مذہب کے نام پر دہشتگردی، فرقہ وارانہ تشدد، قتل و غارت، انتہا پسندی خلاف اسلام، وحدت امت کانفرنس 

    مذہب کے نام پر دہشتگردی، فرقہ وارانہ تشدد، قتل و غارت، انتہا پسندی خلاف ...

  

 اسلام آباد(آن  لائن) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے پاکستانی قوم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کیخلاف کامیابی سے جنگ لڑی، ہمیں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھا منا ہوگا، ایک قوم بننے کیلئے ہمیں تفرقے سے بچنا چاہیے، جذباتی تقاریرسے نفاق اور تفرقہ پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، مسلمان نااتفاقی کے باعث پہلے ہی کافی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ ان خیالات کا ا ظہار کا انہوں نے ایوان صدر میں منعقدہ وحدتِ امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر عارف علوی نے کہا ماضی میں ایران اور عراق کو لڑایا جاتا رہا۔دونوں ممالک کے مابین جنگ سے 10 لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔قائد اعظم ؒنے اپنی تقاریر میں ہمیشہ تفرقہ بازی سے بچنے کا درس دیا۔علمی وفروعی اختلافات اپنی جگہ، جہالت پر مبنی اختلافات تفرقہ کا باعث بنتے ہیں۔ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کے طرزعمل سے گریز کرنا ہوگا، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ امت کی وحدت کا مرکز ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے اسلام کیخلاف نفرت اور حضورؐ کی ناموس کے تحفظ کیلئے دوٹوک مؤقف اپنایا۔ہم نے اقلیتوں کیساتھ مثالی سلوک کا عہد کیا ہے۔مسلمانوں کا غلبہ اقدار و اصولوں کی بنیاد پر ہوگا۔ دریں اثناء وحدت اْمت کانفرنس کے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ مذہب کے نام پر دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ وارانہ تشدد، قتل و غارت گری خلافِ اسلام، تمام مکاتبِ فکر اور تمام مذاہب کی قیادت اس سے مکمل اعلانِ برات کرتی ہے۔ کوئی مقرر، خطیب، ذاکر یا واغط اپنی تقریر میں انبیاء علیہ السلام، اہلِ بیت، اصحابِ رسولؐ، خلفائے راشدین ؓ،ازواجِ مطہراتؓ، آئمہ اطہار اور حضرت امام مہدی کی توہین، تنقیص اور تکفیر نہ کریگا، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تمام مکاتبِ فکر اس سے اعلانِ برات کرتے ہیں۔ ایسے شخص کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ کسی بھی اسلامی فرقے کو کافر، کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے،دستور پاکستان کے مطابق تمام مذاہب و مسالک کے لوگ اپنی ذاتی و مذہبی زندگی گزاریں۔ شر انگیز اور دل آزار کتابوں، پمفلٹوں، تحریروں کی اشاعت، تقسیم و ترسیل نہ ہو، اشتعال انگیز اور نفرت آمیز مواد پر مبنی کیسٹوں اور نٹرنیٹ ویب سایٹس پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ دل آزار اور نفرت آمیز اور اشتعال انگیز نعرے ممنوع، آئمہ، فقہ، مجتہدین کا احترام کیا جائے۔ عوامی سطح پر مشترکہ اجلاس منعقد کرکے ایک دوسرے کیساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔ شریعتِ اسلامیہ کی رْو سے غیر مسلموں کی عبادتگاہوں، مقدسات اور جان و مال کا تحفظ مسلمانوں اور حکومتِ کی ذمہ داری ہے لہٰذا حکومت کو غیر مسلموں کی عبادتگاہوں، مقدسات اور جان و مال کی توہین کرنیوالوں سے بھی سختی کیساتھ نمٹنا چاہیے۔ حکومت قومی ایکشن پلان پر بلا تفر یق مکمل عمل کرائے۔ پیغامِ پاکستان ایک متفقہ دستاویز، قانونی شکل دینے کیلئے فوری مشاورتی عمل شروع کیا جائے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کیخلاف جاری فتووں پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔ محرم الحرام کے دوران اور اس سے قبل مقدس شخصیات کی توہین، تکفیر کرنیوالے عناصر کیخلاف فوری قانونی کارروائی، مجرمین کو جلد سزائیں دی جائیں۔

وحدت امت کانفرنس

مزید :

صفحہ اول -