یوم الوطنی مملکت سعودی عرب 

یوم الوطنی مملکت سعودی عرب 
یوم الوطنی مملکت سعودی عرب 

  

23 ستمبر عالم اسلام کی عظیم مملکت سعودی عرب کا قومی دن ہے، سعودی عرب صرف عالم اسلام ہی کی عظیم مملکت نہیں بلکہ مشرق سے مغرب، شمال سے جنوب تک روئے زمین پر بسنے والے ہر مسلمان کا روحانی مرکز و محور بھی ہے, ہر کلمہ گو مسلمان وہ چاہے دنیا کے کسی بر اعظم، کسی ملک، کسی خطے میں آباد ہے وہ سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہے اور یہاں آنا اپنے لئے زندگی کے سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہے، اس سرزمین مقدس سے والہانہ عقیدت و محبت اور الفت و چاہت رکھتا ہے، اس کی سالمیت و دفاع کے لئے فکر مند رہتا ہے، اس کے امن و سلامتی کے لئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کرتا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے اربوں مسلمان روزانہ پانچ مرتبہ جس بیت اللہ کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرتے ہیں وہ حرمت والا گھر سعودی عرب ہی کے شہرِ امین یعنی مکۃ المکرمہ میں ہے اور جس حبیبِ کبریا حضور نبی کریم ﷺ واصحابؓ وسلم کی اتباع کرتے ہیں ان کا روضہ اطہرﷺ بھی اس عظیم مملکت کے شہر مدینۃ المنورہ میں ہے۔

مملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب کے 80 فیصد رقبے پر مشتمل ہے جبکہ رقبے کے اعتبار سے اس کا شمار دنیا کے  15بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔  مملکت سعودی عرب کا جغرافیہ مختلف نوعیت کا ہے۔ مغربی ساحلی علاقے (التہامہ) سے زمین سطح سمندر سے بلند ہونا شروع ہوتی ہے اور ایک طویل پہاڑی سلسلے(جبل الحجاز) تک جاملتی ہے جس کے بعد سطح مرتفع ہیں۔ جنوب مغربی اثیر خطے میں پہاڑوں کی بلندی 3 ہزار میٹر (9 ہزار 840 فٹ) تک ہے اور یہ ملک کے سب سے زیادہ سرسبز اور خوشگوار موسم کا حامل علاقہ ہے، یہاں طائف اور ابہا جیسے تفریحی مقامات قائم ہیں۔ خلیج فارس کے ساتھ ساتھ قائم مشرقی علاقہ بنیادی طور پر پتھریلا اور ریتلا ہے، معروف علاقہ ”ربع الخالی“ ملک کے جنوبی خطے میں ہے اور صحرائی علاقے کے باعث ادھر آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے،مملکت کا تقریباً تمام حصہ صحرائی و نیم صحرائی علاقے پر مشتمل ہے اور صرف 2 فیصد رقبہ قابل کاشت ہے، بڑی آبادیاں صرف مشرقی اور مغربی ساحلوں اور حفوف اور بریدہ جیسے نخلستانوں میں موجود ہیں،سعودی عرب میں سال بھر بہنے والا کوئی دریا یا جھیل موجود نہیں۔

مارچ 1938ءمیں تیل کی دریافت نےملک کو معاشی اعتبار سے زبردست استحکام بخشا اور مملکت میں خوشحالی کا دور دورہ ہوا۔ مملکت سعودی عرب کی حکومت کا بنیادی ادارہ آل سعود کی بادشاہت ہے، قرآن ملک کا آئین اور شریعت حکومت کی بنیاد ہے، بادشاہ کے اختیارات شرعی قوانین اور سعودی روایات کے اندر محدود ہیں۔ علاوہ ازیں اسے سعودی شاہی خاندان، علماء اور سعودی معاشرے کے دیگر اہم عناصر کا بھرپور تعاون بھی حاصل ہے۔ سعودی عرب دنیا بھر میں مساجد اور قرآن سکولوں کے قیام کے ذریعے اسلام کی ترویج کرتی ہے۔ شاہی خاندان کے اہم ارکان علماء کی منظوری سے شاہی خاندان میں کسی ایک شخص کو بادشاہ منتخب کرتے ہیں۔

قانون سازی وزراء کی کونسل عمل میں لاتی ہے جو لازمی طور پر شریعت اسلامی سے مطابقت رکھتی ہو۔ عدالت شرعی نظام کی پابند ہیں جن کے قاضیوں کا تقرر اعلیٰ عدالتی کونسل کی سفارش پر بادشاہ عمل میں لاتا ہے۔سعودی عرب کی آبادی 35ملین کے لگ بھگ ہے 60 کی دہائی تک مملکت کی آبادی کی اکثریت خانہ بدوش یا نیم خانہ بدوش تھی لیکن بعدازاں معیشت اورشہروں میں تیزی سےترقی کی بدولت صورتحال میں تبدیلی آئی، اب سعودی عرب شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت و سیادت جس تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے، اس سے اب ملک کی 95 فیصد آبادی مستحکم ہے، اس میں ویژن 2030ء نے اہم کردار ادا کیا۔

تقریباً 80 فیصد سعودی باشندے نسلی طور پر عرب ہیں، چند جنوبی اور مشرق افریقی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں جو چند سو سال قبل اولاً غلام بنا کر یہاں لائے گئے تھے۔ سعودی عرب میں دنیا بھر کے ایک کروڑ کے لگ بھگ تارکین وطن بھی مقیم ہیں جن میں پاکستان، بھارت ، بنگلہ دیش، مصر اور دیگر ممالک کے  باشندے شامل ہیں۔ قریبی ممالک کے عرب باشندوں کی بڑی تعداد بھی مملکت میں برسرروزگار ہے۔ سعودی عرب میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ باشندے بھی قیام پذیر ہیں۔

ہر سال 23 ستمبر کو مملکت سعودی عرب کا قومی دن منایا جاتا ہے، اسلامی ممالک سمیت دنیا بھر میں یوم الوطنی کی مناسبت سے رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد ہوتاہے۔ پاکستان میں موجود سعودی سفارتخانہ بھی ہر سال دارالحکومت اسلام آباد میں یوم الوطنی کی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات خصوصاً اہم سیاسی و مذہبی رہنما، دیگر ممالک کے سفراء، اہم قومی اداروں کے آفیشلز شریک ہوتے ہیں اور مملکت سعودی عرب سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ 

سعودی عرب میں آلِ سعود کی حکومت کو نو دہائیاں مکمل کرنے کے بعد اب سینچری کی جانب گامزن ہے۔شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمٰن السعود نے 91 سال قبل 23 ستمبر کے روز سعودی عرب کی بنیاد رکھی اور اس دن سے لے کر آج تک عالم اسلام کا یہ روحانی مرکز ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔ شاہ عبد العزیز کے بعد ان کے بڑے بیٹے سعود بن عبدالعزیز تخت نشین ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد کے شروع کئے گئے ترقیاتی کاموں کو جاری رکھا اور اپنے دور میں مسجد نبویﷺ و حرم کعبہ کی توسیع کرائی۔ شاہ سعود کے زمانے میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کی طرف بھی توجہ دی گئی اور 1957ء میں دارالحکومت ریاض میں عرب کی پہلی یونیورسٹی قائم ہوئی، جس میں مختلف فنون، سائنس، طب، زراعت اور تجارت کے شعبے قائم کئے گئے۔ اسی دور میں لڑکیوں کے لئے بھی مدارس قائم کئے گئے۔

29اکتوبر1964ء کو شاہ سعود کے بھائی فیصل بن عبدالعزیز السعود نے مسند اقتدار سنبھالی، وہ کرشماتی شخصیت کے مالک تھے۔ بہت کم عرصے میں انہیں پورے عالم اسلام میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ ان سے پہلے کسی اور کا مقدر نہ بن سکی۔ شاہ سعود کے زمانے میں ریاست میں تعمیر و ترقی اور مالی و معاشی اصلاحات کے لئے جتنے بھی کام ہوئے تھے ان کا سہرا شاہ فیصل ہی کو جاتا تھا۔ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومت کو زیادہ عوامی رنگ دینے کی کوشش کی۔ شاہی خاندان کے اخراجات مقرر کئے گئے اور زیادہ سرمایہ تعلیم و ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے لگے۔عالم اسلام کا تحاد ان کا ایک بہت بڑا نصب العین تھااور انہیں اس مقصد میں کافی حد تک کامیابی بھی ملی۔

1963ء میں رابطہ عالم اسلامی کی بنیاد رکھی گئی جو عالم اسلام کی پہلی حقیقی عالمی تنظیم ہے، اس تنظیم کی بنیاد اگرچہ شاہ سعود کےزمانے میں رکھی گئی لیکن اس کے اصل روح رواں شاہ فیصل ہی تھے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دوستانہ تعلقات بھی انہی کے دور میں پروان چڑھے۔شاہ فیصل پاکستانی قوم کے محبوب ترین لیڈر تھے، ان کے بعد شاہ خالد ، شاہ فہد اور شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بالترتیب  آئے اور ان سب کے ادوار میں بھی سعودی عرب کی ترقی کا سفر جاری رہا۔ شاہ عبد اللہ کی وفات کے بعد ان کے بھائی سلمان بن عبدالعزیز السعود فرمانروا بنے اور بڑی کامیابی کے ساتھ عالم اسلام کی اس عظیم مملکت کو آگے لے کے بڑھ رہے ہیں۔ 

سعودی عرب کا یہ سفر گزشتہ نو دہائیوں سے جاری و ساری ہے، اس عرصے میں سعودی عرب نے ہر میدان میں جو ترقی کی ہے وہ لائق تحسین ہے۔ حجاج اور زائرین کی سہولتوں میں شب و روز اضافہ ہوتا رہا۔ پھر دو سال قبل پوری دنیا کو عالمی وباء کرونا نے آجکڑا جس نے ایک دو ممالک میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں لاک ڈاؤن لگا دیا، بین الاقوامی زمینی و فضائی رابطے منقطع ہوگئے، انسانی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر مملکت سعودی عرب نے بھی کچھ پابندیاں عائد کیں جس کے باعث حرمین شریفین کے رونقیں وقتی طور پر ماند پڑگئیں لیکن سعودی عرب کی حکومت نے جس دانشمندی اور دور اندیشی سے اس عالمی وباء کا مقابلہ کیا اور اپنے شہریوں کو اس سے محفوظ رکھا وہ قابل ستائش ہے۔

الحمدللہ آج ایک بار پھر حرمین شریفین کی رونقیں بحال ہونا شروع ہو چکی ہیں، عمرہ زائرین سعودی عرب کا سفر کررہے ہیں گوکہ پابندیاں پوری طرح نہیں ہٹائی جا سکیں لیکن جونہی دنیا اس وباء سے نجات حاصل کرلیتی ہے ہم پہلے جیسی بہاروں کا پھر نظارہ کریں گے۔ سعودی عرب نے عالم اسلام کے مسائل پر ہمیشہ صف اول میں آکر کردار ادا کیا،جس کی مثال یہ ہے کہ چند برس قبل پچاس سال بعد جب مسجد اقصیٰ کو تالے لگائے گئے اور اذان و نماز کی پابندی عائد کی گئی تو سعودی عرب ہی کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آگے بڑھے،انہوں نے دنیا کی طاقتور ترین قوتوں اور ممالک سے رابطے کئے اور اس مسئلے پر جرات مندی کے ساتھ دوٹوک انداز میں بات کی جس کے بعد ناصرف مسجد اقصیٰ کھلی بلکہ وہاں اذان و نماز کی ادائیگی بھی بحال ہوئی۔

اب بھی جب کبھی صیہونی فورسز اقصیٰ کی جناب پیش قدمی کرتے ہیں یا بربریت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو سعودی عرب اور پاکستان فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب برما میں روہنگیائی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے تھےاس وقت سعودی عرب نے ناصرف اقوام متحدہ سے اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے رابطہ کیا بلکہ متاثرین کے لئے ہنگامی طور پراربوں روپے کی امداد بھی جاری کی۔ آج سعودی عرب کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی گہری تشویش ہے سعودی ولی عہد امیر محمد بن سلمان مسلسل کشمیر کے مسئلہ پر پاکستانی قیادت سے رابطے میں ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) جس کی سربراہی سعودی عرب کے پاس ہے اس نے بھی کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید کی۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں اہل اسلام کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو ہم سعودی عرب کو اس کے لئے مضطرب دیکھتے ہیں۔ سعودی قیادت آگے بڑھ کر اس مسئلے کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ 

اس وقت سعودی عرب کا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شمار دنیا کے با اثر ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے۔وہ اپنےویژن کےمطابق سعودی عرب کو دنیا کی تیز رفتارترقی کی جانب لے جارہے ہیں، انہوں نے ہی سعودی عرب کا تیل پر انحصار ختم کرنے کے کئے ویژن 2030ء کے نام سے ایک پروگرام کا اعلان کیا جو سعودی عرب کے مستقبل کے لئے ایک نیا باب سمجھا جاتا ہے۔گزشتہ کئی برسوں سے اس ویژن کے خاکے میں رنگ بھرنے کے لئے تیزی سے کام جاری ہے۔ جو یقینی پور پر سعودی عرب کو ترقی کی نئی منازل تک لے جائیں گے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات شاہ کی بنیاد شاہ فیصل شہید نے رکھی انہوں نے ہمیشہ سرکاری سطح پر مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کی۔ جب 1971ء میں سقوط ڈھاکہ ہوا اور بنگلہ دیش بنا، ہم سے جدا ہونے والے اس نوزائیدہ مملکت کو ہم نے تسلیم کرلیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے  بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون کا ایک مثالی سلسلہ شروع ہوا۔ آج جس وقت ہم عالم اسلام کی اس عظیم مملکت کا قومی دن منا رہے ہیں، ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اس وقت سعودی عرب دفاعی اعتبار سے مشکل دور سے گزر رہا ہے، جس وقت پوری دنیا کرونا سے لڑرہی تھی سعودی عرب کرونا کے ساتھ ساتھ شیطانی طاقتوں سے بھی لڑ رہا تھا جو اس کے سالمیت اور خود مختاری پر کئی برسوں سے حملہ آور ہیں۔ خطے میں موجود یہ شیطانی طاقتیں عالم اسلام کی عظیم مملکت سعودی عرب کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال پر پوری دنیا کے مسلمان بالعموم اور پاکستان کے مسلمان بالخصوص تشویش میں مبتلا ہیں اور مملکت سعودی عرب کے دفاع کے کئے فکر مند ہیں۔ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہے اور پرعزم ہے کہ ان مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے اگر خون کا آخری قطرہ بھی بہانہ پڑے تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے لیکن اپنے مقدسات پر کسی شیطان کی میلی آنکھ پڑنے نہیں دیں گے۔

پاکستان کی سول و عسکری قیادت پر سعودی عرب کے دفاع سے غافل نہیں، رواں سال وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ سعودی عرب دونوں ملکوں کے تعلقات کی مضبوطی کے لئے نہایت اہم رہا۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت کے نزدیک سعودی عرب کس قدر اہم ملک ہے اس کا اندازہ موجودہ سیاسی قیادت کی جانب سے دو اہم تقرریوں سے کیا جاسکتا ہے ان میں سے ایک تقرری جنرل (ر) بلال اکبر کی بطور سعودی عرب میں پاکستانی سفیر ہے اور دوسری اہم ترین تقرری پاکستان علماء کونسل کے چئیرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی بطور مشیر وزیر اعظم برائے مشرق وسطی ہے۔ دونوں شخصیات اپنے اپنے شعبوں میں اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ خاص طور پر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی سعودی عرب کی حکومت اور شخصیات سے جو قربت و محبت ہے وہ شاید ہی پاکستان میں کسی اور کا مقدر ہو۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ روابط بہت سی نادیدہ قوتوں کو  گوارا نہیں ، اسی لئے بین الاقوامی طور پر دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لئے تانے بانے بنے جاتے ہیں لیکن جب سے یہ دو تقرریاں ہوئی ہیں اس وقت سے حالات نارمل ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں اور مستقبل قریب میں انکے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -