’دھاندلی کے مسائل پولنگ کے بعد شروع ہوتے ہیں‘ وزیر اعظم نے حل پیش کردیا

’دھاندلی کے مسائل پولنگ کے بعد شروع ہوتے ہیں‘ وزیر اعظم نے حل پیش کردیا
’دھاندلی کے مسائل پولنگ کے بعد شروع ہوتے ہیں‘ وزیر اعظم نے حل پیش کردیا

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سارے مسائل پولنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد شروع ہوتے ہیں جن کا حل الیکٹرانک ووٹنگ مشین ( ای وی ایم ) ہے ، ای وی ایم کسی کو فائدہ نہیں دے سکتی ، کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے اس کے مخالف ہیں ۔

اسلام آباد میں پرفارمنس ایگریمنٹ پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 1970 کے انتخابات کے بعد ہر الیکشن میں ہارنے والا دھاندلی کا شور مچاتا ہے ، ہر کوئی واویلہ مچاتا ہے مگر حل نہیں بتاتا، ای وی ایم سادہ حل ہے ، ووٹنگ کے عمل کے بعد ایک بٹن دبنائیں تو نتیجہ آجائے گا، امریکہ میں پہلی بار الیکشنوں کے بعد شور ہوا مگر وہاں کا نظام ہے ، انہوں نے اس شور کو بھی ماضی کا حصہ بنا دیا۔ہم اس سطح پر پہنچ رہے ہیں کہ ہمارے منتخب نمائندے ڈیویلپمنٹ فنڈز کی بجائے حکومت کی پرفارمنس پر جیتیں گے ، کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں اتنے آئی جی ، اتنے بیورو کریٹس تبدیل کئے ، کوئی یہ یاد نہیں رکھتا کہ آپ نے کتنے تبادلے کئے ، پانچ سال بعد صرف یہ یاد رکھا جائے گا کہ آپ کی پانچ سالہ کارکردگی کیا تھی ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب ویژن سیٹ کریں تو اس سے نیچے کچھ قبول نہ کریں ، اپنے ویژن پر کبھی کمپرومائز نہ کریں ، اسے اپ گریڈ کریں مگر کبھی نیچے نہ آئیں، فیصلہ کر لیں کہ مجھے یہ کرنا ہے اور پھر کر گزریں ۔میں نے دیکھا ہے مشکل وقت آتے ہی میری کابینہ میں موجود کون سا شخص کس لیول پر آکر گھبرا جاتا ہے ، یاد رکھیں کہ مشکلات ہی آپ کو بڑا آدمی بناتی ہیں ، کوئی بھی بڑا آدمی پیدا نہیں ہوتا، میں نے حکومت ملنے کے بعد تین سالوں میں جو کچھ سیکھا اتنا ساری زندگی نہیں سیکھا ، محنت کئے بغیردنیا میں کوئی کامیاب نہیںہوسکتا،امریکہ کی ہر یونیورسٹی میں یہودی بیٹھا ہے ، حالانکہ وہ تھوڑے سے لوگ ہیں ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سارے مافیا کے سامنے کھڑے ہیں ، اب اس سے زیادہ چیز اور کیا ہو سکتی ہے ، ہم نے جیسے کورونا کا مقابلہ کیا اس کا ویسے کریڈٹ نہیں لیا ، ہم نے بہت مشکل فیصلے کئے ، لوگوں کی جانیں بچائیں ، اپنی معیشت بچائی ، بہت مشکل وقت سے نکل کر باہر آئے ہیں ۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت کیلئے یہ والا سال سب سے اہم ہے جو اگست 2022تک ہے ، اس سال میں ہم اپنے ٹارگٹس کی جانب چلے گئے تو خود بخود مسائل حل ہو جائیں گے ، کابینہ میری ٹیم ہے ، میری پہلی ٹیم کرکٹ کی ہے ، میرا اس سے بڑا دلچسپ تجربہ ہوا ، میں آپ کی پرفارمنس دیکھتا ہوں ، جو اصول کرکٹ ٹیم پر لاگو ہوتا ہے وہی کابینہ کی ٹیم پر بھی لاگو ہوتا ہے ، کرکٹ کی ٹیم کا دس سال کپتان رہا ، کھلاڑیوں کو دیکھا ان کی کارکردگی دیکھی ، کھلاڑی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جن میں قدرتی ٹیلنٹ ہوتا ہے ، وہ جب ٹیم میں آتے تھے تو انہیں کامیابی ملتی تھی ، دوسرے وہ تھے جو بس ٹیم میں آنے کیلئے تگ و دو کرتے تھے وہ چاہتے تھے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں آجائیں ، ان کا نام ہو جائے اور ان کو حکومتی مراعات حاصل ہو جائیں ، میں نے ہمیشہ ان کو کامیاب ہوتے دیکھا جن میں ٹیلٹ بھلا زیادہ نہ ہوتا مگر ان کے عزائم بہت بلند اور پختہ ہوتے تھے ۔

 وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ٹیمیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے ناکامیوں سے سیکھتی ہیں ، تعلیم ہمیں سیکھاتی ہے کہ اپنی قابلیت کو بڑھانا کیسے ہیں ، جو ٹارگٹ خود طے کئے منسٹرز کو انہیں حاصل کرنا ہوگا ،بیورو کریٹس سمیت کیبنٹ کے ممبران سے کہہ رہا ہوں کہ انسان ہمیشہ اپنے آپ کو کمتر سمجھتاہے ، مشکل وقت آتے ہی ہم ہار مان جاتے ہیں ، میری زندگی کا تجربہ ہے جب تک آپ ہار نہیں مانتے ہار آپ کو ہر انہیں سکتی ، کرکٹ کے تجربے سے شوکت خانم میں بہت کچھ سیکھا، تین سال تک ہمیں کینسر ہسپتال کی سمجھ نہ آئی کہ کہاں سے بنانا شروع کریں، میں نے لاہور کے ٹاپ 20ڈاکٹرز کو مدعو کیا کہا کہ کینسر کا ہسپتال بنانا ہے اور مفت علاج دینا ہے ، 19ڈاکٹرز نے کہا کہ یہ نہیں بن سکتا، ایک ڈاکٹر نے کہا کہ ہسپتال بن جائے گا مگر مفت علاج نہیں کر سکیں گے ۔ 

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم شوکت خانم کینسر ہسپتال کیلئے امریکہ سے ڈاکٹر لائے ، پہلی بورڈ میٹنگ میں اس نے کہا کہ اگر پانچ فیصد سے زیادہ مریضوں کا مفت علاج کرنے کی کوشش کی تو یہ ہسپتال پانچ دن میں بند ہو جائے گا، ڈاکٹر تو تین ماہ بعد واپس چلا گیا مگر ہسپتال آج بھی چل رہا ہے ، یہ ہسپتال ستر کروڑ میں بنا تھا ، آج ہم نو ارب روپے غریب مریضوں کے مفت علاج پر خرچ کرتے ہیں جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی ۔

مزید :

اہم خبریں -