جہلم کے بنیادی مرکز صحت میں حاملہ خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے کا انکشاف، سارا عملہ تبدیل

جہلم کے بنیادی مرکز صحت میں حاملہ خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے کا انکشاف، ...
جہلم کے بنیادی مرکز صحت میں حاملہ خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے کا انکشاف، سارا عملہ تبدیل
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

جہلم(ویب ڈیسک)ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے بنیادی مرکز صحت کی لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جانب سے حاملہ خواتین کی نازیبا وڈیو بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایک شہری نے ڈپٹی کمشنرجہلم کو درخواست دی جس میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ سوہاوہ کے بنیادی مرکز صحت پھلڑے سیداں کی لیڈی ہیلتھ ورکر زچگی کے لئے آنے والی خواتین کی ویڈیوز بنا کر اپنے رشتہ دار پولیس اہلکار کو دیتی ہے جب کہ پولیس اہلکار عرفان ان ویڈیوز پر خواتین کو بلیک میل کرتا ہے اور خواتین کے انکار پر ویڈیوز فروخت کرنے کا کہتا ہے۔

ڈی سی جہلم نے درخواست موصول ہونے پر انکوائری کے بعد بنیادی مرکز صحت کا سارا عملہ تبدیل کردیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ثبوت تو لوگ مٹا دیتے ہیں اس کے لئے دوسرے اداروں سے مدد لیں گے، جو مرکزی ملزمان ہیں ان کے خلاف ایکشن لے لیا گیا ہے جب کہ سی او ہیلتھ جہلم کے مطابق گمنام درخواست میں ویڈیوز بنانے کے متعلق الزام ثابت نہیں ہوا، پولیس اہلکار کے خلاف ڈی پی او کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کریں۔

دوسری جانب ڈی پی او جہلم کا کہنا ہے کہ جونہی پولیس اہلکار کے خلاف ڈپٹی کمشنر کا سی ای او ہیلتھ کا خط ملا فوری طور پر مقدمہ درج کر کے ایکشن لیا جائے، برے کاموں کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -جہلم -