سپریم کورٹ کاجیکب آباد میں تمام غیر قانونی تعمیرات گرانے اورسکولوں کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کاجیکب آباد میں تمام غیر قانونی تعمیرات گرانے اورسکولوں کو اصل ...
سپریم کورٹ کاجیکب آباد میں تمام غیر قانونی تعمیرات گرانے اورسکولوں کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آ ن لائن )سپریم کورٹ نے جیکب آباد میں قبضے ختم کرکے سکولوں کو اصل حالت میں بحال کرنے اور شہر میں موجود تمام غیر قانونی تعمیرات گرانے کا حکم جاری کردیا۔عدالت نے ریاض جاکھرانی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب جمع کرانے کی ہدایت بھی کردی جبکہ کیس کی سماعت اگلے سیشن کے لئے ملتوی کردی۔

نجی ٹی وی 24نیوز کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الحسن نے جیک آباد میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ایس پی جیکب آباد شمائل ریاض اور ڈپٹی کمشنر جیکب آباد عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے ۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ایس پی جیک آباد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر غلط بیانی کی تو یہیں سے فارغ ہو جائیں گے،آپ آخرعدالت کو بتائے بغیر باہر کیسے چلے گئے؟، ایس پی جیک آباد کی جانب سے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی گئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی آئی جی سندھ کو بلائیں، ایس پی شمائل ریاض کو فوری معطل ہو نا چاہئے۔ایس پی جیکب آباد کی جانب سے عدالت میں میڈیکل رپورٹ جمع کرائی گئی سے عدالت نے مسترد کردیا۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ سینے میں درد ہے اور پینا ڈول کھا رہا ہے،آپ کے ایس پی اب ایسا کریں گے؟جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ایس پی سے غلطی ہوگئی ہوگی جبکہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس کو یہاں سے جان بوجھ کر بھیجا گیا اور یہ سب پلاننگ سے ہوا۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے ایس پی کو جاری شوکاز نوٹس کالعدم قرار دینے کی سفارش کی جسے عدالت کی جانب سے منظور کرلیا گیا۔ 

ڈپٹی کمشنر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ چھ جائیدادوں میں سے تین کو گرادیا گیا ہے،معراج ہوٹل سمیت تین عمارتیں باقی ہیں، پانچ منزلہ ہوٹل ہے جس کے جو فلور گرادیئے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ ان پلاٹوں کی حیثیت کیا ہے؟جس پر ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ یہ سکول کے پلاٹس ہیں۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی کمشنر کے جواب پر برہمی کا اظہار کرتے ہو ئے پوچھا کہ سکول کی جگہ ہوٹل چلارہے ہیں؟ جبکہ جسٹس اعجاز الحسن نے پوچھا کہ کیا آپ سب سورہے ہیں؟۔جسٹس گلزار احمد نے سوال کہ جیکب آباد کتنا بڑا شہر ہے؟، ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ 2لاکھ کی آباد ی ہے۔

چیف جسٹس نے ڈپٹی کمشنر کو حکم دیا کہ جائیں اور تمام تجاوزات فوری گرائیں۔تین دن بعد کیس دوبارہ سنیں گے، سب گرا کر رپورٹ دیں۔عدالت کی جانب سے تجاوزات گرانے کی تصاویر بھی پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔

جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ بادشاہت کا دور ختم ہو چکا ہے،کوئی قانون، کوئی ضابطہ ، کوئی پوچھنے والا ہے؟فاضل جج نے استفسارکیا کہ ایم پی اے صاحب کا گھر کتنے رقبے کا ہے؟ ، ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ایم پی اے کا گھر کچی آبادی میں ہے،جس پر چیف جسٹس نے حیرانی کا اظہا ر کرتے ہوئے پوچھا کہ ایم پی اے کچی آباد ی میں رہتا ہے؟، یہ ایم پی اے کون ہے؟، ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ یہ ممتاز جاکھرانی کا گھر ہے جبکہ کچی آباد ی میں دیگر ایم پی ایز بھی رہتے ہیں۔

ایم پی اے اسلم ابڑو نے عدالت کو بتایا کہ میں نے مشنری سکول قائم کیا اور رفاعی کام کئے ہیں، وہاں پر ایسی لاکھوں الاٹمنٹ ہوئی ہیں، جسٹس اعجاز الحسن نے استفسارکیا کہ لاکھوں غیر قانونی کام ہو ا تو سب جائز ہوگئے؟جبکہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو بھی فیصلہ کریں گے قانون کے مطابق کریں گے۔

چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ ہوٹل الحرمین کا کیا بنا؟اسلم ابڑو نے بتایا کہ یہ سب پراپرٹی 1956سے ہماری ہے ، جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ آپ چیئرمین تھے، آکشن میں سب پلاٹس خو دلے لئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سرکار آنکھیں بند کرکے بیٹھی ہے۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر جیکب آباد سے تمام قصبوں سے متعلق رپورٹس بھی طلب کرلیں۔

مزید :

قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -