” میں اندر رہوں یا باہر ۔۔۔“ کیا شہبازشریف نے بھی نوازشریف والی پالیسی اپنا لی ؟ تہلکہ خیز بیان دیدیا 

” میں اندر رہوں یا باہر ۔۔۔“ کیا شہبازشریف نے بھی نوازشریف والی پالیسی اپنا ...
” میں اندر رہوں یا باہر ۔۔۔“ کیا شہبازشریف نے بھی نوازشریف والی پالیسی اپنا لی ؟ تہلکہ خیز بیان دیدیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس سے قبل پارلیمانی لیڈرز کی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ ملاقات ہوئی جس کی بازگشت میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر سنائی دے رہی ہے تاہم اب اپوزیشن لیڈر شہبازشریف بھی اس پر بول پڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ” میں اندر رہوں یا پھر باہر انشاءاللہ اے پی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد ہو گا ۔“

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے عسکری قیادت سے ہونے والی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس میٹنگ میں تمام پارلیمانی لیڈرز موجود تھے ، اے پی سی سے پہلے آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے ، میں اس میٹنگ میں موجود تھا ، میٹنگ کے دوران گلگت بلتستان کے معاملے پر بات چیت ہوئی ، میٹنگ کی خبر پبلک ہو گئی ہے تو میں ا س سے انکار نہیں کرتا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ،اس میٹنگ میں تمام پارلیمانی لیڈرز موجود تھے،  میں اندر ہوں یا پھر باہر ، آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد ہو گا۔

شہبازشریف کا کہناتھا کہ عوام حکومتی پالیسیوں سے پریشان ہے، انشا اللہ اقتدار ملا تو پھر عوام کی خدمت کریں گے، میاں نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں ہمیشہ عوام کی خدمت کی، میاں نواز شریف کی قیادت میں ہماری پارٹی متحد ہے، ہمیں عوام کی بے چینی کا احساس ہے ،حکومتی جھوٹے وعدوں سے عوام تنگ آ چکی ہے۔شہبازشریف آج منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کیلئے عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے میڈیا سے بھی غیر رسمی گفتگو کی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار نعیم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سماعت کر رہاہے جس دوران شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز بٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ اور مشکوک ٹرائزیکشن میں فرق ہے، مطلوبہ دستاویزات فراہم نہیں کئے گئے جو نیب قانون کی خلاف ورزی ہے، ایک ایسے دستاویز پر کارروائی کی جا رہی ہے مثل پر نہیں ہے،ایسا کرنا آئین کے مختلف آرٹیکلز کی منافی ہے۔

شہبازشریف کے وکیل کا کہناتھا کہ اس کیس کے ریکارڈ سے نیب کی بد نیتی واضح ہے ،جب تین کیسز میں کچھ نہیں نکلا تو پھر شہباز شریف کے خلاف چوتھا کیس شروع کیا گیا،شہباز شریف کے خلاف اتنے تھوڑے عرصے میں اتنی زیادہ انکوائریز شروع کی گئیں، نیب نے اپنے ہی بنائے گئے قانون کی خلاف ورزی کی ہوئی ہے، شہباز شریف نیب کے بلانے پر ہمیشہ ہی پیش ہوئے، نیب ابھی تک شہباز شریف پر کرپشن یا کرپٹ پریکٹسز ثابت نہیں کر سکا، نیب نے نامعلوم درخواست پر آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کیں، شہباز شریف کے خلاف نیب میں دی گئی درخواست پر نا نام تھا نا کسی کے دستخط۔

مزید :

قومی -