جائیداد معاملے پر قتل، حقائق چھپانے پر سی پی او ان پرسن طلب

 جائیداد معاملے پر قتل، حقائق چھپانے پر سی پی او ان پرسن طلب

  

  ملتان (  خصو صی رپورٹر  ) کروڑوں روپے کی مالیت کی جائیداد کی لالچ میں ایک سادہ لوح شخص کو مبینہ طور پر موت (بقیہ نمبر12صفحہ6پر)

کے گھاٹ اتارنے کا معاملہ پولیس نے حقائق چھپانے کی کوشش کی تو لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کے جج مسٹر جسٹس سلطان تنویر احمد نے سی پی او کو ان پرسن طلب کرلیا اور انہیں ایک ہفتے میں اصل حقائق منظر عام پر لانے کی ہدایت کردی ہے قبل ازیں عدالت عالیہ میں محمد شریف شاہ نامی ایک شخص نے درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے ایک کروڑ پتی دوست محمد صادق کو بعض افراد نے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے اور وہ اس کی جائیداد ہتھیانے کے لیے اسے جان سے مارنے سے بھی گریز نہیں کریں گے جس پر عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ محمد صادق کو برآمد کیا جائے پولیس نے پہلے بیان دیا کہ محبوس سرگودھا میں ہے جس پر عدالت نے کہا کہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہے  اسے بازیاب کیا جائے بعد ازاں پولیس نے بیان دیا کہ وہ شریف میڈیکل سنٹر پیراں غائب روڈ ملتان میں میں داخل ہے جہاں اس کی حالت خراب ہے چنانچہ عدالت عالیہ نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وسیم الدین ممتاز اور اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر محمد فہیم سیال پر مشتمل کمیشن بنایا جس نے محبوس کا بیان قلمبند کرنا تھا تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ محمد صادق واقعی محبوس ہے یا آزادانہ زندگی گزار رہا ہے کمیشن نے 18 ستمبر کو ڈیڑھ بجے شریف سینٹر کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ 18 ستمبر کو صبح 9 بجے فوت ہوچکا ہے ہسپتال ریکارڈ کے مطابق اسے 16 ستمبر کو 11 بجے رات داخل کیا گیا تھا جبکہ 18 ستمبر کی صبح پولیس نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ شریف میڈیکل سینٹر میں داخل ہے اس طرح پولیس نے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی عدالت کو بتایا گیا کہ محمد صادق کی بیوی اور بھتیجے سب فرضی ہیں جو پولیس کی مدد سے جائیداد ہتھیانے کی تگو دو میں ہیں اور انہوں نے محمد صدیق کو نشہ کے ٹیکے لگا کر حبس بے جا میں رکھا ہوا تھا۔

جائیداد

مزید :

ملتان صفحہ آخر -