حکومتی پالیسیاں نامنظور: فلورملز کا سرکاری گندم لینے سے انکار، آٹابحران تیار 

حکومتی پالیسیاں نامنظور: فلورملز کا سرکاری گندم لینے سے انکار، آٹابحران ...

  

رحیم یار خان(بیورو رپورٹ)وائس چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب چوہدری عثمان محمود نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ حکومت پنجاب محکمہ خوراک نے سرکاری گندم کی پالیسی کا اجرا کیا ہے اس پالیسی میں بے انتہا ابہام موجود ہیں جس کی وجہ سے صوبہ بھر کی فلور ملز انڈسٹری میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے جس کے سلسلے میں  ایسوسی ایشن میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا ہے جس میں صوبہ بھر سے ایسوسی (بقیہ نمبر14صفحہ6پر)

ایشن کے منتخب عہدیداران نیایگزیکٹو ممبران کے ساتھ ساتھ صوبہ بھر سے تین سو سے زائد فلور ملزمالکان نے شرکت کی ہے اجلاس میں حکومت کی گندم کی اجرائی پالیسی پر سیر حاصل بحث کی گئی فلور ملز مالکان نے حکومتی پالیسی پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اجلاس میں مشترکہ طور پر حکومت کی گندم اجرائی کو مسترد کردیا اور فیصلہ کیاکہ فلور ملز نہ تو حکومت کے ساتھ ایگریمنٹ کریں گی اور نہ ہی سرکاری گندم اٹھائیں گی۔کیونکہ پالیسی کی تیاری میں میجر سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور فرسودہ نظام کا سہارا لیتے ہوئے اجرائی پالیسی مرتب کی گئی گندم کے اجرا کی پالیسی کے لیے آبادی کو بنیاد بنایا گیا ہے جو کہ زمینی حقائق کے برخلاف ہے پالیسی میں دہی آبادی کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے پالیسی میں آٹے کی مصنوعات کی ایکسٹریشن پالیسی کو تبدیلی کیا گیا ہے جبکہ لوگوں کی کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی ہوچکی ہے ایکسٹریشن  ریشو میں تبدیلی سے مارکیٹ میں میدہ آٹے کی کمی ہوجائے گی گندم کے اجرا کی پالیسی میں فلور ملز کی گرائنڈنگ چارجز میں 200روپے کمی کی گئی ہے آٹے کے نرخوں کا تعین کرتے وقت گرائنڈنگ چارجز کو نظرا نداز کیا گیا ہے جو کہ80.20کی ریشو سے یہ گرائیڈنگ چارجز کسی بھی طرح قابل عمل نہ ہیں لہذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ فلور ملز فی الحال  سرکاری گندم کا کوٹہ نہیں اٹھائے گی 5 دن بعد اجلاس بلا کر انڈسٹری اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی تب تک فلور ملز مارکیٹ میں دستیاب پرائیویٹ گندم کی پسائی کر کے مارکیٹ میں آٹا سپلائی کرتی رہیں گی اس وقت مارکیٹ میں پرائیویٹ گندم کی دستیابی بہت کم ہے ایسی صورت میں بہت جلد مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -