیں۔ تقریباً رات ڈیڑھ بجے کے قریب، خاتون موٹروے ہیلپ لائن پر فون کرتی ہے اور انہیں بتاتی ہے کہ مَیں دو چھوٹے بچوں کے ساتھ ہوں اور میری گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا ہے، ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ جواب میں آپریٹر کہتا ہے:یہ موٹروے ہماری حدود میں نہیں، ابھی موٹروے پولیس نے اس حصے کا کنٹرول نہیں سنبھالا، آپ فلاں نمبر پر کال کریں۔ خاتون نے اپنے رشتے داروں کو کال کر کے حالات کا بتادیا اور وہاں سے اس کے عزیز روانہ ہوگئے، اتنے میں دو مسلح افراد آئے،انہوں نے گاڑی کا شیشہ توڑا، خاتون اور اس کے بچوں کو جنگل کی طرف لے گئے اور اس خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ دل روتا ہے یہ سوچ کر کہ اس ماں پر کیا گزری ہو گی، جس کے بچوں کے سامنے اس کے ساتھ درندگی کی گئی اور اس سے زیادہ غم تو ان معصوم بچوں کو جھیلنا پڑا، جن کے دلوں پر تاحیات زخم رہیں گے۔ خاتون کی گاڑی کے شیشے سے مجرموں کے خون کا نمونہ لے کر جب پولیس کی ٹیم فرانزک لیب پنجاب پہنچی تو پتا چلا کہ لیب کے پاس تو ڈی این اے کٹس ہی نہیں ہیں۔ پوچھا گیا کیوں تو جواب ملتا ہے کہ فنڈ ز ختم ہو چکے ہیں، وزارت خزانہ پنجاب سے فنڈز مانگ مانگ کر تھک گئے ہیں۔ پھر حسب روایت عین وقت پر بھگدڑ مچی اور چند گھنٹوں میں فرانزک لیب کو 5کروڑ 44 لاکھ روپے دے دئیے گئے۔

یہ کیسی حکومت ہے، یہ کیسا نظام ہے؟ پولیس والے کام کرنے کو تیار نہیں، بیٹھ بیٹھ کر پیٹ نکال لئے ہیں، نہ ہی حکومت کو ہوش ہے کہ کہاں فنڈز ہیں اور کہاں نہیں؟ اس سے زیادہ غیر ذمہ داری کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ فرانزک لیب پنجاب میں ہی فنڈز نہیں، یعنی پھر جو تحقیقاتی ایجنسیاں ہیں وہ رزلٹ کہاں سے لاتی ہیں؟سانحہ موٹروے کے ایک ملزم عابد پر آٹھ مقدمات درج ہیں، جن میں سے دو ریپ کے مقدمے ہیں۔ اس انسان نما درندے نے ایک ریپ یوں کیا کہ ایک گھر میں گھس کر مرد کو باندھا اور اس کے سامنے اس کی بیوی اور بیٹی کے ساتھ زیادتی کی۔ اگر اس شقی القلب ملزم کو اس ریپ کے بعد انجام تک پہنچا دیا جاتا تو آج سانحہ موٹروے نہ ہوتا۔

کیا وہ جن کے ساتھ اس نے پہلے ریپ کیا، وہ ہماری قوم کی بیٹیاں نہیں تھیں؟دوسرا ملزم شفقت ہے جو عادی وارداتیا نکلا۔ خاتون کے گھر والے 24 گھنٹے در بدر پھرتے رہے، مگر حکام بالا سوئے رہے۔ وہ تو کمال تھا سوشل میڈیا کا جہاں عوام متحد ہو کر کھڑے ہوگئے تو پولیس کو فوراً ایکشن لینا پڑا۔اس واقعہ کے بعد جس طرح کے بیانات سی سی پی او نے دیئے وہ کوئی ہوش مند انسان دے ہی نہیں سکتا ہے۔ اچھا ہوا کہ سی سی پی او نے اپنے متنازعہ بیان پر معافی مانگ لی۔ حکومت کی بیکار پلاننگ کا یہ عالم ہے کہ موٹر وے کے اس حصے پر نہ تو کوئی پٹرول پمپ ہے اور نہ ہی سیکیورٹی۔اس سنگین واردات کے میڈیا اور سوشل میڈیا میں آنے کے بعد انکشاف ہوا کہ اس حوالے سے بھی محض سمریاں اِدھر اُدھر گھمائی جارہی ہیں، کوئی والی وارث نہیں، پھر موٹر وے کا یہ حصہ کیونکر کھولا گیا اور کھول بھی دیا گیا تو ہم ٹول ٹیکس کس بات کا دیں کہ نہ ہی کوئی حفاظت کی گارنٹی اور سنسان روڈ،فرائض کی ادائیگی سے جی چراتی پولیس۔

ذرا تصور کریں کہ خاتون فون کرتی رہی اور دو گھنٹے تک کوئی نہیں آیا، یعنی ڈیو ٹی والے ڈیوٹی پر  ہی نہیں تھے۔ لاہور بلکہ پنجاب پولیں کو اوور ہالنگ کی شدید ضرور ت ہے، آئے روز بے مقصد تبارلے فورس کا مورال ڈاؤن کر رہے ہیں، جب محافظ ہی خود کو غیر محفوظ تصور کریں گے تو لوگوں کی حفاظت کیا خاک ہو گی۔ 2016ء میں سیف سٹی لاہور کے نام سے ایک پروجیکٹ شروع کیا گیا۔ بلاشبہ یہ ایک بہت اچھا منصوبہ تھا۔ شہر کی کئی جگہوں  پر کیمرے لگائے گئے اور کئی وارداتیں روکی گئیں، لیکن حالات اب کچھ اور ہیں۔ کم سے کم 70 فیصد کیمرے کام کرنا بند کر چکے ہیں اور جو 30 فیصد باقی ہیں، وہ ناکافی ہیں۔ اب تو لٹیروں اور مجرموں کو بھی اس بات کا پتہ چل چکا ہے کہ یہ کیمرے صرف نمائش کے لئے لگے ہیں۔ سانحہ موٹر وے کسی صورت میں خواتین کی حوصلہ شکنی کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ہمیں ایسے قوانین بنانا ہوں گے کہ کم از کم ریپ کے مجرموں کو ایک مقررہ وقت کے اندر پھانسی دی جاسکے۔ جونہی ریپ کا کوئی ملزم پکڑا جائے، ماڈل کورٹ میں مقدمہ درج ہو اور پھر اسے تین سے چار ماہ کے اندر پھانسی دے دیں۔ صرف دو سے تین سال ہم یہ کام کر لیں تو معاشرہ بڑی حد تک ایسے بھیڑیوں سے محفوظ ہو جائے گا۔حکومت سے درخواست ہے کہ راستوں میں نہیں، دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف بھی ٹھوس قانون سازی کی جائے، مہذب معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ ہر ماں، بہن، بیٹی خود کو گھر کے اندر اور باہر محفوظ تصور کرے۔

مزید :

رائے -کالم -