امریکہ، برطانیہ اور آسڑیلیا کا دفاعی اتحاد اور نئی آویزش 

 امریکہ، برطانیہ اور آسڑیلیا کا دفاعی اتحاد اور نئی آویزش 
 امریکہ، برطانیہ اور آسڑیلیا کا دفاعی اتحاد اور نئی آویزش 

  

براؤن یونیورسٹی کی واٹسن انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کی طرف سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ بعنوان "جنگ کی لاگت" کے مندرجات کے مطابق افغان جنگ (2001-2021) پر امریکہ کے 14 ہزار ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اس رقم کا تہائی یعنی تقریباً 5000 ارب ڈالر دفاعی سازو سامان بنانے والی پانچ کمپنیوں یا ٹھیکہ داروں بشمول لاک ہیڈ مارٹن، بو ئنگ، جنرل ڈائنامکس، ریتھون اور نارتھ روپ گرومن نے کمائے۔رپوٹ میں لکھا گیا ہے کہ سر دست تو امریکہ افغانستان میں اپنی ہزیمت کے زخم چاٹ رہا ہے لیکن وہ میدان چھوڑنے والا ہرگز نہیں ہے وہ اپنی عالمی برتری قائم رکھنے کے لئے بہت جلد کسی نئی جنگ کا ڈول ڈالے گا۔ نیا میدان جنگ کہاں سجایا جائے گا۔ اس کا فیصلہ یہ پانچ بڑے ٹھیکیدار بھی کریں گے۔ 

امریکی نظام ریاست پر نظر رکھنے والے اس بارے میں وضاحت کے ساتھ بیان کرتے رہے ہیں کہ امریکی معیشت، جنگوں پر استوار ہے اور امریکی خارجہ پالیسی بھی اسی سوچ کے گرد گھومتی ہے امریکہ اپنی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کو اپنی معیشت اور معاشرت کے استحکام کے تناظر میں ترتیب دیتا ہے۔ جنگیں، امریکی کمپنیوں کی پیداوار کی طلب میں اضافہ کرتی ہیں جسے پورا کرنے کے لئے پیداوار ی حجم کو بڑھایا جاتا ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ گردش زر میں اضافہ ہوتا ہے اشیاء صرف اور اشیاء تعیش کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس طرح معاشی سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں سرکاری خزانے میں ٹیکس جمع ہوتا ہے ترقیاتی کام کرنے کے لیے دستیاب مالی ذرائع کی فراوانی خوشحالی لاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی یہی خصوصیت ہے امریکہ اس نظام کا سرخیل ہے پوری دنیا میں اس نظام کی نمائندگی ہی نہیں کرتا بلکہ اسے پھیلانے اور برآمد کرنے میں کلیدی کردار بھی ادا کرتا ہے۔جنگ کوریا ہو یا ویتنام کی جنگ، سوویت یونین کو افغانستان میں شکست دینے کی منصوبہ سازی ہو یا خلیج میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم ہو یا ڈیزرٹ شیلڈ، ہر جگہ، ہر دفعہ یہی فلسفہ کام کرتا رہا ہے اور اب بھی کرے گا۔ 

افغانستان میں بھی یہی فلسفہ چلا ہے۔ یہاں اربوں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نے امریکی ملٹری مشین کو فعال اور متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور افغانستان سے رخصتی کے بعد امریکہ کسی نئے محاذ ِ جنگ کی تلاش میں سرگرم عمل ہو چکا ہے۔ تا کہ اس کی ملٹری مشین فعال رہے اس حوالے سے چین اس کا نیا اور تازہ دم دشمن ہے چین نے بغیر کسی شور شرابے کے اپنی عالمی ساکھ بنا لی ہے۔5-G کی لانچ کے ذریعے اس نے اپنی تکنیکی برتری بھی ثابت کر دکھائی ہے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے دنیا کے تین براعظموں میں اپنے قدم جما لیے ہیں۔ افغانستان میں امریکی شکست نے امریکہ کی عالمی ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے امریکہ اور برطانیہ نے آسٹریلیا کے ساتھ مل کر ایک نئے عسکری اتحاد کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے ذریعے چین کے انڈوپیسفک میں بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے کی حکمت ِ عملی اختیار کی گئی ہے۔ 

امریکی صدر جو بائیڈن،

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور آسٹریلوی وزیرا عظم سکاٹ موریسن نے حال ہی میں سہ افریقی دفاعی اتحاد کا اعلان کیا ہے گو انہوں نے چین کے خلاف کسی قسم کا بیا ن نہیں دیا ہے لیکن اس اتحاد کے ذریعے چین کے ساتھ تائیوان اورساؤتھ چائنا سی کے معاملات پر دو دو ہاتھ کیے جائیں گے۔ سہ فریقی اتحاد معلومات کے تبادلے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون کو فروغ دے گا۔ امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کے ساتھ ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی تعاون کریں گے آسٹریلیا غیر ایٹمی طاقت ہے دونوں ممالک آسٹریلیا کو آٹھ نیوکلئیر آبدوزوں کی تیاری میں مدد فراہم کریں گے یہ آبدوزیں ایٹمی پلانٹ کے ذریعے چلیں گی لیکن ان پر ایٹمی میزائل نصب نہیں ہونگے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ آسٹریلیا نہ تو ایٹمی ہتھیار حاصل کرے گا اور نہ ہی سول نیو کلئیر ٹیکنالوجی حاصل کرے گا۔ اس سہ افریقی معاہدے کے بارے میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہاہے کہ یہ معاہدہ علاقائی امن کو برباد کرے گا اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی کا باعث بنے گا۔ 

آسٹریلیا کے ہمسائے نیو زی لینڈ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پانیوں میں کسی قسم کی ایٹمی آبدوزوں کی نقل و حرکت کی اجازت نہیں دے گا۔ آسٹریلیا کے ایٹمی بیٹرے کو خطے میں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ چین نے مجموعی طور پر اس معاہدے کو "غیر ذمہ دار انہ " قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لیکن امریکی پالیسیوں اور نظام ریاست و سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ سہ فریقی معاہدہ خطے میں ایک نئی جنگ کی تیاری ہے جس کے ذریعے امریکہ، تائیوان اور ساؤتھ چائنا سی پر چین کے اثرو رسوخ اور علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو لگام دینے کی کاوشوں کا آغاز کر رہاہے چین کا جواب اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ آسانی سے امریکی پالیسیوں کو برداشت نہیں کرے گا بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے جوابی کاروائی کرنے سے باز نہیں رہے گا۔ 

جنوب مشرقی ایشیا میں چین پہلے ہی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے پہنچ چکا ہے۔ افغانستان میں امریکی شکست کے بعد چین، روس، ایران، ترکی اور پاکستان کے ساتھ مل کر ایک ایسی حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے جس سے خطے میں چینی اثرات اور بھی موثر صورت اختیار کرنے جا رہے ہیں۔ چین کی گوادر اور چاہ بہار تک رسائی اور سی پیک کے ذریعے زمینی رسائی نے اسکی سٹریٹجک پوزیشن میں استحکام پیدا کیا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ دو دو ہاتھ کر کے چین نے اپنا عسکری بازو بھی دکھا دیا ہے۔آنے والے وقتوں میں یہاں ایک نئے کھیل کا آغاز ہونے جا رہا ہے ایک نئی گرم و سرد جنگ جس میں امریکہ اور چین مدمقابل ہونگے۔

مزید :

رائے -کالم -