صدی کا انسان

صدی کا انسان

  

مجیب الرحمٰن شامی

نام ابوالاعلیٰ، بندۂ باری تعالیٰ …… دار او سکندر سے یہ مرد فقیر اعلیٰ …… لطافتوں کا پیرا یہ، شفقتوں کا کایہ، مسکراہٹوں کا سایہ، خواجہ مودود چشتیؒ کا سرمایہ، پاکیزگی کا جایا، بندۂ خاکی، مگر جبریل کا ہمسایہ۔

رنگ گورا شفق بکھیرتا ہوا۔ پیشانی کشادہ و بلند گویا عالی دماغ کا احاطہ کئے ہوئے ایک استخوانی بند، بحر معراج کے طلاطم جس میں نظر بند……

آنکھیں بڑی بڑی، اشیاء کی حقیقتوں کو دیکھتی ہوئیں، دیکھنے سے زیادہ بولتی ہوئیں، بولنے سے زیادہ سوچتی ہوئیں، سوچنے سے زیادہ روشنی بکھیرتی، رہگذر کو منور کرتی ہوئیں …… ملت کے کاروانِ گم گشتہ کے لئے روشن مینار، تاریخ کے نشیب و فراز کی راز دار، واقفِ رموز و اسرار، مستقبل ان پرآشکار، مئے توحید سے سرشار، دوگوہر آبدار …… ان پر آویزاں چشمہ زرنگار …… جیسے خوبصورت فریم میں مصور کا شاہکار ……

عزائم بلند، استقامت کا کوہ الوند، فلسفے، تحقیق اور تاریخ کے سیاروں پرف کر رسا کی کمند، گفتگو شکر قند، اللہ کی سوگند، گھر جس کا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمر قند ……

میٹھے بول بولنے والے پتلے لب، جان ادب …… نہ مبالغے سے شناسا، نہ جھوٹ سے آشنا، سرچشمہ صدق و  صفا خاموش ہوں تو رفتار زمانہ گوش برآواز …… کھیلیں تو خود سخن کو وجہ افتخار و ناز ……

شیریں دہن، چمکتے دانتوں سے مزین …… پانوں کی مسلسل رفاقت جن کے حسن کو کبھی متاثر نہ کر سکی کہ انہیں جس شخص سے نسبت تھی وہ نہ رنگ بدلنے سے آگاہ تھا، نہ کسی کا رنگ قبول کرنا اس کی سرشت میں تھا، نہ اللہ کے رنگ کے سوا کسی رنگ میں اسے رنگنا ممکن تھا۔

ہونٹوں کو پیش بیس آنکھوں سے ملاتی متوازن ناک، داتیات سے پاک …… کوئی شخصی یا ذاتی معاملہ اس ناک کا مسئلہ نہ بنا، نہ اصول کے سوال پر یہ ناک کبھی نیچی ہو سکی۔

چہرے کے شگفتہ تاثر کی حفاظت کرتی ہوئی سفید براق ڈاڑھی …… نہ طویل نہ قلیل ……

سر کے بال پٹے دار، جیسے نقرئی تار …… ڈاڑھی کیس اتھ مل کر چاند کے گرد بالہ بناتے، جلال و جمال کو دوبالا کرتے اور اجالا پھیلاتے۔

قدمیانہ، سینہ چوڑا، شانے مضبوط مگر خمیدہ ……جیسے علم و حکمت کا بوجھ اورذمہ داریوں کا احساس پوشیدہ، اک آئینہ اوصاف حمیدہ……

صاحب تفہیم القرآن، بولیں تو معافی کا اک جہان، نہیں تو اک طوفان، چلیں تو صورت ”عبدرحمان“ لکھیں تو ”ترجمان القرآن“ …… کردار میں گفتار میں اللہ کی برہان، شکوۂ اقبال کے قبول کا فرمان ”حاضر و موجود سے بیزاری“ کا اعلان، اس صدی کا انسان …… زندگی اک عرصہ ء امتحان …… موت حیاتِ جاوداں ……

فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا

ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -