گومل یونیورسٹی کا مفاد اسی طرح عزیز ہے جیسے زرعی یونیورسٹی کا مفاد: ڈاکٹر مسرور الٰہی

گومل یونیورسٹی کا مفاد اسی طرح عزیز ہے جیسے زرعی یونیورسٹی کا مفاد: ڈاکٹر ...

  

 ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ)زرعی یونیورسٹی بننے سے گومل یونیورسٹی کو کسی قسم کا نقصان نہیں پاکستان میں ایک یونیورسٹی سے متعدد یونیورسٹیاں بننے کی کامیاب مثالیں موجود ہیں۔گومل یونیورسٹی کو ماضی میں سیاسی اور ذاتی مفادات کی خاطر تباہی کی جانب لے جایا گیا اوراب بھی ایک مخصوص مافیا انہی سازشوں میں مصروف ہے۔کشتی کبھی خود نہیں ڈبوتی جب تک کشتی میں بیٹھے ہوئے ہی اس میں خودسوراخ نہ کر یں۔ ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مسرور الہی بابر(تمغہ امتیاز) نے ریڈیو پاکستان، ٹی وی چینلز' نیشنل اور لوکل اخبارات کے سینئر صحافیوں سے ملاقات میں کیا۔وائس چانسلر ڈاکٹر مسرور الہی بابر نے کہا کہ گومل یونیورسٹی کے اثاثے ایک اعلی سطحی کمیٹی کی نگرانی میں تقسیم ہوئے جس میں 75فیصد گومل یونیورسٹی جبکہ 25فیصد زرعی یونیورسٹی کو دیئے گئے۔ اگر ا س سلسلے میں کوئی چھوٹی موٹی غلطی رہ بھی گئی تو اس کو ٹھیک کر لیا جائے گا اور گومل یونیورسٹی کو کسی بھی صورت نقصان نہیں ہوگا۔گومل یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے ماضی میں زرعی فیکلٹی میں کنٹریکٹ پر بھرتی ملازمین کو بھی زرعی یونیورسٹی میں کنٹریکٹ پر ضم کیا گیا ہے جہاں باقائدہ طور پر تمام تر قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ان ملازمین کو ریگولر کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ زرعی یونیورسٹی کے اثاثہ جات کی تقسیم کے حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا/ چانسلر گومل یونیورسٹی کے حکم پر107ویں سنڈیکیٹ میٹنگ کا انعقاد کروایا گیا جس میں موجود 18ممبران میں سے 14ممبران نے زرعی یونیورسٹی کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 4ممبران نے مخالف ووٹ دیا۔میٹنگ کے مینٹس لکھے جانے پر تمام ممبران نے من و عن میٹنگ دستخط کئے جبکہ تین سنڈیکیٹ ممبران نے اپنا اختلافی نوٹ لکھا۔ جب کچھ حضرات کے ناجائزکاموں سے انکار کیا تو یہ لوگ زرعی یونیورسٹی کی مخالفت پر اتر آئے۔وائس چانسلر ڈاکٹر مسرور الہی نے مزید کہا کہ زرعی یونیورسٹی کے قیام میں میرے کوئی ذاتی یا سیاسی مقاصد نہیں ہیں گومل یونیورسٹی کا مفاد مجھے اسی طرح عزیز ہے جیسے زرعی یونیورسٹی کا مفاد۔ چار سال قبل زرعی فیکلٹی کو اپ گریڈ کرکے زرعی یونیورسٹی بنانے کی این او سی گومل یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر نے دی سب خاموش رہے۔ اس کے بعد اسی حوالے سے میٹنگ کا سلسلہ جاری رہا اور گزشتہ ایک سال سے زرعی یونیورسٹی کے قیام کیلئے لگاتار میٹنگ جاری رہیں اور آج جب یہ یونیورسٹی بن گئی ہے اور اب اثاثہ جات کی تقسیم ہو گئی ہے تواسے مسئلہ بنا دیا گیا ہے کیونکہ اس کی وجہ گومل دوستی نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔گومل یونیورسٹی کے مستقبل کے حوالے سے سینئر صحافی کے کئے جانیوالے سوال کا جواب دیتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر مسرور الہی نے بتایا کہ سابقہ دور میں گومل یونیورسٹی کو فیسوں کی مد میں کروڑوں کا نقصان پہنچایا گیا۔ کالجز کی ایفی لی ایشن میں مالی کرپشن کی داستانیں الگ ہیں دیگر معاملات بھی ہوشربا ہیں یہی عناصر گومل کی تباہی میں پیش پیش ہیں مگر کوئی انکے خلاف نہیں بولتا۔اگر ان کی ریکوری کی جائے تو جوپیسے گومل یونیورسٹی کو ملیں گے جس سے گومل یونیورسٹی کا بہت بڑا خسارہ دو رہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ان پر ایکشن لے لیاہے۔عدلیہ کااحترام میری ترجیحات وفرائض میں شامل ہے۔ حکومت کی جانب سے ملنے والی گرانٹ کے سوال پر وائس چانسلر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں حکومت کی جانب سے ایک بڑی گرانٹ کا اعلان ہونا چاہئے تاکہ یہ مادر علمی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج جو عناصر زرعی یونیورسٹی بننے کو گومل یونیورسٹی کی تباہی گردانتے ہیں وہ گومل یونیورسٹی کی کیا خدمت کرتے رہے ہیں کوئی مثال نہیں۔ اکثر و بیشتر اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کرتے۔ میں نے آتے ہی یہاں کے اساتذہ کو کہا کہ اپنے پراجیکٹ جمع کرائیں تاکہ مالی خسارے میں کمی کا باعث بنیں۔ یونیورسٹی کے اساتذہ کا کام ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ لانا اور ان پر کام کرنا ہوتا ہے جو ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیساتھ ساتھ مالی معاونت میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں وائس چانسلر نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں نئے تعلیمی پروگراموں کا آغاز کیا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں اکیڈمک کونسل میں بہت سے پروگرام منظور کرائے جن میں سے سنڈیکیٹ میٹنگ میں چند پروگراموں اور ڈپلومہ کو منظوری دی گئی اور باقی نئے شعبہ جات کوشروع کرنے کے حوالے سے دیگر قانونی تقاضوں کو پورا کرکے اگلی سنڈیکیٹ میں دوبارہ لانے کا کہا تاکہ ان پروگراموں کو بھی منظور کرکے جلد از جلد شروع کیا جائے۔وائس چانسلر نے مزید کہاکہ میں کسی رشتے دار کو یہاں نہ بھرتی کروں گا اور نہ ہی بغیر میرٹ کے یہاں سے کسی رشتے دار کو تعلیم دلانے کا ارادہ ہے زرعی یونیورسٹی کے قیام سے ڈیرہ اسماعیل خان کی عوام مستفید ہو گی۔جس سے اس علاقے کے طلبا کی ایک بڑی تعداد مستفید ہو گی اور علاقے میں بہت زیادہ نوکریوں کے مواقع بھی میسر آئینگے۔کیونکہ مرکزی وصوبائی حکومت نے علاقے کے مستقبل کو مدنظر رکھ کر زرعی یونیورسٹی بنائی اور انشا اللہ یہ دونوں یونیورسٹیاں ترقی کرینگی اور دور رس ثمرات دینگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -