سیاسی کارکنوں کی طاقت اور تاریخ کا کوڑا دان 

سیاسی کارکنوں کی طاقت اور تاریخ کا کوڑا دان 
سیاسی کارکنوں کی طاقت اور تاریخ کا کوڑا دان 

  

مسلم لیگ (ن) نے ڈویژن کی سطح پر اپنے تنظیمی جلسوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جن سے نوازشریف بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہیں ان اجلاسوں میں کارکنوں کو بھی پارٹی عہدیداروں کے ساتھ بڑی تعداد میں بلایا جاتا ہے۔ گویا یہ کہنا مناسب ہوگا مسلم لیگ (ن)  وہ پہلی جماعت بن گئی ہے جسے کارکنوں کی یاد ستانے لگی ہے۔ وگرنہ تو اس مخلوق کی یاد اس وقت آتی ہے جب انتخابات کا اعلان ہو چکا ہوتا ہے پھر اس کے ناز نخرے بھی اٹھائے جاتے ہیں اور اس کی فرمائشیں بھی پوری کی جاتی ہیں حال ہی میں دو سیاسی جماعتیں کارکنوں کو نظر انداز کرنے کا خمیازہ بھگت چکی ہیں۔ یہ خرابی اگر برسر اقتدار جماعت میں آ جائے تو اس کی مقبولیت کا گراف جلے ہوئے ہیلی کاپٹر کی طرح نیچے آتا ہے۔ اس وقت تحریک انصاف جس عدم مقبولیت کے دور سے گزر رہی ہے اس میں کارکنوں کو نظر انداز کرنے کی ایک بڑی وجہ بھی شامل ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں جو کچھ تحریک انصاف کے ساتھ ہوا وہ اسی کارکن دشمنی کا نتیجہ ہے یہ کارکن ہی ہوتے ہیں جو جلسوں کی رونق بڑھاتے ہیں، عوام کو متحرک کرتے ہیں، پولنگ کے دن ووٹروں کو گھروں سے نکال کر لاتے ہیں، پولنگ کیمپوں کی شان بڑھاتے ہیں اس بار کیا ہوا، تحریک انصاف کے پولنگ کیمپوں میں الو بول رہے تھے، خالی کرسیاں منہ چڑا رہی تھیں چلیں مانا کہ ووٹروں نے ان کا رخ نہیں کیا، مگر پولنگ کے دن کارکن کہاں چلے گئے۔ وہ کیمپوں میں موجود ہوتے تو ویرانی کا نقشہ تو نہ اُبھرتا۔ معلوم نہیں تحریک انصاف نے ان انتخابات سے کوئی سبق سیکھا ہے یا نہیں، البتہ کارکنوں نے اپنی قیادت کو یہ سبق دے دیا ہے ہمیں نظر انداز کرو گے تو تمہیں عبرتناک شکست بھی ہو گی اور بڑی ہزیمت کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

پچھلے دنوں جب بلاول بھٹو زرداری ملتان کے دورے پر آئے تو ان کا خاطر خواہ استقبال نہ ہو سکا عقدہ یہ کھلا کہ ملتان میں گیلانی خاندان نے پارٹی کو اپنی جاگیر بنا رکھا ہے اور کارکنوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہوا ہے۔ یہ بات بلاول بھٹو زرداری سے بھی نہ چھپ سکی اور مظفر آباد کے علاقے میں جب سابق صوبائی وزیر سید ناظم حسین شاہ مرحوم کے گھر تعزیت کے لئے گئے تو کارکنوں نے انہیں گھیر لیا، اپنی بپتا سنائی اور کہا کارکنوں کی جماعت کو وڈیروں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اُنہیں آپ سے ملاقات کے لئے بلایا ہی نہیں گیا، حالانکہ ہم بے نظیر بھٹو کے دور سے پیپلزپارٹی کے جیالے ہیں اس پر بلاول بھٹو زرداری نے سید یوسف رضا گیلانی سے کارکنوں کی موجودگی میں کہا ان کی شکایت دور کریں اور انہیں وہی اہمیت دیں جو پارٹی میں ہمیشہ کارکنوں کی رہی ہے۔ اس وقت تو کارکنوں نے بلاول بھٹو زندہ باد کے نعرے لگا دیئے مگر بعد میں انہیں اندازہ ہوا انہیں پہلے سے زیادہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ ملتان ہے جس کے محترمہ بے نظیر بھٹو جب دور ے پر آتی تھیں تو سڑکوں پر کارکنوں کے بھنگڑے، جوش و خروش اور استقبالیہ کیمپ دیدنی ہوتے تھے۔ پورا شہر ان کے استقبال کے لئے امنڈا نظر آتا تھا، کیونکہ کارکنوں کا جم غفیر ہر جگہ ان کے ساتھ اور ان کے استقبال کے لئے موجود ہوتا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری ملتان آئے تو ان کا استقبال کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں تو کیا بیسیوں میں بھی نہیں تھی۔ لوگ حیران تھے۔ پیپلزپارٹی کے کارکن کہاں چلے گئے انہیں تو اپنے جواں سال چیئرمین کے لئے سڑکوں پر امنڈ آنا چاہئے تھا۔ یہاں تو سیکورٹی والے زیادہ اور کارکن کم نظر آ رہے تھے۔

پھر ایک اور موازنہ بھی ہوا جب سید یوسف رضا گیلانی سینٹ میں قائد حزب اختلاف کا منصب حاصل کر کے ملتان آئے تو ان کے بیٹوں نے پورا زور لگایا کہ ان کا شاندار استقبال ہونا چاہئے کارکنوں کی منتیں بھی کیں اور ناراض پارٹی عہدیداروں کو گھر گھر جا کے منایا بھی جس کا نتیجہ یہ نکلا سید یوسف رضا گیلانی کا بھرپور استقبال ہوا۔ لیکن اب چیئرمین کے آنے پر ملتان کی خالی سڑکوں پر ان کے قافلے گزرتے رہے۔ اس کی بنیادی وجہ کیا تھی؟ اس بارے میں چہ میگوئیاں جاری ہیں سید یوسف رضا گیلانی شاید یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ ملتان ان کا ہے اور وہ بلاول بھٹو زرداری سے بھی زیادہ اپنے شہر میں مقبول ہیں۔ ان کے بیٹوں نے شہر بھر میں اپنے پینافلیکس تو لگوائے لیکن گھر گھر جا کے کارکنوں کو استقبال کے لئے متحرک نہیں کیا۔ اُلٹا دیرینہ کارکنوں کو بلاول بھٹو زرداری سے دور رکھنے کی حکمتِ عملی اختیار کی جس پر کارکنوں نے احتجاج بھی کیا۔ کارکنوں سے دوری کی ایسی پالیسی تو وہ جماعت اختیار کرتی ہے جو اقتدار میں ہوتی ہے تاکہ کارکنوں کی فرمائشیں نہ پوری کرنا پڑیں۔ ایک ایسی جماعت جو عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور عوامی ہمدریاں حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے، اگر اس کے اکابرین بھی کارکنوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو ان کے لئے دعائے خیر ہی کی جا سکتی ہے۔ اس وقت پیپلزپارٹی کا حال کچھ ایسا ہی ہے۔

جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے، اس کے ارکانِ اسمبلی میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو کارکنوں کی دسترس میں رہتا ہو کارکنوں سے دوری کی جو مثالیں تحریک انصاف نے قائم کی ہیں، ان کا ریکارڈ شاید ہی ٹوٹ سکے۔ حالانکہ اس کے کارکنوں میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے جو جنون کی حد تک عمران خان اور تحریک انصاف سے عشق کرتے تھے۔ مگر آج پارٹی کے اندرونی انتشار اور چہیتوں کو نوازنے کی وجہ سے کارکنوں میں بددلی پھیل چکی ہے۔ میں ملتان کے ایسے بیسیوں کارکنوں کو جانتا ہوں، جو پارٹی سے لاتعلق ہو چکے ہیں اکثر کا شکوہ یہی ہے ملتان میں شاہ محمود قریشی اور ملک عامر ڈوگر نے پارٹی کو تباہ کر دیا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابی نتائج کے بعد پریس کانفرنسوں کے ذریعے ہارنے والے امیدوار اور دوسری طرف کارکن سنگین الزامات لگا رہے ہیں سب سے بڑا جھگڑا شاہ محمود قریشی بشمول عامر ڈوگر اور ملک احمد حسن دیہڑ ایم این اے گروپ کے درمیان ہے۔ دونوں طرف سے الزام لگائے جا رہے ہیں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں شکست ان کی وجہ سے ہوئی۔ احمد حسن دیہڑ گروپ کے حامیوں کا کہنا ہے ملک عامر ڈوگر نے غلط لوگوں کو ٹکٹ دیئے جبکہ عامر ڈوگر گروپ کے حامی کہتے ہیں امیدواروں کو ہروانے کے لئے احمد حسن دیہڑ نے سازش کی۔ حالانکہ اس شکست کی اصل وجہ یہ تھی کہ کارکنوں کی رائے کو نظر انداز کیا گیا۔ انہیں کسی مرحلے پر بھی اہمیت نہیں دی گئی۔ کارکنوں کو نظر انداز کرنے والی سیاسی جماعتیں تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہو جاتی ہیں، یہی تاریخ کا سبق ہے۔

مزید :

رائے -کالم -