قومی اسمبلی، شہباز شریف اور شیریں مزاری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ، پیپلز پارٹی کی طرف سے کورم کی نشاندہی

قومی اسمبلی، شہباز شریف اور شیریں مزاری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ، ...

  

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا شیریں مزاری نے خواجہ آصف کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کا بھائی ملک لوٹ کر باہر بھاگ گیا ہے اور خواجہ آصف نے کہا کہ میں نے بھی ان کو پہلے کچھ کہا تھا قومی اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئرمین کے ممبر امجد خان نیازی کی سربراہی میں منعقد ہوا پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ میں 16 ہزار ملازمین کے حوالے سے ایک تحریک لانا چاہتی ہوں اور یہ ایک متفقہ تحریک ہے میں اس کو پیش کرنا چاہتی ہوں اس پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی مور نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت ریویو پٹیشن میں چلی گئی ہے اور اللہ کرے تمام ملازمین بحال ہو جائیں اور جو کچھ ہو گا وہ قانون کے مطابق ہو گا ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کا روز گار بحال رہے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ شازیہ مری کو تحریک پیش کرنے دی جائے یہ ممبران کا استحقاق ہوتا ہے کیا ہو جائے گا اگر تحریک پیش کر دی جائے خواجہ آصف نے کہا کہ ان میں سے ان میں سے زیادہ لوگ ریٹائر منٹ کے قریب ہیں ان سے کوئی سیٹل منٹ کر لی جائے اور معاملات حل ہو جائیں اس پر وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ ان کو شرم نہیں آتی ان ملازمین کو انہوں نے خود نکالا تھا آج ان کی بحالی کی بات کرتے ہیں شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی وزیر انسانی حقوق نے جو گفتگو کی ہے قابل مذمت ہے ایسی گفتگو برداشت نہیں کریں گے پی آئی اے اور سٹیل مل سے لوگوں کو نکال دیا گیا کیا ہم نے کیا ہے پورے 50 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کر دیا گیا وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں کہاں گئی ایک کروڑ نوکریاں  لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور یہ لوگ ہمیں باتیں کرتے ہیں کہا گیا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے لیکن تاریخ میں ایسی مہنگائی آج تک نہیں دیکھی آج آسمان بھی ان پر رور رہا ہے اس پر شیریں مزاری نے کہا کہ جو کہتے تھے پیٹ پھاڑ کر پیسے واپس لاؤں گا کدھر ہیں وہ پیسے جو انہوں نے لینے تھے بلکہ ان کا بھائی اربوں کوٹ کر ملک سے بھاگ گیا ہے اس شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے اتفاق فاؤنڈری فروخت کر کے ملک کا قرضہ اتارا گیا بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا نے ختم کی  وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے لوگوں کو نکالا تھا ہم نے وزیراعظم کے حکم کے مطابق ریویو پٹیشن دائر کی ہے کہ ملازمین کو بحال کروایا جائے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ جو بھی آئے گا وہ ہم سب اس کو تسلیم کریں گے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے اس ایوان میں کہا کہ یہ وہ ہیں ذرائع جس سے وہ اثاثے خریدے گئے لیکن پھر اپنی بات سے پیچھے ہٹ گئے اور عدالت سابق وزیراعظم کو بھلا رہی ہے سب کو عدالت میں پیش ہونا چاہیے  عدالت نے وزیراعظم عمران خان کو صادق اور امین کہا ہے اس پر شہباز شریف نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو عدالت سے سزا پاناما پر نہیں ہوئی تھی آقامہ پر ہوئی تھی میں ریکارڈ کو درست کرنا چاہتا تھا قادر پٹیل نے کہا کہ اس پر پاکستان پیپلز پارٹی کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا اس پر میں کورم کی نشاندھی کرتا ہوں اس پر پینل آف چیئرمین کے ممبر امجد خان نیازی نے قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ چار بجے تک ملتوی کر دیا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ کچھی کینال کا منصوبہ یقیناً عوامی تشویش کا حامل گزشتہ تین ادوارِ کی حکومتوں کے دوران جاری رہا لیکن اس کو مکمل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اب ہماری حکومت میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کی طرف توجہ دی گئی ہے اب اس کے فیز ٹو کے لیے 120 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں اس کا فیز ٹو کا کام اگست 2022 تک مکمل ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی  کے  اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس  پینل آف چیئرمین کے ممبر امجد علی خان کی سربراہی میں منعقد ہوا۔وزیر مملکت  علی محمد خان نے کہا ہے کہ منصوبہ بہت پرانا منصوبہ ہے 2002 کا منصوبہ ہے اگلے سال اگست میں فیز ٹو 2022 م پر کام مکمل ہو جائے گا 40 کلومیٹر باقی ہے وہ بھی اگلے سال تک مکمل ہو جائے گا اس سال 120 ملین روپے رکھے گئے 2007 میں اس منصوبے نے مکمل ہونا تھا یہ مشرف دور میں شروع ہوا اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا دور گزر گیا ہے 2022 اگست میں  فیز ٹو مکمل ہو جائے گا اس  منصوبے کا 72 فی صد کام مکمل ہو چکا ہے 22فی صد اگست 2022 میں مکمل ہو جائے گا چوتھی گورنمنٹ ہے جس میں یہ منصوبہ چل رہا ہے ہماری کوشش ہے کہ فیز ون پارٹ بی ہمارے دور میں مکمل ہو جائے اور یہ ملک آگے بڑے اور یہ منصوبہ جون  2023 میں مکمل ہو جائے گا

تلخ کلامی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعدا د بڑھانے کے بل سمیت پانچ نئے بل پیش کر دیئے  گئے ، جن میں ” علاقہ دارالحکومت  اسلام آباد انسداد گداگری بل “، ٹھیکیداران کی رجسٹریشن بل“، ”زینب الرٹ، جوابی ردعمل اوربازیابی (ترمیمی) بل “  اور  بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (ترمیمی) بل“  شامل ہیں، پانچوں بل مزید غور کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیئے گئے،  ”عدالت عظمیٰ (ججوں کی تعداد) (ترمیمی) بل“میں   ججوں کی تعداد 16سے بڑھا کر  25 کی گئی ہے۔منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس رکن اسمبلی امجد علی خان کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران  رکن اسمبلی منورہ بی بی بلوچ نے کچھی کینال فیز ٹو کا کام شروع نہ کئے جانے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا  جس کا جواب دیتے ہوئے  وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایوان کو بتایا کہ یہ بڑاپرانا منصوبہ تھا اس حکومت میں کافی اقدامات کئے گئے،2002کا پرانا منصوبہ تھا، پانچ چھ سال کام رکا بھی رہا، منصوبہ72فیصد مکمل ہوچکاہے، اس پر کام تیزی سے جاری ہے، اگست 2022کو فیز ون کا پارٹ ٹو مکمل ہو گا، توجہ دلاؤنوٹس  متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا جبکہ مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی  احسن اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے  کہا کہ حکومت نوٹس لے کہ  اتنے زیادہ بجلی کے  بوگس بل دیہاتی علاقوں میں دیئے جارہے ہیں، اس کانوٹس لیا جائے۔ اجلاس کے دوران  رکن اسمبلی جیمز اقبال نے” علاقہ دارالحکومت  اسلام آباد انسداد گداگری بل2021 “پیش کیا،جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،رکن اسمبلی عظمیٰ ریاض نے”ٹھیکیداران کی رجسٹریشن بل 2021“پیش کیا، بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا، رکن اسمبلی قادر خان مندوخیل نے”عدالت عظمیٰ (ججوں کی تعداد) (ترمیمی) بل 2021“پیش کیا بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،  رکن اسمبلی آغا رفیع اللہ نے”قومی کمیشن برائے انسانی حقوق(ترمیمی) بل2021“ پیش کرنے کی اجازت مانگی۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بل کی مخالفت کی جبکہ پینل آف چیئر کی جانب سے   بل پیش کئے جانے کی اجازت نہ ملنے پر  بل موخر کر دیا گیا۔ دریں اثنا  رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے ”زینب الرٹ، جوابی ردعمل اوربازیابی (ترمیمی) بل 2021“ پیش کیا  جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ۔ رکن اسمبلی نوید عامر جیوا  نے''  بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (ترمیمی) بل ''2021پیش کیا جسے پینل آف چیئرنے  متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ۔

بل پیش

مزید :

صفحہ اول -