میلسی، پھٹی بحران، متعدد فیکٹریاں بند، بے روزگاری میں اضافہ

میلسی، پھٹی بحران، متعدد فیکٹریاں بند، بے روزگاری میں اضافہ

  

 میلسی (نامہ نگار)میلسی میں پھٹی کے بحران میں 110 کاٹن فیکٹری مالکان شامل ہیں۔جس سے ہزاروں افرادبے روزگار ہوگئے۔ پھٹی کے عروج 1988 میں میلسی میں 110 کاٹن فیکٹریاں تھیں۔مبینہ طور پر فیکٹری اونرز نے ادویات زرعی کا سائیڈ بزنس شروع کیا جو پھیلتا(بقیہ نمبر36صفحہ6پر)

 چلا گیا مقامی اور غیر مقامی افراد کی دو نمبر سنڈیوں اور وائرس کے طوفانی حملوں کو قابو نہ پانے والی زرعی ادویات استعمال کرائیں جس سے کسان سڑک پر آگیا دس من فی ایکڑ پیداوار پر کسان قر ضوں میں ڈوب گئے دس کا ٹن فیکٹریاں بچ گئیں۔لوگوں نے کپاس میں مویشی چھوڑے. کسانوں کے ساتھ مزدوروں پر بحران آیا 2012میں دوبارہ پھٹی  بیجی گئی مگر 90 فیصد میلسی میں مکئی اگائی ہے جنوبی پنجاب محکمہ زراعت اوراس سے پہلے پنجاب حکومت کی کوششوں سے ایسا ہوا ہے کا شتکار امید رکھے ہوئے ہیں کہ دوبارہ میلسی میں پھٹی کا وہ عروج آئے کہ اس کا نام ٹیکسٹائل ملز میں دوبارہ مشہہور ہو اور دیگر شہروں کو گئے مزدور واپس آسکیں #

بے روزگاری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -