سرکاری وکلاء کی بھرتی کیلئے نابینا افراد کا کوٹہ مختص نہ کرنے کیخلاف دائردرخواست کاجواب داخل کرنے کیلئے حکومتی وکیل کو مہلت 

سرکاری وکلاء کی بھرتی کیلئے نابینا افراد کا کوٹہ مختص نہ کرنے کیخلاف ...

  

ّلاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری وکلاء کی بھرتی کے لئے نابینا افراد کا کوٹہ مختص نہ کرنے کے خلاف دائردرخواست کاجواب داخل کرنے کے لئے حکومت کے وکیل کومہلت دے دی جسٹس عائشہ اے ملک نے نابینا وکیل سید عبدالرحمن ہاشمی کی درخواست سماعت کی،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پبلک سروس کمیشن نے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کی بھرتیوں کا 2019ء میں اشتہار دیا۔پبلک سروس کمیشن کے جاری کئے گئے اشتہار کے مطابق نابینا افراد اس عہدے کے لئے اہل نہیں،درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کی بھرتی میں نابینا افراد کا کوٹہ مختص کرنے کا حکم دیا جائے، پبلک سروس کمیشن کی طرف سے جواب داخل کیا گیا کہ ان کا کام حکومت کی شرائط اور قواعدوضوابط کے مطابق اشتہار دے کر امتحان لینا ہے،پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے،پنجاب حکومت کے وکیل نے اس بابت جواب داخل کرنے کے لئے مہلت طلب کی جس پر عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔

مہلت

مزید :

صفحہ آخر -