آئینی حدود کے اندر رہ کر بات کریں 

آئینی حدود کے اندر رہ کر بات کریں 

  

وزیر ریلوے اعظم سواتی نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر شدید نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن بڑے میاں کے ہاتھ کی گھڑی اور چھوٹے میاں کے ہاتھ کی چھڑی بن گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کی زبان میں بات کر رہے ہیں اور ہماری حکومت کا مقابلہ کر رہے ہیں جس کا ہم سیسہ پلائی دیوار بن کر مقابلہ کریں گے۔ مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن نے بھی الیکشن کمیشن کے خلاف باتیں کی تھیں انہیں کتنے نوٹس جاری کئے گئے جو مجھے نوٹس دیا جا رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیسے ہوئی، راز جانتا ہوں ہمیں کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ اعظم سواتی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے کئی معاملات کو شہبازشریف کی خواہش پر خفیہ رکھا ہوا ہے۔ اعظم سواتی نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سکندر سلطان آئین اور قانون سے بالادست ہیں یا آپ کی ذات۔ کیا الیکشن کمیشن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنا چاہتا ہے؟

الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اور چیف الیکشن کمشنر اس کے آئینی سربراہ ہیں، وہ اپنے اختیارات آئین کی روشنی میں ادا کرنے کے پابند ہیں اور اگر حکومت کو شکایت ہے کہ وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں تو سیدھا اور آسان راستہ یہ ہے کہ وہ اپنا مقدمہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس لے جائے اور جو جو ثبوت ان کے خلاف موجود ہیں وہاں پیش کر دے۔لیکن حکومت نے یہ سیدھا راستہ اختیار کرنے کی بجائے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایک ایسا محاذ کھول رکھا ہے جس کا بظاہر مقصد انہیں دباؤ میں لانا اور استعفا دینے پر مجبور کرنا ہے۔ کئی وزیر تو ان کے استعفے کا باقاعدہ مطالبہ بھی کر چکے ہیں اس سلسلے کا آغاز ڈسکہ کے ضمنی الیکشن سے ہو گیا تھا جب ”بعض لوگ“ مبینہ طور پر بیس پریذائیڈنگ افسروں کو یرغمال بنا کر کسی کے ڈیرے پر لے گئے وہاں پولنگ کے ریکارڈ میں رد و بدل کرایاگیا اور اس کے بعد وزراء نے باجماعت پریس کانفرنس منعقد کرکے مطالبہ کیا کہ ہمارا امیدوار جیت چکا ہے۔ اس لئے اس کی کامیابی کا اعلان کیا جائے۔ لیکن الیکشن کمشن نے پورے معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے کر فیصلہ کیا کہ ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا جائے اور دوبارہ ضمنی انتخاب کرایا جائے۔ تحریک انصاف اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ چلی گئی لیکن وہاں سے بھی اسے کوئی ریلیف نہ ملا، دوبارہ ضمنی انتخاب ہوا اور نتیجے سے بھی ثابت ہو گیا کہ بیس پریذائیڈنگ افسروں کا اغوا کس مقصد کے لئے ہوا تھا چونکہ دوبارہ انتخاب میں تحریک انصاف کا امیدوار ہار گیا۔ اس کے بعد جب قومی اسمبلی سے الیکشن ترمیمی بل منظور ہوا تو الیکشن کمیشن نے اس کی متعدد دفعات خلاف آئین قرار دے دیں۔ مثال کے طور پر ترمیم کے ذریعے حلقہ بندیوں کا کام نادرا کو سونپا گیا جو آئین کے تحت اسے نہیں دیا جا سکتا ایسے اور بھی بہت سے اعتراضات تھے جو اگر آئین کی روشنی میں درست نہیں تھے تو حکومت کو ان کا جواب دینا چاہیے تھا لیکن اس وقت بھی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کردارکشی کی مہم شروع کر دی گئی حالانکہ ان کا تقرر خود وزیراعظم عمران خان نے قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے کیا تھا۔ نام بھی وزیراعظم کا تجویز کردہ تھا اب اعظم سواتی کہہ رہے ہیں کہ شہبازشریف کی خواہش پر بعض باتیں خفیہ رکھی جا رہی ہیں تو شہبازشریف کو اس کی وضاحت کر دینی چاہیے کہ ان میں کون سی ایسی بات تھی جسے خفیہ رکھنا ضروری ہے اور اگر حکومت اپنے ”کڑوے گھونٹ“ کی وضاحت نہیں کرتی تو یہ شہبازشریف کا کام ہے کہ وہ آگے بڑھیں کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کو ان کے ہاتھ کی چھڑی کہا جا رہا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے اعظم سواتی سمیت دو وزیروں کو نوٹس جاری کر رکھا ہے جس کا جواب ملنے پر وہ کارروائی کر سکتے ہیں یہ سارا دباؤ ایسی کوئی کارروائی رکوانے کے لئے ہی ہے۔ الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں وزیر ریلوے نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ نرم سے نرم الفاظ میں بھی اشتعال انگیز تھے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو آگ لگانے کی بات بھی کی اور یہ تک فرمایا دیا کہ الیکشن کمیشن تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔ الیکشن حکومت کو کرانے چاہئیں۔ غالباً ان کا خیال ہے کہ ان کی حکومت ہمیشہ رہے گی اور وہ اپنی حکومت میں چمڑے کے سکے چلانے کے لئے آزاد ہیں  حالانکہ انہیں ایک معمولی جھٹکے کے نتیجے میں ایک بار وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے تھے،لیکن انہیں معلوم نہیں کل جب ان کی وزارت اور حکومت ختم ہو جائے گی تو ان کے کہے ہوئے یہ الفاظ ان کا منہ چڑا رہے ہوں گے اس لئے انہیں سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ انہیں یہ وضاحت بھی کر ہی دینا چاہیے کہ ان کے وزیراعظم کو چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرتے ہوئے کڑوا گھونٹ کیوں پینا پڑا اور ان کو کیا مجبوری تھی کہ وہ انہیں ہی مقرر کرنے پر مجبور ہوئے بہت سے دوسرے نام بھی تو تھے انہیں یہ نام پسند نہیں تھا تو کوئی دوسرا منتخب کر لیتے لیکن اب تو تقرر ہو چکا اب چیف الیکشن کمشنر اپنے فرائض اگر آئین کے مطابق ادا نہیں کر رہے تو انہیں ہٹانے کے لئے وہی طریقِ کار اختیار کرنا چاہیے جو آئین میں درج ہے۔ آئین کا احترام جس طرح چیف الیکشن کمشنر پر واجب ہے اسی طرح وزیراعظم اور وزراء کرام بھی اس بات کے پابند ہیں کہ وہ آئینی حدود کے اندر رہ کر بات کریں اور اس سے تجاوز نہ کریں جو بھی آئین سے تجاوز کرے گا خمیازہ اسے ہی بھگتنا پڑے گا چاہے وہ چیف الیکشن کمشنر ہو یا کوئی وزیر۔

مزید :

رائے -اداریہ -