فیسکو کے 2افسروں کی معطلی، بحالی میں منتخب عوامی نمائندوں کی مداخلت، نظام بری طرح متاثر 

  فیسکو کے 2افسروں کی معطلی، بحالی میں منتخب عوامی نمائندوں کی مداخلت، نظام ...

  

 فیصل آباد(نامہ نگار خصوصی)گوجرہ میں تعینات فیسکو کے دو افسروں کی معطلی اور بحالی کے معاملات میں دو تین منتخب عوامی نمائندوں کی مداخلت سے فیسکو کا مرکزی نظام بری طرح متاثر ہوچکا ہے چیف ایگزیکٹو کی سیٹ پر بیک وقت دو آفیسر ڈیوٹی کر رہے ہیں مگروہ دونوں ہی انتظامی اختیارات کے عملی اقدامات سے محروم ہیں دوکمروں میں الگ الگ بیٹھے ہوئے دونوں چیف ایگزیکٹو آفیسرز کسی بھی قسم کا کوئی تحریری حکم جاری نہیں کر رہے شفیق الحسن عدالتی احکامات کے تحت چیف ایگزیکٹو آفیسر کی سیٹ پر بیٹھے ہیں اورارشدمنیر متعلقہ وزارت کے احکامات کے تحت اسی پوسٹ پر موجود ہیں،شفیق الحسن کے پاس ماتحت افسران کی طرف سے کوئی ڈاک غالبااس لئے نہیں بھیجی جارہی کہ فیسکو کی اعلیٰ انتظامیہ اور وزارت کی ناراضگی آڑے آرہی ہے اورارشدمنیر کے پاس ڈاک غالبا اس وجہ سے نہیں بھیجی جا رہی کہ کہیں وہ اقدام توہین عدالت کے زمرے میں نہ آجائے،اس انتظامی کھینچا تانی کے براہ راست اثرات ادارے اور صارفین بجلی پر پڑرہے ہیں اور ماتحت افسران کی موجیں لگی ہوئی ہیں اور اس سارے معاملے کے پس پردہ حکومتی رہنماؤں کی انا پرستی اور مفاد پرستی پر سر عام چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں اس سلسلے میں معلومات حاصل کی گئیں تو یہ انکشاف ہوا کہ گوجرہ میں تعینات فیسکو کے دو آفیسرز کے بارے میں کچھ عرصہ قبل نیب کو شکایت ملی کہ وہ فیسکو میں اپنی انتظامی حیثیت اور اثرورسوخ کی بدولت بہت ہی بڑے پیمانے پر پراپرٹی کا بزنس کر رہے ہیں اور کرپشن میں ملوث ہیں،نیب نے متعلقہ وزارت سے اس معاملے پر خط  کتابت کی جس پر متعلقہ وزارت نے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیسکو کولیٹر لکھا چنانچہ سی ای او شفیق الحسن نے انکوائری کے بعد دو نوں کو معطل کر کے مزید کاروائی کا حکم دے دیا،ان کی معطلی کو بحالی میں تبدیل کرنے کیلئے دو تین منتخب حکومتی نمائندے درمیان میں آگئے اور سی ای او پر بہت زیادہ پر یشر پڑ گیا اور تحریک استحقاق کی نوبت بھی آگئی انہوں نے معاملات کو سلجھانے اور اوپر سے پریشر کو کم کرنے کیلئے کچھ کم الزامات والیان میں سے ایک آفیسر کو عارضی طور پر بحال کر دیا لیکن دوسرے کو بحال نہ کیا مگرپھر بھی پریشر کم ہونے کی بجائے پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیابالآخر انہوں نے ان کی بحالی سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں ان کو ٹرانسفر کر دیا گیا اور ان کی جگہ ایک قائمقام سی ای او کو چارج دے دیا گیا جو تقریبا ایک ہفتہ تک ڈیوٹی کرتے رہے تاہم اس دوران انہوں نے بھی جس معطل شدہ آفیسر کو عارضی طور پر ربحال کیا گیا تھا اسے پھر معطل کردیا تقریبا ایک ہفتہ گزر نے کے بعد متعلقہ وزارت نے ارشد منیر کو سی ای او فیسکو تعینات کر دیا،اسی دوران ٹرانسفر ہونے والے سی ای او شفیق الحسن انصاف کیلئے عدالت میں چلے گئے اور عدالت نے ان کے حق میں حکم امتناعی جاری کر دیا وہ حکم امتناعی کے ساتھ واپس آئے اور عدالتی احکامات کے تحت انہوں نے سی ای او کا چارج سنبھال لیا اس طرح فیسکو میں بیک وقت دو سی ای او ز کے پاس چارج چلا گیا جو آخری اطلاع کے مطابق دونوں ہی ڈیوٹی پر موجود ہیں 

فیسکو معاملات

مزید :

صفحہ اول -