منی لانڈرنگ کیس، شہبا ز شریف کی عبوری ضمانت میں ایک روز کی توسیع، لاہور ہائی کورٹ نے آج مزید دلائل طلب کر لئے 

  منی لانڈرنگ کیس، شہبا ز شریف کی عبوری ضمانت میں ایک روز کی توسیع، لاہور ...

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کی اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت میں ایک روز کی توسیع کرتے ہوئے ان کے وکلاء کو آج 22ستمبر کو مزید دلائل کے لئے طلب کرلیا،گزشتہ روزکیس کی سماعت کے آغازپر میاں شہباز شریف کے وکلاء نے نیب کی نیت اورکارروائی پر اعتراضات کی بھرمار کردی جس پر فاضل بنچ کو کہنا پڑا کہ آپ شروع کریں، ہمیں انٹرو تو دیں، ابھی تک صرف آپ کی جانب سے اعتراضات ہی آئے ہیں،دوران سماعت میاں شہباز شریف نے کہا کہ وہ اس بابت بیان حلفی دینے کے لئے تیارہیں کہ نیب کے تفتیش افسر نے ان سے کہا تھا کہ ان کی حد تک تفتیش مکمل ہوگئی ہے،اس سے قبل میاں شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے دلائل شروع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اے پی سی کے بعد اب یہ اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالنا چاہتے ہیں، پراسیکیوشن کی بدنیتی صاف نظر آتی ہے، نیب صرف اپنی انا کے لیے گرفتاری چاہتا ہے، کیس کا  ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے، تفتیش مکمل ہے ٹرائل شروع ہونے لگا ہے، جب تفتیش مکمل ہو چکی ہے تو گرفتاری کی کیا ضرورت ہے، ابھی تک گرفتاری کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، 28مئی 2020ء کو چیئرمین نیب نے وارنٹ گرفتاری جاری کرکے چھپا کررکھ لئے تھے،3جون کو عدالت نے عبوری ضمانت منظور کرلی اور9جون کو شہباز شریف نیب میں پیش ہوئے،شہباز شریف کے وکیل نے مزید کہا کہ نیب نے پہلے ایک مقدمہ میں گرفتارکیا تب کچھ نہیں بتایا،جب پہلے مقدمہ میں ضمانت ہو گئی تو دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کر دیئے، نیب سیکنڈ راؤنڈ کروانا چاہتاہے،اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ایک بے نامی درخواست پر اپوزیشن لیڈر کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی،شہباز شریف کیخلاف "ایک محب وطن پاکستانی "کی طرف سے نیب کو درخواست موصول ہوئی، سر ایک بات لازمی ہے کہ ہر" محب وطن پاکستانی "کی درخواست میں گرفتاری ضرور ہوئی ہے، جس پر فاضل بنچ نے کہا کہ کیا شہباز شریف کے خلاف درخواست دینے والا بھی "محب وطن پاکستانی "ہے،اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ شہباز شریف کیخلاف احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ریفرنس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، اس بابت متفرق درخواست دائر کی ہے،بار روم میں بڑی باتیں گردش کر رہی تھیں کہ نیب کی ٹیم آج شہباز شریف کو گرفتار کرنے آئی ہے، گرفتاری کی وجوہات بیان کرنے سے کوئی پاک بھارت تعلقات خراب ہونے کا خدشہ نہیں ہے، سعد رفیق اور اس کے بھائی کی عبوری ضمانت میں بھی گرفتاری کی وجوہات فراہم نہیں کی گئی تھیں، جس پر فاضل بنچ نے کہا کہ آپ یقین رکھیں ضروری ہوا تو گرفتاری کی وجوہات فراہم بھی کریں گے اور نیب سے جواب بھی مانگیں گے، آپ دلائل تو شروع کریں جس پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سر میں اندھیرے میں تیر تو نہیں چلاسکتا، پتہ تو چلے 58 والیم پرمشتمل ریفرنس دائر کرنے کے باجود نیب کوشہباز شریف کا جسم کیوں درکارہے،قانون کے مطابق گرفتاری کی وجوہات فراہم کی جائیں،فاضل جج نے کہا آپ انٹرو تو دیں،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر گراونڈ آف اریسٹ پیش کردیئے جائیں تو عدالت کا وقت بچ جائے گا، نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ شہباز شریف سے پراپرٹی سمیت دیگر سے متعلق تفتیش درکار ہے، جب بھی ان سے جائیدارکی خریداری سے متعلق پوچھا تو ان کی جانب سے نہیں بتایا گیا، شہباز شریف کہتے ہیں میں باہر جاؤں گا تو ریکارڈ لے کر آؤں گا، اس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف سامنے کھڑے ہیں ابھی جواب دے دیتے ہیں، میاں شہباز شریف نے کہا مجھے تفتیشی افسر نے کہا کہ تفتیش مکمل ہوچکی ہے، اس بابت بیان حلفی بھی دے سکتاہوں،میاں شہبا زشریف کے وکیل امجد پرویز نے موقف اختیار کیا کہ چیئرمین نیب نے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کروا یا، 26 مارچ 2019ء کو لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا میمورنڈم غیر قانونی قرار دے دیا، نیب نے شہباز شریف کے جیل میں موجود ہونے پر بھی آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں انکوائری کیلئے طلب نہیں کیا، نیب کی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے،نیب نے آشیانہ اقبال اور رمضان شوگر ملز میں شہباز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں تفصیلی دلائل کے باوجود سپریم کورٹ سے واپس لے لیں، 3 دسمبر 2019ء کو سپریم کورٹ نے نیب کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے، اسی روز ڈی جی نیب نے شہباز شریف کی جائیدادیں منجمد کرنے کا حکم دے دیا، شہباز شریف کینسر کے مریض ہیں اور ان کی عمر 70 برس ہے، جس پر جسٹس سردار احمد نعیم نے کہا کہ ابھی ڈبلیو ایچ او والوں نے کہا ہے کہ 70 برس کا آدمی جوان ہے، اعظم نذیر تارڑ نے کہا جی جی لیکن اگر کینسر نہ ہو تو 70 برس کے آدمی جوان ہیں،امجد پرویز نے اپنے دلائل میں کہا کہ چیرمین نیب نے خلاف قانون پبلک سیکٹر کمپنیز کیخلاف انکوائری کی منظوری دی جونیب آرڈیننس 1998ء کے سیکشن 22 کی خلاف ورزی ہے،یہ نیب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر کیخلاف بے نامی درخواست پر کاروائی شروع ہوئی،میاں شہباز شریف کے خلاف چار پانچ الزامات کے تحت انکوائری ہوئی،صاف پانی کمپنی کیس میں طلب کرکے آشیانہ کیس میں گرفتارکرلیاگیا،فاضل جج نے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ 12 جنوری 2018 کو فنانشل مانیٹرنگ رپورٹ کے بنیاد پر یہ تحقیقات شروع ہوئیں،وہ فنانشل رپورٹ کہا ں ہے، دیکھائیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ سیکرٹ ڈاکومنٹس ہیں،انہیں ریفرینس کا حصہ نہیں بنایا گیا، عدالت کے روبرو رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس میں تمام اکاونٹس سے متعلق تفصیلات دی گئی ہیں، اس کے بعد مزید کرنسی ٹرانزیکشن کی رپورٹس موصول ہوئیں، میاں شہباز شریف کے وکیل نے مزید کہا کہ احتساب عدالت نے نیب کی بدنیتی بھانپتے ہوئے رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف کا ایک دن کا بھی جسمانی ریمانڈ نہیں دیاتھااور6 دسمبر 2018ء کوانہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیاتھا،وکلاء کے دلائل ابھی جاری تھے کہ مزید سماعت آج22ستمبر پر ملتوی کردی گئی۔ درین اثنامسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہبازشریف نے کہاہے کہ میاں محمد نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ ان کے ڈاکٹر کریں گے، لاہورہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اے پی سی کی مضبوطی کیلئے ہم نے اس دفعہ پی پی سی سیمنٹ استعمال کیاہے تاکہ دراڑیں نہ پڑیں،صحافی نے ان سے سوال کیا تھاکہ کیا اے پی سی میں تمام جماعتیں متحد رہ پائیں گی؟اے پی سی میں مولانا فضل الرحمان کے موقف پر شہباز شریف نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کا اپنا نقطہ نظر ہے اور جمہوری کا یہ حسن ہے کہ ہر ایک کے نقطہ نظر کا احترام کیا جاتا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ اے پی سی میں عوام کی بات کی گئی اورعوام کی نمائندگی کی گئی،نواز شریف کی صحت کے بارے میں ڈاکٹرز ہی بتا سکتے ہیں۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -