سابق آئی جی‘سی سی پی او دیگر کے تبادلوں کیخلاف درخواستیں غیر مؤثر قرار 

سابق آئی جی‘سی سی پی او دیگر کے تبادلوں کیخلاف درخواستیں غیر مؤثر قرار 

  

لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرجسٹس محمدامیر بھٹی نے سابق آئی جی پولیس شعیب دستگیر اور سی سی پی او اور دیگر کے تبادلوں کے خلاف دائردرخواستیں غیر موثر قرار دے کر مسترد کردیں،فاضل جج نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نئے آئی جی کا تقرر ہو چکا ہے، ایسے میں درخواستوں کا جواز نہیں رہتا،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک احمد خان سمیت دیگر کی جانب سے دائردرخواستوں میں موقف اختیارکیا گیا تھا کہ تمام آئی جی اور سی سی پی اوز کو تین سال مدت پوری ہونے سے قبل ہٹا دیا گیا،پنجاب میں پولیس کے تبادلے پولیس آرڈر 2002 ء کے مطابق نہیں ہورہے، آئی جی اور سی سی پی او کے تبادلے سیاسی بنیادوں پر کئے جا رہے ہیں، درخواست میں سابق آئی جیزاورسابق سی سی پی اوز کی تعیناتیوں کابھی ذکرکرتے ہوئے کہاگیا تھا کہ کلیم امام 14 جون 2018ء سے 8 ستمبر 2018 ء تک صرف 3 ماہ تعینات رہے،اسی طرح محمد طاہر 8 ستمبر 2018ء سے 15 اکتوبر 2018ء تک صرف ایک ماہ تعینات رہے جبکہ کسی بھی آئی جی سمیت دیگرپولیس افسروں کی تعیناتی کا عرصہ پولیس آرڈر 2002ء کے تحت پورا نہیں کیاگیا، عدالت سے استدعاہے کہ تعیناتی کاعرصہ پورانہ کرنے والے آئی جی کے تبادلے کے اقدام کوکالعدم قراردیاجائے۔

غیرموثر قرار

مزید :

صفحہ آخر -