سعودی عرب کا قومی دن 

سعودی عرب کا قومی دن 
سعودی عرب کا قومی دن 

  

سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی کے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ یہ یک جان دو قالب والا معاملہ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ پاکستان اور سعودی عرب دو ایسے ممالک ہیں جو نظریے کی بنیاد پر قائم ہوئے اور نظریے کی بنیاد پر دونوں کے درمیان دوستی کا رشتہ قائم ہوا۔ 23ستمبر 1932 کو سعودی عرب بھی احیائے اسلام کے نام پر وجود میں آیا تو پاکستان بھی کلمہ کی بنیاد پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پاکستان کو تسلیم کرنے میں بھی سعودی عرب نے دیر نہ لگائی۔ اسی طرح دوستی کا ہاتھ بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی بنیاد ہی ابتدا میں ہی قائم ہو گئی جو اب تک قائم و دائم ہے۔۔سعوی عرب کے حکمران  پوری امت مسلمہ سے انتہائی عقیدت و محبت رکھتے تھے اور ہیں. سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کو اپنا بھائی سمجھا ہے۔ سعودی حکمرانوں نے پاکستان سے محبت اور تعلق کا اظہار متعدد بار دو ٹوک انداز میں کیا۔ سعودی حکمرانوں نے اپنے عمل سے بھی یہ ثابت کیا کہ وہ واقعی پاکستان کے عوام سے محبت رکھتے ہیں۔ 1965 کا پاک بھارت معرکہ ہو یا 1971 کی جنگ، سعودی عرب نے پاکستان کو ہر طرح کی مدد فراہم کی۔1974 میں او آئی سی اجلاس کی میزبانی کا شرف پاک سرزمین کو حاصل ہوا۔ اس کا انعقاد بھی سعودی عرب ہی کی محنت کا ثمر تھا۔ اس وقت کے سعودی فرماں روا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے پاکستان کو شرف میزبانی بخشا۔

پاکستان کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے صحت، تعلیم، انفراسٹرکچراور فلاحی منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جب کبھی بھی پاکستان پر برا یا کڑا وقت آیا تو شانے سے شانہ ملا کر کھڑا ہوا۔سعودی عرب اور پاکستان کے مثالی تعلقات کی واضح مثال پاکستان کے ایٹمی دھماکے ہیں، دنیا کے اکثر ممالک ایٹمی دھماکوں پر پاکستان سے خوش نہ تھے۔  بہت سے ملکوں نے پاکستان کی امداد بند یا کم کردی تھی۔ 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد ملک پر بد ترین عالمی پابندیاں عائد ہوئیں تو سعودی عرب اس موقع پر بھی بڑا بھائی بن کر سامنے آیا۔ایک برس تک 50ہزار بیرل تیل ادھار دیا۔ 2005 کے بد ترین زلزلے اور 2010 کے تباہ کن سیلاب میں سعودی عرب نے پاکستان کی مدد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اس مشکل وقت میں شاہ عبداللہ کا پاکستان کی حمایت کرنا اس بات کا ثبوت ہی تو تھا کہ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر تصور کرتے تھے اور موجودہ شاہ سلمان بن عبد العزیز بھی پاکستان سے اسی طرح محبت و الفت رکھتے ہیں جس طرح سابقہ شاہ پاکستان سے رکھتے تھے۔اسی طرح پاکستان نے بھی کڑے وقت میں ہمیشہ سعودی عرب کا ساتھ دیا ہے۔ سعودی عرب کے حکمران، جس اخلاص اور فراخ دلی سے اسلام کی خدمت اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی معاونت کرتے ہیں، اس کے باعث بھی پوری دنیا کے مسلمان ان کے ساتھ خصوصی عقیدت رکھتے ہیں۔ جبکہ بحیثیت پاکستانی ہم پر سعودی عرب کا اکرام یوں بھی لازم ہے کہ پوری دنیا میں مملکتِ خداداد پاکستان سے مخلصانہ دوستی جس طرح سعودی عرب نے نبھائی ہے اور نبھا رہا ہے، وہ کہیں اور دکھائی نہیں دیتی۔ سعودی عرب کی کوشش رہی ہے کہ مسلم امہ میں اتحاد قائم کرے اور اس کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے۔

سعود بن محمد سے لے کر شاہ سلمان بن عبدالعزیز تک اس خاندان نے سعودی عرب کو ایک مکمل فلاحی اسلامی مملکت بنانے میں نہ صرف عظیم قربانیاں دی ہیں، بلکہ ایک طویل جدوجہد کے ذریعے اسلامی معاشرہ قائم کر دیا ہے۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی پاکستان کے ساتھ خصوصی محبت کرتے ہیں،انہوں نے موجودہ حکومت کے ابتدائی دور میں جب پاکستان کو پیسوں کی ضرورت تھی تو پاکستان کے خزانے میں تین ارب ڈالر جمع کرائے اس کے علاوہ تیل کی مد میں پاکستان کو مدد فراہم کی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کے سفرا بھی پاکستان میں کافی متحرک رہے ہیں اورسعودی عرب کے پاکستان میں سفیر نواف احمد سعید المالکی دونوں ممالک کے درمیان اتحاد و تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اس مقصد کیلئے سفارتی عملے کی تجربہ کار ٹیم بھی ان کے ہمراہ ہے جو پہلے بھی پاکستان میں اپنی خدمات سر انجام دے چکی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی جانب سے مکتب الدعوہ اور رابطہ عالم اسلامی جیسے ادارے بھی سعودی عرب کی سفارت کا کام بخوبی سر انجام دے رہے ہیں۔

رابطہ عالم اسلامی قائم کی اور یہ بین الاقوامی تنظیم کا درجہ رکھتی ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں یکجہتی پیدا کرنا، اسلام کی دعوت و تبلیغ اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دینا اور اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنا ہے۔حرم کے امور کے نگران امام کعبہ الشیخ عبدالرحمن السدیس بھی پاکستان سے بڑی محبت و عقیدت رکھتے ہیں اور متعدد بار وہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو پروان چڑھانے کیلئے پاکستان تشریف لا چکے ہیں۔سعودی عرب کی پاکستان سے دوستی رسمی، عارضی، مصلحت کی دوستی نہیں بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے عوام ایک دسرے سے روحانی تعلق کے تحت باہم جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستانیوں کے وجود کا مرکز و محور مکہ ان کی روح ہے تو مدینہ میں ان زندگی ہے۔ پاکستان اپنی روح اور زندگی کے بغیر ادھورے ہیں۔ وہ ان دونوں کے بغیر نہ مکمل اور کچھ بھی نہیں۔ اس لئے یہ رشتہ دونوں ممالک کے درمیان قائم و دائم رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -