کراچی، سول ہسپتال کا میل نرس شعبہ فارمیسی کا ”دن داتا“ بن گیا 

کراچی، سول ہسپتال کا میل نرس شعبہ فارمیسی کا ”دن داتا“ بن گیا 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے سب سے بڑے  اسپتال کا میل نرس ادارے کے شعبہ فارمیسی کا ”ان داتا“ بن گیا،اسٹور میں تعینات میل نرس   کے سامنے تمام سیکشن کے انچارجز بے بس ہوگئے،ادویات کی غیر قانونی فروخت کرکے  بسوں میں سفر کرنے والا ملازم قیمتی گاڑیوں اور بنگلے کا مالک بن گیا۔ اعلیٰ افسران نے ماہانہ لاکھوں روپے رشوت وصول کرنے کی وجہ سے اس کے حوالے سے اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں۔تفصیلات کے مطابق  سول اسپتال صوبے کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال ہے،جہاں نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ سے بھی ہزاروں کی تعداد میں مریض کے علاج کے سلسلے میں آتے ہیں۔میل نرس  پر سول اسپتال کی نوکری کے بعد ''ہن'' برسنے لگا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ میل نرس اور اس کے ساتھی شعبہ فارمیسی میں کروڑوں کی ادویات کے ہیر پھیر میں ملوث ہیں۔یہ افراد ان ادویات کو سستے داموں میڈیکل اسٹورز اکے مالکان ور دیگر غیر متعلقہ افراد کو فروخت کردیتے ہیں جبکہ دفتری اندراج میں یہی ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان ادویات کو مریضوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔میل نرس اور اس کے گروہ کے ہیر پھیر میں اعلیٰ افسران بھی برابر کے شریک ہیں جن کو ماہانہ لاکھوں روپے رشوت پہنچائی جاتی ہے،جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔میل نرس کی دیدہ دلیری کے باعث فارمیسی کے تمام سیکشن کے انچارجز اس کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ اس کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔سول اسپتال کے ایک ملازم نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میل نرس چند سال قبل تک بسوں میں سفر کرتا تھا تاہم آج وہ مہنگی ترین گاڑیوں میں گھوم رہا ہوتا ہے جبکہ نیو کراچی کے علاقے میں اس کا کروڑوں روپے کا بنگلہ بھی زیر تعمیر ہے۔میل نرس اس وقت وارڈ میں ڈیوٹی کرنے کی بجائے اسٹور کا مالک بن کر لاکھوں میں کھیل رہا ہے اور ادویات کو کھلے عام مارکیٹوں میں فروخت کررہا ہے۔سمجھ سے بالاتر ہے کہ صرف 70ہزارروپے تنخواہ لینے والا ملازم اس طرح کی شاہانہ زندگی کس طرح بسر کرسکتا ہے۔اس ضمن میں مریضوں کے تیمارداروں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے صوبے میں سرکاری اسپتالوں کی حالت زار میں بہتری لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں لیکن سندھ کے سب سے بڑے شہر کے سب سے بڑے اسپتال میں ایک میل نرس کی اس طرح کی کرپشن اس کی آنکھوں سے اوجھل رہنا حیرت انگیز ہے۔سرکاری اسپتالوں میں مریضوں سے اکثراوقات باہر سے ادویات منگوائی جاتی ہیں اور ان کو یہی بتایا جاتا ہے کہ اسپتال میں یہ ادویات دستیا ب نہیں ہیں۔اصل صورت حال یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اسپتالوں میں ادویات فراہم کی جاتی ہیں لیکن میل۔نرس  جیسے عناصر ان کو فروخت کرکے مریضوں کے لیے مشکلات کا باعث بنتے ہیں جبکہ اس سے اصل بدنامی صوبائی حکومت کی ہوتی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ،وزیر صحت اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ سول اسپتال میں ادویات کی غیر قانونی خریدو فروخت کا نوٹس لیا جائے اسپتال ملازمین نے درجنوں بار ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اور دیگر اداروں کو ایکشن لینے کیلئے درخواستییں بھی جمع کروائی مگر کوء شنوائی نہیں ہوء۔

مزید :

صفحہ آخر -