ناقص اقتصادی ماڈل بحرانوں کا سبب ہے،ڈاکٹرمرتضیٰ مغل

  ناقص اقتصادی ماڈل بحرانوں کا سبب ہے،ڈاکٹرمرتضیٰ مغل

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ملک کا اقتصادی ماڈل تضادات سے بھرپور اور انتہائی ناقص ہے جسے درست کرنے کے بجائے شارٹ کٹس پر توجہ دی جا رہی ہے۔سبسڈی اور پیکجز کے زریعے برامدات بڑھانے کی پالیسی غلط ہے۔برامدات بڑھانے کے لئے بہتر پالیسیوں صنعتی سرمایہ کاری میں اضافہ اور نئی ٹیکنالوجی پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے جو نہیں کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ جب بھی کوئی حکومت سرعت سے برامدات بڑھانے کی کوشش کرتی ہے اس سے تجارتی خسارہ اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے، روپیہ گرنے لگتا ہے، ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے اور نتیجہ وقتی خوشی کے بعدمنی بجٹ کی صورت میں نکلتا ہے جس کے بعد آئی ایم ایف کے در پر حاضری دینی پڑتی ہے۔بار بار کے ناکام تجربات کے باوجود برامدی ماڈل میں دیرپا تبدیلی کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت کو ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ تجارتی خسارہ 37.6 ارب ڈالرو راثت میں ملا تھا جسے دو سال میں 23.3 ارب ڈالر تک کم کیا گیا مگر اب جولائی اور اگست میں یہ ساڑھے سات ارب ڈالر ہو گیا ہے جو اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو ایک نیا ریکارڈ قائم ہوجائے گا۔انھوں نے کہا کہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے جس سے صورتحال پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔روپیہ ٹشو پیپر بن چکا ہے جسے بچانے کے لئے بنیادی شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کے بجائے کم از کم ایک فیصد اضافہ ضروری تھا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -