اتائیت ختم کرنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی تیار، عمران سکندربلوچ

اتائیت ختم کرنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی تیار، عمران سکندربلوچ

  

 ملتان (  وقا ئع نگار  )   اتایئت ایک ناسور ہے جس کے مکمل خاتمہ کے لیے سختی سے نمٹا جائے اور اس حوالے سے کسی بھی دبا کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ مزیدیہ کہ زائد المعیاد، جعلی اور غیر معیاری ادویات کی خرید و فروخت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ(بقیہ نمبر1صفحہ6پر)

 مریضوں کو معیاری ادویات میسر ہوسکیں۔ یہ باتیں سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ حکومتِ پنجاب عمران سکندر بلوچ نے ہیلتھ سیکریٹریٹ ملتان میں سیکریٹری صحت جنوبی پنجاب محمد اجمل بھٹی کے ہمراہ کے ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔ انہوں نے تمام ڈرگ انسپکٹروں اور دیگر متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے معاشرہ سے اتائیت کو مکمل خاتمہ نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جعلی، غیر معیاری او ر زائد المعیاد ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف موثر کاروائیاں کی جائیں۔ یہ عناصر کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔ سیکریٹری صحت جنوبی پنجاب محمد اجمل بھٹی نے اس موقع پر کہا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو اتائیوں اور غیرمعیاری ادویات فروخت کرنے والوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ انہوں نے تمام ڈرگ انسپکٹروں کو سختی سے ہدایت کی کہ روزانہ کی بنیادوں پران کے خلاف کاروائیاں کریں۔ ان عناصر کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت قابلِ قبول نہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتائیت اور غیر معیاری ادویات کی خرید و فروخت کے گھنانے عمل و کاروبار کے مکمل خاتمہ تک یہ آپریشن جاری رہنا چاہیے اور اس حوالے سے کسی بھی سطح پر اس میں کوئی رکاوٹ اور سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز جنوبی پنجاب ڈاکٹر محمد خلیل سکھانی، ڈپٹی ڈرگ کنٹرولر اور ڈرگ انسپکٹرز شریک تھے۔

عمران سکندر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -