پولیس افسر اور سیاسی دباؤ 

 پولیس افسر اور سیاسی دباؤ 
 پولیس افسر اور سیاسی دباؤ 

  

 کہتے ہیں پاکستان میں سیاست تھانے کچہری کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ہر ایم این اے اور ایم پی اے اپنے علاقے میں من پسند پولیس افسر لگوانا چاہتا ہے ایسے افسروں کی بھی کمی نہیں جو من پسند بننا چاہتے ہیں اور ایک پوسٹنگ کے لئے اپنی افسری کے تمام اخلاقی ضابطے اور کروفر بھول جاتے ہیں۔ میری برسوں کی معلومات کے مطابق ارکان اسمبلی کو جب بھی وزیراعلیٰ سے ملنا نصیب ہوتا ہے، وہ سب سے پہلے علاقے میں ڈی پی او اور ایس ایچ او کی پوسٹنگ کے لئے ترلہ ڈالتے ہیں  اب ایسے افسر جو کسی کی سفارش پر تعینات ہوں وہ کیسے انصاف کر سکتے ہیں وہ تو پھر اپنے سفارشی کے اشارے پر ناچتے رہتے ہیں۔ پولیس افسروں کو سب سے زیادہ شوق فیلڈ میں نوکری کا ہوتا ہے کیونکہ وہاں ان کی چودھراہٹ زیادہ ہوتی ہے، سنٹرل پولیس آفس میں ان کی تقرری ہو جائے تو انہیں یوں لگتا ہے جیسے یتیم ہو گئے ہیں، ساری موجیں فیلڈ پوسٹنگ کی ہیں، اس لئے اس کی خاطر قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں کبھی ایسی جرائیت کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ غلط کام پر حرف انکار زبان پر لا سکیں۔ انصاف دینے والے محکمے کے افسر اگر بے انصافی پر اتر آئیں تو پھر اس معاشرے کا اللہ ہی حافظ ہے۔

یہ باتیں آج میں اس لئے کر رہا ہوں کہ پولیس افسر اپنا دماغ اور اختیار استعمال کرنے کی بجائے جو انہیں کہا جا رہا ہے کررہے ہیں۔ اب لاہور کے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کو وفاقی حکومت نے پنجاب سے ٹرانسفر کرکے وفاق میں رپورٹ کرنے کو کہا ہے۔ غلام محمود ڈوگر پی ایس پی افسر ہیں جو وفاق کے ماتحت آتے ہیں اور ملک کے کسی حصے میں بھی تعینات کئے جا سکتے ہیں، ان کی سروسز پنجاب حکومت کو تفویض کی گئی ہیں تاہم وفاقی حکومت انہیں واپس بھی بلا سکتی ہے بالکل اسی طرح جیسے کسی صوبے کی حکومت جس وفاقی افسر کی خدمات واپس کرنا چاہے وفاق کو واپس کر سکتی ہے۔ غلام محمود ڈوگر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک اچھے اور دبنگ پولیس افسر ہیں تو پھر انہوں نے ایسا کام کیوں کیا جو بادی النظر میں نہیں کرنا چاہیے تھا  انہوں نے وفاقی وزراء جاوید لطیف اور مریم اورنگزیب سمیت پانچ افراد پر جن میں پی ٹی وی کے ایم ڈی بھی شامل ہیں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی منظوری دی کیونکہ کسی ایس ایچ او میں اتنی جرایت نہیں ہوتی کہ وہ ایسا مقدمہ بغیر مجاز افسر کی منظوری کے درج کرے۔ سنا ہے آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے یہ مقدمہ درج کرنے کی مخالفت کی تھی، اصولاً سی پی او لاہور کی حیثیت سے غلام محمود ڈوگر کو یہ ذمہ داری آئی جی پنجاب پر ڈال کر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دینا چاہیے تھا مگر انہوں نے صوبائی حکومت کا دباؤ قبول کیا اور ایک ایسا مقدمہ درج کرا دیا جو خاصا مضحکہ خیز ہے۔ جب افسر اس قسم کے کھیل کا حصہ بنیں گے تو ان کا محکمہ بھی تماشا بنے گا اور وہ خود بھی پریشان ہوں گے۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کو صوبے سے ریلیو نہ کرنے کا حکم دے دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ان کا اختیار ہے کسی افسر کو جانے دیں یا روکیں جبکہ غلام محمود ڈوگر کے لئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جو حکمنامہ جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ وہ بغیر کسی سے اجازت لئے اپنے عہدے کا چارج چھوڑ کر وفاق کو رپورٹ کریں اب گویا لاہور کے سب سے بڑے پولیس افسر پر بے یقینی کی تلوار لٹک رہی ہے اور اس کا لاہور پولیس پر کیا اثر ہوگا،ا س کی کسی کو پروا نہیں۔ جہاں تک مقدمے کی نوعیت کا تعلق ہے تو وہ خاصی دلچسپ ہے۔ عمران خان نے پچھلے دنوں چند تقریریں کیں، جن میں حسبِ سابق وہ بہت کچھ کہہ گئے۔ ان تقریروں کو بنیاد بنا کر وفاقی وزراء نے ایک پریس کانفرنس کی، جو میری رائے میں پیش کرنی چاہیے اس پریس کانفرنس میں جاوید لطیف اور مریم اورنگزیب نے عمران خان کو ان کی تقریروں کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا، ان پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ توہین مذہب کے مرتکب ہوئے ہیں جو ایف آئی آر درج ہوئی اس میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں وزراء اور پی ٹی وی کے ایم ڈی نے بے بنیاد الزامات لگاکر عمران خان کے خلاف عوامی جذبات مشتعل کرنے کی کوشش کی۔ صحافت میں ایک عمر گزری ہے اور ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ ایسی پریس کانفرنسوں اور ان کی اشاعت یا نشریے پر لوگ غلط بیانی کرنے پر مذکورہ شخص کے خلاف عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کرتے تھے اور عدالتیں صحیح یا غلط کا فیصلہ کرتی تھیں، ایسی باتوں پر دہشت گردی کے مقدمات کا اندراج پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے، گویا دہشت گردی کو بھی ایک مذاق بنا دیا گیا ہے۔اس سے پہلے اسلام آباد کے آئی جی نے بھی نجانے کس کے دباؤ پر ایسی ہی حرکت کی تھی اور عمران خان کے خلاف ایک تقریر کی پاداش میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا۔ لفظوں سے دہشت گردی کیسے ہوتی ہے، اس کا نظارہ ایسے مقدمات سے ہو رہا ہے۔

پولیس والوں کو کچھ تو اپنی عقل سے بھی کام لینا چاہئے جو چیز قانون کے مطابق بنتی ہی نہیں اسے قانون کا لبادہ کیسے پہنایا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمے کو مضحکہ خیز قرار دیا اور اس میں ایسی تمام دفعات نکال دیں۔ پولیس افسر ایسے ریوڑوں کی طرح اگر سنگین نوعیت کی دفعات استعمال کریں گے تو ان کا ماتحت عملہ کیا گل نہیں کھلائے گا، اسی لئے ایسے سینکڑوں افراد جیلوں میں بند ہیں جن پر سنگین نوعیت کی دفعات لگا کر مقدمے بنائے گئے اور اب عدالتوں سے انہیں ریلیف نہیں مل رہا۔ لاہور کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی جاوید لطیف اور مریم اورنگ زیب پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ شاید آنے والے دنوں میں مزید شہروں میں بھی ایسے ہی مقدمات درج ہوں اور سیاست کو پولیس مقدمات کی تماشا گاہ بنا دیا جائے۔

جس طرح عدالتیں قانون کی محافظ ہیں اسی طرح پولیس افسروں پر بھی فوجداری مقدمات کے اندراج کی کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ سرکاری افسر کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی حکم نہ مانیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ سے یہ دفعات نکال دی ہیں تو آئی جی اسلام آباد کو اس غلط کام کی ذمہ داری قبول کر کے اپنے لئے سزا خود تجویز کرنی چاہئے، خود احتسابی کا تقاضا یہی ہے پولیس افسر سیاستدانوں کے آلہ کار نہ بنیں بلکہ اپنے منصب کو قانون کے مطابق نبھائیں ٹرانسفر اور پوسٹنگ ملازمت کا حصہ ہیں ان کی خاطر اپنے ضمیر اور قانون کے برعکس فیصلے کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں نیک نامی کم اور رسوائی زیادہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -