آلِ تیمور پر کیا افتاد پڑی؟

  آلِ تیمور پر کیا افتاد پڑی؟
  آلِ تیمور پر کیا افتاد پڑی؟

  

 اردو پریس میڈیا میں جن اخبارات کو قومی اخبارات کا درجہ دیا جاتا ہے ان کی تعداد نصف درجن سے زیادہ نہیں۔ ان میں خبریں تو بیشتر وہی ہوتی ہیں جو ایک دن (یا رات) پہلے مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا میں آ چکی ہوتی ہیں اور اخباری قارئین کی اکثریت ان کو دیکھ اور سن چکی ہوتی ہے۔ صرف ادارتی صفحہ یا صفحات ایسے ہوتے ہیں جن پر تبصرے اور تجزیئے شائع کئے جاتے ہیں۔ لیکن یہ تبصرے اور تجزیئے بھی گئی شام (یا شب) مین سٹریم میڈیا پر ڈسکس ہو چکے ہوتے ہیں۔ شاذ ہی کوئی ایسا موضوع ہوتا ہے جس میں کوئی نیا پن یا جدت نظر آتی ہے۔ 90فیصد اردو اخبارات کے بطن میں داخلی (یا قومی) خبریں سمیٹ دی جاتی ہیں اور باقی 5فیصد میں کسی بین الاقوامی موضوع کو باریابی دے دی جاتی ہے۔ یہ روش برصغیر کے پاپولر پرنٹ میڈیا میں عام ہے۔ بعض اوقات سوچتا ہوں کہ کیا برصغیر کے باسیوں کا خمیر جگالیوں اور اعادوں کا ایک تو بڑا ہے!

اگر آپ ملٹری ہسٹری کے طالب علم ہیں تو جانتے ہوں گے کہ تقسیم سے پہلے کے متحدہ ہندوسدتان میں ان جگالیوں اور اعادوں کی رسم عام تھی۔ قدیم ہندوستان میں موریہ، گپت، ہرش اور راجپوتوں کا دور زمانہ قبل از مسیح سے چل کر 1200ء عیسوی تک آتا ہے۔ اس دور میں کسی ہندو مہاراجہ، راجہ اور حکمران نے اپنی ’دھرتی‘ سے باہر قدم نہ رکھا۔ یہ لوگ سورما اور بہادر تھے تو یہ بہادری بزعمِ خود تھی۔ اسے ایک مقامی بہادری کہاجا سکتا ہے۔ صدیوں تک یہ ہندو خاندان آپس میں ہی دست و گریبان رہے۔ لڑائیوں میں کشتوں کے پشتے لگا دیتے تھے اور گھمسان کے رن انہی ہندوستانی حکمرانوں کے اردگرد گھومتے رہتے تھے۔ تاہم مجال ہے کہ کسی ہندوستانی سورما نے ہندوستان کی سرحد پار کرکے کسی پڑوسی ملک پر حملہ کیا ہو…… ان ہندوؤں کی سرشت میں دفاع تھا، حملہ نہیں …… برصغیر کے باسیوں میں یہی دفاعی سرشت ہمیں زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

یہ تو مسلمان حملہ آور تھے جنہوں نے ہندوستان پر مغرب اور شمال کی طرف سے حملے کئے۔ محمد بن قاسم نے (711ء میں) اور محمود غزنوی نے (997ء میں) بلوچستان اور سندھ اور پھر تمام ہندوستان پر ترک تازیاں کیں …… 711ء سے لے کر 1707ء تک (عالمگیر کی وفات) کا ایک ہزار سالہ دور مسلم حکمرانوں کا زریں دور کہلاتا ہے۔ بعد میں افرنگی آ گئے جنہوں نے دو صد سالہ حکمرانی کے بعد از خود 1947ء میں ہندوستان کا تخت و تاج ہندوؤں اور مسلمانوں کے حوالے کیا اور پھر جہاں سے آئے تھے وہیں چلے گئے۔ ہم نے سمجھا کہ ہم نے ان کو ’شکست‘ دے کر اپنے دیس سے نکالا ہے…… کاش ایسا ہوتا!

مسلم حکمرانوں کا ایک ہزار سالہ دورِ حکومت بھی ایک طرح سے ’مقامی‘ تھا۔ کسی مسلم سلطان، نواب، بادشاہ یا شہنشاہ نے ہندوستان پر قبضہ کر لینے کے بعد اپنے لشکر کو کسی بیرونی ملک (برما، چین، ایران، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، سری لنکا وغیرہ) پر حملوں کے لئے استعمال نہ کیا۔ یہ ’سعادت‘ اہلِ فرنگ کے حصے میں آئی۔ انہوں نے ہندوستانی فوج کو برما، چین، افریقہ اور یورپ کے محاذوں پر لے جا کر لڑایا اور انہیں شکست و فتح کی ذلتوں اور لذتوں سے آشنا کیا۔ بعد میں اگست 1947ء کے بعد ہمیں جو ’آزادی‘ ملی، اس میں ہندو مسلم اقوام نے اسی ’تجربے‘ کو دہرایا۔ 1947-48ء،1965ء، 1971ء اور 1991ء کی جنگوں کی تاریخ اسی تجربے کی عکاس ہے۔ لیکن میں قارئین کرام کو ایک بار پھر اس طرف لے جاؤں گا کہ ان دونوں ’نو آزاد‘ اقوام نے گزشتہ 75برسوں میں برصغیر پاک و ہند کی ’چار دیواری‘ سے باہر نکل کر نہیں دیکھا…… یعنی جگالیوں اور اعادوں کی وہی نفسیات جو برصغیر کے باسیوں کے خون میں تھی اس کا مظاہرہ ہوتا رہا…… اور آج تک ہو رہا ہے۔ انڈیا ہو کہ پاکستان ہم اپنی اپنی گپھا میں گم ہیں، لحاف اوڑھ کر سو رہے ہیں اور اٹھ کر نہیں دیکھتے کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ یہی وتیرہ اور یہی چلن ہمارے میڈیا کا بھی ہے جس کی طرف میں نے کالم کے آغاز میں اشارا کیا تھا۔ ہم اپنے ’اندر‘ کی خبروں کو زینتِ قرطاس بنا کر خوش ہو جاتے ہیں اور ’پا لیا، پا لیا‘ کی گردان کرتے نہیں تھکتے۔ باہر نکل کر نہیں دیکھتے کہ اُس دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ ہمارا کوئی اخبار، کوئی میگزین، کوئی چینل اس ’داخلی حصار‘ سے باہر نہیں نکلتا۔ لیکن جب تک باہر نہیں نکلیں گے، اندرون بینی کا شکار رہیں گے اور بیرونِ در جو کچھ ہو رہا ہے اس سے لاتعلق رہیں گے۔ بیرونِ در سے یہ لاتعلقی ہمیں صدیوں سے بے حد مہنگی پڑ رہی ہے۔ حضرت اقبال نے اسی طرف اشارہ کیا تھا:

دلوں میں ولولے آفاق گہری کے نہیں اٹھتے

نہ ہوں پیدا نظر میں جب تلک انداز، افلاکی

دوسری قوموں کو دیکھتا ہوں تو ان پر رشک آتا ہے۔ برطانیہ، سپین، پرتگال، فرانس، جرمنی، روس، ڈنمارک، اٹلی، ترکی اور یونان نے اپنے اپنے ملک کی سرحدوں سے باہر نکل کر کیا کیا کارنامے سرانجام نہ دیئے۔ جزیرہ نمائے عرب سے مسلمان اٹھے اور آٹھ صدیوں تک مشرق و مغرب کے ایوانوں کو روشن کیا۔ لیکن یہی مسلمان جب ہندوستان میں آئے تو بس یہیں کے ہو رہے۔ امریکیوں کو دیکھیں۔ وہ شمالی اور وسطی یورپ سے اٹھے اور ایک نئی دنیا آباد کی۔ اس دنیا کی دریافت 1492ء میں اگرچہ کولمبس نے کی جو اٹلی میں پیدا ہوا اور سپین میں پرورش پائی لیکن اس نے جو امریکہ دریافت کیا اس کو آباد کرنے والوں اور موجودہ مقام تک پہنچانے والوں میں اطالوی اور ہسپانوی باشندے نہیں بلکہ یورپی باشندوں کی اکثریت تھی۔ یہ حقیقت بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ سپین اور پرتگال کے باشندوں نے جنوبی امریکہ کو بھی آباد کیا۔ یہ براعظم رقبے اور آبادی وغیرہ میں شمال امریکہ سے کم نہیں لیکن کہاں شمالی امریکہ (USA) اور کہاں ساؤتھ امریکہ!…… واسکوڈے گاما بھی پرتگال ہی کا ایک سمندری ملاح تھا جس نے ہندوستان کا بحری راستہ دریافت کیا…… آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کن چکروں میں پڑ گیا ہوں!…… میں دراصل یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوں (اور کرتا رہا ہوں) کہ کون سی قوم اور کون سا ملک کن اوصافِ زمینی و انسانی سے منصف ہوتا ہے کہ اس سے وہ لوگ پیدا ہو جاتے ہیں جو ایجادات و اختراعات سے اپنی جنم بھومی کو مالامال کر دیتے ہیں اور ہمارا پاکستان ان اوصاف سے عاری کیوں ہے اور ہم پاکستانی آج کیا کریں کہ ہمارے ماتھے سے وہ داغِ تقلید دُھل جائے جو صدیوں سے لگا چلا آ رہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ ہم نے کوئی نیا ملک دریافت / فتح نہیں کیا، کسی نئی ایجاد کے موجد نہیں کہلائے اور کسی ایسی اختراعی خوبی سے بہرہ ور نہیں ہو سکے جو دوسری قوموں کی برادری میں ہمیں سرفراز کرتی!

یہ درست ہے کہ مسلم امہ کا ماضی بہت تابناک ہے۔ لیکن یہ تابناکی ایک خاص نقطے پر آکر اگر رک گئی تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟ عربوں کے بعد ترکوں اور مغلوں نے اس رسمِ پیشرفت کو زندہ رکھا لیکن آج وہ عرب، ترک اور مغل کہاں ہیں؟ یہی سوال حضرت اقبال کے ذہن میں بھی آیا تھا۔ انہوں نے اپنے کابل کے سفر میں بابر کے مزار پر جو حاضری دی تھی اور ایک مختصر سی نظم کہی تھی اس کا ایک شعر یہ بھی تھا جو بابر سے مخاطب ہو کر کہا گیا:

درفشِ ملتِ عثمانیہ دوبارہ بلند

چہ گوئمت کہ باتیموریاں چہ افتاد است

(عثمانی ترکوں کا پرچم تو دوبارہ بلند ہو گیا ہے لیکن میں آپ سے کیا کہوں کہ تیموریوں پر کیا افتاد پڑی کہ وہ گر کر دوبارہ نہ اٹھ سکے)

بابر، امیر تیمور کی نسل سے تھا اور تیمور دنیا کے ان چند سرکردہ سپہ سالاروں میں شمار ہوتا ہے جن کی نظیر کم کم ملتی ہے!

مزید :

رائے -کالم -