کے الیکٹرک کیخلاف نیپرا کی عوامی سماعت بد نطمی، تلخ  کلامی کا شکار 

        کے الیکٹرک کیخلاف نیپرا کی عوامی سماعت بد نطمی، تلخ  کلامی کا شکار 

  

 کراچی(این این آئی)کے الیکٹرک کیخلاف نیپرا کی عوامی سماعت بدنظمی، تلخ کلامی کا شکار ہوگئی، شہریوں نے کے الیکٹرک کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ چیئرمین نیپرا نے کے الیکٹرک کو رابن ہڈ قرار دیدیا۔نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کے متاثرین کی شکایات سننے کے لیے کراچی کے مقامی ہوٹل میں سماعت کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی، سی ای او کے الیکٹرک مونس عبداللہ علوی اور کراچی چیمبر کے سابق صدر سراج قاسم تیلی بھی شریک ہوئے۔دوران سماعت چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی اور کراچی چیمبر کے سابق صدر سراج قاسم تیلی میں تلخ کلامی ہوگئی۔تاجر رہنما سراج قاسم تیلی نے کہا کہ اگر کے الیکٹرک کی اجارہ داری ختم کی جائے تو کراچی کی تاجر برادری بجلی کی نئی ڈسٹری بیوشن کمپنی بنانے کو تیار ہے۔چیئرمین نیپرا نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کے الیکٹرک کا لائسنس بھی تبدیل ہو جائے اور نئی کمپنی بھی سامنے نہ آئے اس معاملے پر سراج قاسم تیلی اور چیئرمین نیپرا میں تلخ کلامی ہوئی۔جاوید بلوانی نے چیئرمین نیپرا سے کہا کہ آپ ان اسٹیک ہولڈرز کو نہیں سنیں گے تو نیپرا یہاں کیوں آیا ہے۔ چیئرمین نیپرا نے سخت لہجے میں کہا کہ جو منظم انداز میں بات نہیں کریگا اسے ہال سے باہر نکال دیں جس پر عوام نے شور شرابا کرتے ہوئے یہاں وقت ضائع کرنے کیلئے ہمیں بلوایا گیا ہے۔عوامی سماعت بدنظمی کا شکار ہوگئی اور ہال میں کے الیکٹرک کے خلاف اور انصاف کی فراہمی کیلئے شدید نعرے بازی کی گئی۔ عوام نے شور شرابا کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہمیں یہاں وقت ضائع کرنے کیلئے بلوایا گیا ہے۔سماعت میں بدنظمی اورتلخ کلامی کے بعد سی ای او کے الیکٹرک مونس عبداللہ علوی سماعت سے روانہ ہوگئے، اس موقع پر چیئرمین نیپرا نے سماعت کو 30 منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو کے الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر عامر غازیانی نے کہا کہ نیپرا ایکٹ میں جو ترمیم کی گئی ہے اسکے تحت ہمیں 2023 تک کام کرنے کی اجازت ہے، ہم بھی چاہتے ہیں کے الیکٹرک کے علاوہ دیگر کمپنیاں بھی بجلی کی ترسیل میں آئیں، لیکن نئی آنیوالی کمپنیوں کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ سستی بجلی کی ترسیل کیسے کرنی ہے۔کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو مونس عبداللہ علوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک نے اپنے معاہدے سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اور 16 فیصد نقصانات میں کمی کی ہے، کے الیکٹرک کے نظام میں مستقل بہتری جاری ہے۔چیئرمین نیپرا نے سماعت میں کے الیکٹرک سے کہا کہ آپ کہتے ہیں اگر منافع والے علاقے نکل گئے تو نقصان والے علاقوں میں سرمایہ کاری متاثر ہوگی، 15 سال میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کیلئے آپ نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟۔چیئرمین نیپرا نے سوال کیا کہ آئندہ تین سال میں کیا اقدامات ہیں جس سے آپ بجلی کی فراہمی بہتر ہوگی۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے نیپرا سماعت میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک بارش کا پہلا قطرہ پڑتا ہے اور بجلی بند کر دیتے ہیں، ہوا میں نمی کا تناسب بڑھتا ہے اور لوڈشیڈنگ بڑھ جاتی ہے، سردیوں میں بھی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے کہ ہمیں گیس نہیں مل رہی، جب آپ کراچی کے لیئے کام کر رہے ہیں تو اس ہی حساب سے انتظام کرنا چاہیے، یہ لوگ بجلی کی طلب و رسد نہیں بتاتے، جو یہ بتاتے ہیں ہم مان لیتے ہیں، یہ سرمایہ کاری کی بات کرتے ہیں، ان کو ان کی مرضی کے ٹیرف ملتے رہتے ہیں اور اربوں روپے سبسڈی ملتی رہتی ہے، بن قاسم کے یونٹس کئی برسوں سے کوئلے پر شفٹ کر رہے ہیں۔سماعت میں موجود ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ کے ای کے پاس فالٹ ڈی ٹیکشن انجینئر نہیں ہیں، اگر کہیں فالٹ ہوجائے تو سات سے آٹھ گھنٹے فالٹ ڈھونڈھنے میں لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں نیشنل گرڈ سے 650 میگاواٹ بجلی دلوائی،کورونا میں پورا شہر پانچ بجے بند ہو رہا تھا اس وقت بھی لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی۔خواجہ اظہارنے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے،کیونکہ ان کے پاس گرمیوں میں فیول نہیں اور سردیوں میں گیس نہیں ہوتی، کراچی کے صنعتی زونز نے 1 ارب سے زائد کا جرمانہ ادا کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ ہمارا کونسا کنزیومر رائٹ ہے جس میں بجلی زیادہ استعمال کرنے پر مہنگی ہوجاتی ہے، پیک آوور کا فیکٹر بھی ہم پر مسلط کردیا گیا، غریب لوگ کورونا کے مشکل حالات میں بغیر بجلی کے کیسے ایس او پیز پر عمل کریں۔سماعت کے دوران شہریوں نے کے الیکٹرک کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرنے اور دیگر کمپنیوں کو بھی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ بدنظمی پر چیئر مین نیپرا کو دوبارہ سماعت روکنا پڑی۔ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار اور پیپلز پارٹی کے کمال اظفر کے درمیان تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔ کمال اظفر نے کہا کہ الیکٹرک کو جب فروخت کیا گیا ایم کیو ایم نے سہولت کاری کی، وہ آج کس منہ سے بات کر رہی ہے۔کمال اظفر کے ان ریمارکس پر خواجہ اظہار نشست سے کھڑے رہے اور شدید احتجاج کیا۔ اس دوران دونوں طرف سے نعرے بازی ہوئی اور شور شرابہ شروع ہوگیا۔ شور شرابے اور بد نظمی پر سماعت ختم کردی گئی۔جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم نے بھی کہا کہ کے الیکٹرک کو سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ کی حمایت حاصل رہی ہے، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، نون لیگ اور پی ٹی آئی اس کے سہولت کار رہے، اس کا فارنزک آڈٹ کرایا جائے۔نائب صدر کراچی چیمبر نے کہا کہ کے الیکٹرک کا معاہدہ اور اجارہ داری کو ختم ہونا چاہیے، کراچی میں تین سے چار بجلی کی نئی ڈسٹری بیوشن کمپنیز مزید ہوناضروری ہے۔نیپرا کی سماعت میں موجود صارف خاتون نے بتایا کہ میں یہاں ڈی ایچ اے کی نمائندگی کر رہی ہوں، ہمیں کے الیکٹرک سے ذاتی دشمنی نہیں ہے، آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں کتنی مجبور ہو کر آج یہاں آئی ہوں۔صارف خاتون کا کہنا تھا کہ جس طرح موبائل سم کی کمپنیاں ہیں اس طرح بجلی کی بھی ہونی چاہئیے،انہوں نے بتایا کہ مونس علوی نے مجھے دھمکی دی کہ اگر زیادہ بات کی تو بجلی آن نہیں ہوگی، دیکھ لیں آج بھی سزا کے طور پر ہمارے علاقے کی بجلی بند ہے۔نیپرا نے اعلان کیا کہ کے الیکٹرک کے حوالے سے کراچی میں عوامی سماعت مکمل ہوگئی اور اب مزید سماعت نہیں ہوگی، تمام اسٹیک ہولڈرز کو سن لیا گیا اور اب فیصلہ جاری کیا جائے گا، تاہم اگلے دس روز تک نیپرا میں تحریری طور پر کمنٹس جمع کرائے جاسکتے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -