امن کیلئے عمران خان کی کوششیں قابل ستائش، عالمی برادری نئی افغان حکومت کو جلد تسلیم کرے: ذبیح اللہ مجاہد

    امن کیلئے عمران خان کی کوششیں قابل ستائش، عالمی برادری نئی افغان حکومت ...

  

 کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے نائب وزیراطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے عمران خان کا کردار قابل تعریف ہے،پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے، ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کررہا، افغانستان میں مشکلات کے باوجود جلد استحکام پیدا ہو جائے گا، جامع حکومت کی تشکیل کی جانب بڑھ رہے ہیں، نئی کابینہ میں اقلیتی برادری کو بھی شامل کیا جائے گا، عالمی برادری کے مثبت مشوروں کی قدر کریں گے تاہم عالمی برادری نئی افغان حکومت کو جلد تسلیم کرے۔ کابل میں پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیراطلاعات افغانستان ذبیح اللہ مجاہد نے وزیراعظم عمران خان کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئی کابینہ میں افغانیوں کی خدمت کرنے والوں کو شامل کریں گے،عالمی برادری کے مثبت مشوروں کی قدر کریں گے تاہم عالمی برادری نئی افغان حکومت کو جلد تسلیم کرے۔نائب وزیراطلاعات افغان حکومت نے کہا کہ ننگرہار، جلال آباد میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں، جب کہ داعش تنظیم افغانستان میں موجود نہیں۔پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کرنیوالوں کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے، طالبان کے ترجمان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے امدادی سامان لیکر جانے والے ٹرک سے پاکستانی پرچم اتارنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد

 کابل(این این آئی) طالبان نے عبوری کابینہ میں مزید 10 نئے وزرا کو شامل کیا ہے تاہم یہ وزرا مختلف وزارتوں میں نائبین کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ عالمی میڈیا کے مطابق طالبان نے امارت اسلامیہ افغانستان کی عبوری کابینہ میں وزارت دفاع، داخلہ، توانائی، تجارت، صحت اور قومی اولمپک کمیٹی میں 10 نائب وزرا کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس بار بھی خاتون کو یا کسی اور جماعت کے رکن کو کابینہ میں جگہ نہیں دی گئی۔نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس جن 10 نئے نائب وزرا کے ناموں کا اعلان کیا ہے ان میں ڈاکٹر قلندر عباد، قائم مقام وزیر صحت، ڈاکٹر عبدالباری عمر، نائب وزیر صحت، ڈاکٹر محمد حسن غیاثی، نائب وزیر صحت، حاجی نورالدین عزیزی، قائم مقام وزیر تجارت، حاجی محمد بشیر، نائب وزیر تجارت، حاجی محمد عظیم سلطان زادہ، نائب وزیر تجارت، ملا محمد ابراہیم، نائب وزیر داخلہ، ملا عبدالقیوم ذاکر، نائب وزیر دفاع، انجینئر نذر محمد متمن، قائم مقام چیئرمین، نیشنل اولمپک کمیٹی، انجینئر مجیب الرحمان عمر، نائب وزیر توانائی شامل ہیں۔یاد رہے کہ اگست کے وسط میں افغانستان کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان نے 7 ستمبر کو 33 رکنی عبوری کابینہ کا اعلان کیا تھا جس میں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ جب کہ نائب وزرائے اعظم ملا عبدالغنی برادر اور عبدالسلام حنفی مقرر کیے گئے تھے۔33 رکنی عبوری کابینہ میں بھی کوئی خاتون شامل نہیں تھیں اس لیے امید کی جارہی تھی کہ عالمی دباؤکو مدنظر رکھتے ہوئے طالبان اس بار کسی خاتون کو کابینہ میں شامل کرلیں گے تاہم ایسا نہ ہوسکا۔اسی طرح کابینہ کی توسیع میں مخلوط حکومت کے قیام کے عالمی دباؤ کو بھی مسترد کردیا گیا اور کابینہ کے ارکان کی اکثریت قندھار اور پکتیا صوبوں سے تعلق رکھتی ہے اور زیادہ تر طالبان کے بانیان ہیں۔

عبوری کابینہ

مزید :

صفحہ اول -