دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی، کورونا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے بڑے مسائل کا سامنا: صدر بائیڈن

دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی، کورونا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے بڑے مسائل ...

  

  واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ)  امریکی صدر جوبائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ اس وقت دنیا تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں اسے درپیش تین بڑے مسائل کو نمٹنے کیلئے تیزی سے تعاون کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے منگل کے روز نیو یارک میں اقوام متحدہ  کی جنرل اسمبلی میں ذاتی طور پر پہنچ کر صدر کی حیثیت سے اپنے پہلے خطاب میں بتایا کہ ان مسائل میں کووڈ19- کی وباء ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔  امریکہ کی چین کے ساتھ جو مسلسل کشیدگی چل رہی ہے اس کے حوالے سے صدر بائیڈن نے چین کا نام لئے بغیر واضح کیا کہ امریکہ نئی سرد جنگ شروع کرنے یا دنیا کو سخت گیر بلاکوں میں تقسیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ صدر نے گزشتہ ماہ افغانستان میں امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کو ختم کرنے کے اعلان کے حوالے سے بتایا کہ اب ان کی انتظامیہ کی ساری توجہ جنگ کی بجائے ایک پرزور ڈپلومیسی پر ہوگی جس کے ذریعے دنیا کو درپیش بے شمار بحرانوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اپنے امریکی عوام کا خیال رکھنا ہے تو پھر ہمیں باقی دنیا کے امور میں بھرپور طریقے سے  شامل رہناہوگا۔ صدربائیڈن  نے کہا کہ ”ہم نے افغانستان کے ساتھ بیس سالہ تصادم ختم کیا ہے اور جہاں ہم اس شدید جنگ کا مرحلہ ختم کر رہے ہیں وہاں ہم اتنی ہی زور دار ڈپلومیسی کا نیا دور شروع کر رہے ہیں جہں ہم ترقیاتی امداد کا استعمال کر کے دنیا بھر کے عوام کی حالت سدھارنے کے نئے طریقے اختیار کریں گے“۔  صدر بائیڈن نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ٹیکنالوجی کے شعبے میں درپیش خطرات کے ساتھ چین اور روس جیسی مطلق العنان قوموں کے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کا مقابلہ کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی اہم شراکت داروں کی طرح مل کر کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے افغانستان سے انخلاء کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تشویش کن مسائل اسلحے کے زور سے حل نہیں ہوسکتے۔ بم اور گولیاں کووڈ19 اور اس کی بدلتی شکلوں کو ختم کرنے میں مدد نہیں دے سکتے۔  صدر بائیڈن سوموار کی شام نیویارک پہنچے تھے۔ جہاں انہوں نے آتے ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹوینو گٹرس سے ملاقات کی اور تاریخ کے اس مشکل لمحے میں عالمی ادارے کے مقاصد اور عزائم کی پرزور تائید کا یقین دلایا۔ انہوں نے بات چیت میں اپنا مخصوص فقرہ دہرایا کہ ”امریکہ واپس آگیا ہے“ جس کا مطلب یہ ہے کہ سابق صدرٹرمپ نے عالمی اداروں اور اپنے حلفوں سے و دوری پیدا کی تھی وہ اب ختم ہوگئی ہے۔

بائیڈن

مزید :

صفحہ اول -