مضاربہ سکینڈل کے مرکزی ملز م سیف الرحمان نیازی کی عبور ی ضمانت خارج

مضاربہ سکینڈل کے مرکزی ملز م سیف الرحمان نیازی کی عبور ی ضمانت خارج
مضاربہ سکینڈل کے مرکزی ملز م سیف الرحمان نیازی کی عبور ی ضمانت خارج

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کور ٹ نے مضاربہ سکینڈل کے مرکزی ملزم اور نجی کمپنی کے مالک سیف الرحمان نیاز ی کی عبوری ضمانت خارج کردی۔عدالت عظمی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) قومی احتساب بیورو (نیب) روالپنڈی عرفان نعیم منگی سمیت دیگر اہلکاروں کی معافی بھی مسترد کردی گئی۔

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق عدالت عظمیٰ کی جانب سے قومی احتساب بیورو(نیب ) کے دائر ہ اختیار پر سیف الرحمان نیازی کا اعتراض بھی مسترد کر دیا گیا جبکہ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم کو مزید عبوری ضمانت نہیں دے سکتے۔

  نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم سیف الرحمان نے نجی کمپنی کے نام پر 116ارب کا فراڈ کیا ہے اور فیس بک اور واٹس ایپ سمیت مختلف سوشل میڈیا سائٹس پر اشتہار دیئے گئے ہیں،ملزم نے خاندان کے افراد کے نام پر 25کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ملزم کے خلاف کسی نے نیب کو شکایات کی؟جس پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نجی کمپنی کے خلاف متاثرہ افراد کی جانب سے 120شکایات درج کرائی گئیں۔

وکیل ملزم لطیف کھوسہ نے موقف اختیار کیا کہ نیب کے پاس کارروائی کا اختیار ہی نہیں تھا جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قانون کے مطابق ایس ای سی پی نے ریفرنس نیب کو بھجوایا۔

جسٹس عمر عطا بندیا ل نے ریمارکس دیئے کہ اربو ں روپے کا کیس ہے اور نیب تفتیش کرنا چاہتا ہے جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سیف الرحمان کتنا ٹیکس ادا کرتا ہے؟،نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ٹیکس گوشواروں کے مطابق ملزم تنخواہ دار ملازم ہے، جسٹس منصور علی نے پوچھا کہ کیا ملزم کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرتا ہے؟جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ کرپٹو کرنسی کارروبار کے شواہد نہیں ملے ہیں،ملزم کا بظاہر کوئی کاروبار نہیں ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ غیر رجسٹرڈ کمپنیوں پر کمپنیز ایکٹ کیسے لاگو ہو سکتا ہے،ایس ای سی پی نے اگر نیب کو ریفرنس بھیجا ہے تو معیشت اور قانون دیکھ کر ہی فیصلہ کیا ہوگا۔

عدالت نے ملزم کی احاطہ عدالت سے ملزم کی گرفتاری سے روکتے ہوئے نیب کو ہدایت کی کہ ملزم کو سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کیا جاسکتا ہے،ملزم کی احاطہ عدالت سے گرفتاری پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔وکیل لطیف کھوسہ نے موقف اختیار کیا کہ ملزم ارب پتی ہے خود سرنڈر کرنے کا موقع دیا جائے جس کے بعد لطیف کھوسہ ملزم سیف الرحمان کو اپنے ساتھ بار روم میں لے گئے جبکہ نیب کی ٹیمیں ملزم کی گرفتاری کے لئے سپریم کورٹ کے باہر موجود ہیں۔

دوسری جانب عدالت نے ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی سمیت دیگر اہلکاروں کی معافی بھی مستردکرتے ہوئے کہا کہ صرف بیان حلفی پر معافی نہیں دے سکتے۔ 

واضح رہے کہ نیب مضاربہ سکینڈل کے مرکز ی ملزم سیف الرحمان کے خلاف 116ارب کے فراڈ سے متعلق سکینڈل کی تحقیقات کررہا ہے جبکہ ملزم نے نیب کی گرفتاری سے بچنے کے لئے سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت کروا رکھی تھی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -